سوال و جواب
اپنا سوال پوچھیںنماز میں شہادت ثالثہ کا حکم
تاریخ 16 February 2026 & ٹائم 18:14
نماز میں شہادت ثالثہ کےپڑھنے کا کیا حکم ہے؟
نماز کے علاوہ شہادت ثالثہ یا دوسرے الفاظ میں امیر المومنین (ع) کی ولایت کی گواہی کے بارے میں روایات میں تاکید ہوئی ہے ۔
لیکن نماز میں اگر یہ اذان اوراقامہ میں ہوتوقصد قربت کی نیت سے اچھا ہے ایسا پڑھا جائے ، یعنی اگرچہ یہ اذان اور اقامہ کا جزء نہیں ہے لیکن اگر قصد قربت کے عنوان سے اسے پڑھے تو اچھا کام کیا ہے اگرچہ اذان اور اقامہ میں اس کا مستحب ہونا حضرت آیت اللہ العظمی فاضل لنکرانی کے ثابت نہیں ہوا ہے
لیکن تشہد میں ،تو بہتر یہی ہے کہ تشہد کو اسی طرح پڑھا جائے جس طرح توضیح المسائل میں لکھا ہوا ہے اور نماز میں تشہد ثلاثہ کو نہیں پڑھنا چاہئے ۔تشہد میں '' الحمد للہ ''کا حکم
تاریخ 16 February 2026 & ٹائم 18:14
نماز کی تشہد میں '' الحمد للہ ''کہے بغیر '' بسم اللہ و باللہ'' کہنے کا کیا حکم ہے ؟ یعنی تشہد کو یوں پڑھ سکتا ہوں :'' بسم اللہ و باللہ و خیر الآسماء للہ اشہد ان ۔۔۔'' اور '' الحمد للہ'' کو نہ پڑھو؟
صحیح ہے اور ا س میں کوئی اشکال نہیں ہے ،اور '' الحمد للہ '' پڑھنا مستحب ہے البتہ اگر مستحب پر عمل کرنا چاہئے تو اس طرح پڑھے: ''بسم اللہ و باللہ و الحمد للہ و خیر الآسماء للہ ''