سوال و جواب

اپنا سوال پوچھیں
عزاداری اور مصائب پر صبر
تاریخ 16 February 2026 & ٹائم 18:13

1- کیا اہل بیت عصمت و طہارت علیہم السلام کے لئے عزاداری کرنا قرآن کریم کے صبر کرنے پر نص صریح اور مصائب پر صبر کرنے کے حکم کے بارے میں بیشمار روایات سے متضاد نہیں ہے ؟
2- مصائب پر صبر کرنے کے بارے میں موجود آیات اور صحیح روایات اور عزاداری کے درمیان جمع کیسے ممکن ہے ؟
3- اگر جواب میں یہ کہا جائے کہ مصیبت اہل بیت (علیہم السلام) اس صبر کے حکم سے مستثنی ہے ، تو اس کی دلیل کیا ہے ؟

مصائب پر صبر کے حکم کے بارے میں آیات اور روایات :

وَبَشِّرِ الصَّابِرِينَ الَّذِينَ إِذَا أَصَابَتْهُم مُّصِيبَةٌ قَالُواْ إِنَّا لِلّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعونَ ﴿سورہ بقرہ : آیات / 155،156﴾
والصبر على ثلاثة أقسام: صبر على الطاعة، وصبرعن المعصية، وصبر على المصيبة.
وقال علي عليه السلام: الصبر مطية لا تكبوا بصاحبها.
والصبر على المصيبة مصيبة للشامت، ولا شك انّ الصابر محرز أجرها، ويكبت عدوّه بصبره، ويسلم من ضرر الجزع بشق ثوب أو ألم في بدنه، والجازع يدخل عليه بجزعه ثلاث آفات: يحبط أجره، ويشمت عدوّه، ويدخل الضرر على نفسه بما يلحقه من الألم، وصبر الصابر مصيبة للشامت.وينبغي للعاقل أن تحدث له المصيبة موعظة، لأنّ من الجائز أن يكون موضع المفقود، فهو أحق بالحمد لله والثناء عليه، ويحدث في نفسه الاستعداد بمثل ما نزل بغيره من موت أو بلية يستدفعها بالدعاء.
وقال أمير المؤمنين عليه السلام: الصبر من الايمان بمنزلة الرأس من الجسد، ولا ايمان لمن لا صبرله)إرشاد القلوب ؛مولف:الحسن بن أبي الحسن محمد الدّيلمي ج1ص250(
١٢ ـ  عن محمدبن يحيى ، عن أحمد بن محمد بن عيسى قال : أخبرني يحيى ابن سليم الطائفي قال : أخبرني عمروبن شمر اليماني يرفع الحديث إلى علي قال : قال رسول الله : الصبرثلاثة : صبر على المصيبة ، وصبر على الطاعة وصبر على المعصية ، فمن صبر على المصيبة حتى يردها بحسن عزائها كتب الله له ثلاثمائة درجة ما بين الدرجة إلى الدرجة كمابين السماء إلى الارض ، ومنصبر على الطاعة كتب الله له ستمائة درجة ما بين الدرجة إلى الدرجة كما بين تخوم الارض إلى العرش ، ومن صبر على المعصية كتب الله له تسعمائة درجة مابين الدرجة إلى الدرجة كما بين تخوم الارض إلى منتهى العرش ).
بحار الأنوار العلامة المجلسي ج71 ص77(
وقال أمير المؤمنين : أيها الناس عليكم بالصبر فانه لادين لمن لاصبر له.
وقال: إنك إن صبرت جرت عليك المقادير ، وأنت مأجور،وإنك إن جزعت جرت عليك المقادير وأنت مأزور.
عن أبي عبدالله قال : الصبر رأس الايمان.
عنه قال : الصبر من الايمان بمنزلة الرأس من الجسد ، فاذا ذهب الرأس ذهب الجسد كذلك إذا ذهب الصبر ذهب الايمان.(بحار الأنوار ، العلامة المجلسي ج71 ص92(
٥٦ ـ محص : عن ربعي ، عن أبي عبدالله قال : إن الصبر والبلاء يستبقان إلى المؤمن فيأتيه البلاء ، وهو صبور ، وإن الجزع والبلاء يستبقان إلى الكافر فيأتيه البلاء وهو جزوع.)بحار الأنوار مولف: العلامة المجلسي ج71 ص95(
وقال قال أبو الحسن الثالث المصيبة للصابر واحدة وللجازع اثنتان.
(بحار الأنوار نویسنده العلامة المجلسي ج82ص88)

بسمه تعالی

سلام علیکم

 ان تمام آیات اور روایات میں غور و فکر کرنے اور روایات میں صبر کے حقیقی معنی پر توجہ کرنے سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ امام حسین اور اہل بیت علیہم السلام  کے مصائب پر عزاداری کرنا نہ صرف صبر کے ساتھ منافات نہیں رکھتا ہے بلکہ یہ عین صبر اور استقامت ہے ۔

وضاحت :صبر بہت بڑے مقامات میں سے ہونے میں کوئی شک نہیں ہے ، قرآن کریم کی آیات اور معصومین علیہم السلام سے منقول روایات میں صبر اور استقامت کے بارے میں بہت زیادہ تاکید ہونے کے بارے میں کوئی شک نہیں  ہے ، لیکن آیات اور روایات میں جس صبر کے بارے میں سفارش ہوا ہے وہ صرف مصائب پر صبر نہیں ہے ، بلکہ زندگی کے تمام مراحل میں چاہئے وہ انسان کی فردی زندگی ہو یا اجتماعی زندگی صبر کرنے کی تاکید ہوئی ہے ، کہ انسان خوشحالی اور مصیبت میں ، جنگ اور صلح ، مشکلات اور آسايش تمام حالات میں صبور رہے ، اور خداوند متعالی بھی صبر کے مقابلہ میں بے پناہ اجر اور بے حساب بدلہ عطا کرتا ہے ، «انما یوفی الصابرون اجرهم بغیر حساب» .

 صبر کے موارد اسی روایت میں جو پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے منقول ہے بیان ہوا ہے کہ فرمایا: «الصبر ثلاثه صبر عند المصیبة و صبر علی الطاعتة و صبر عن المعصیة» صبر  کی تین قسمیں ہیں ؛ 1- مصائب پر صبر، 2- بندگی اور اطاعت خداوندی پر صبر ، 3- نفسانی خواہشات اور گناہ سے  بچے رہنے پر صبر کرنا .

 دوسری طرف سے بہت ساری ایسی بھی روایات ہیں کہ جن میں امام حسین علیہ السلام کی مصیبت پر گریہ کرنے ، ضجہ کرنے ، نالہ کرنے کا بتایا ہے ، اور اس عزاداری پر خداوند متعالی بہت زیادہ ثواب اور پاداش عنایت  کرے گا ۔

 روایات کے  ان دونوں قسموں کے پیش نظر ، یہ دیکھنا ہو گا کہ آیات اور روایات میں صبر سے مراد کیا ہے ؟ اور بی صبری سے مراد کیا ہے ؟

 صبر کے بارے میں موجود آیات اور روایات میں غور و فکر کرنے سے یہ مطلب واضح ہوتا ہے کہ بے صبری کرنے سے مراد آنسو بہانا ، رونا اور عزاداری کرنا نہیں ہے ، ، اور صرف چيخ و پکار کرنا بھی بے صبری نہیں ہے ، بلکہ بے صبری سے مراد مصیبت کے موقع پر  چیخ وپکار کرنا اور غلط باتیں کرنا اور قضا ء وقدر الہی پر نارضیایتی کا اظہار کرنا ہے ، جیسا کہ پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے آنکھوں سے  بیٹے ابراہیم کی مصیبت پر ، آنسو جاری تھے فرمایا:  «و انّا بک لمحزونون، تبکی العین و یدمع القلب و لا نقول، یسخط الرب عز‌ّو‌جل» میرا بیٹا! ہم تمہارے جدائی پر غمناک ہیں ، آنکھیں رو رہی ہیں ، دل جلتا ہے لیکن ایسی کوئي چیز زبان پر جاری نہیں کرتے  ہیں جو خدا وند متعال کے نارضایتی کا سبب ہو ، دوسری روایات میں یوں ذکر ہوا ہے : «یحزن القلب ، و تدمع العین، ولانقول ما یسخط الرب و انّا علی ابراهیم لممحزونون» ابراہیم کو قبرستان بقیع میں دفن کرنے کے بعد ، اس بچہ پر آپ(ص) اتنا روئے کہ آنسو محاسن مبارک پر جاری ہو گئے ، لوگوں نے اعتراض کیا : اے رسول اللہ (ص) آپ دوسروں کو رونے سے منع کرتے تھے ابھی آپ (ص) خود رو رہے  ہو ؟ آنخصرت (ص) نے فرمایا : «لا لیس هذا بکاء غضب انما هذا رحمة و من لایرحم لایرحم»یہ غصہ اور نارضایتی کا گریہ نہیں ہے ، بلکہ گریہ رحمت اور عطوفت ہے ،  جو بھی رحم نہ کرے ،وہ مورد رحمت واقع نہیں ہوتا ۔

 اس روایت سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ گریہ کرنا اور عزاداری کرنا اس وقت صبر کے برخلاف ہے جب  وہ اپنے گریہ وزاری میں قضای الہی پر نارضایتی کا اظہار کرے ، ورنہ صرف گریہ کرنا تو کوئی مشکل نہیں ہے ، مصیبت پر گریہ  اور عزاداری کرنا  رحمت اور قلب انسان کی رقت اور نرم دلی کی علامت ہے ۔

 اسی وجہ سے روایات میں عام مصائب  اور معمولی افراد کے لئے  عزاداری کے مجالس برگزار کرنے کی تاکید ہوئی ہے ، اور مستحب ہے کہ مصیبت دیکھنے والوں کی دلداری اور تسلیت دینے کے لئے اور انہیں صبر کی تلقین کرنے کے لئے ایسی مجالس میں شرکت کرے ، اور ایسی مجالس عام مسلمانوں کے ہاں رائج ہے ، اور  فاتحہ خوانی کی یہ مجالس  مصیبت پڑنے والوں کے ارادہ اور ایمان کی تقویت اور ان کی احساسات اور عواطف کے احترام میں برگزار ہوتی ہے ، اور اسلام میں بھی اس  کا حکم ہوا ہے ، کہ ایک مسلمان کے مرنے کے بعد دوسرے تمام مسلمانان جمع ہو کر لواحقین کو تسلیت اور تعزیت عرض کرے اور ان مجالس میں مرنے والوں کے لئے خداوند متعال کی درگاہ سے عفو و بخشش کا تقاضا کرے اور قرآن کریم کی تلاوت کرے اور لواحقین صبر و شکیبائی کرنے بتائے ، اس بارے میں بہت ساری روایات نقل ہوئی ہیں ، انہیں میں سے ایک روایت امام صادق (علیہ السلام) کی یہ روایت ہے جسے پیغمبر اکرم (ص) سے نقل فرمایا ہے : «من عزّی مصاباً کان له مثل اجره من غیر ان ینتقص من اخر المصاب شیئ»جو شخص کسی مصیبت پڑنے والے شخص کی تعزیت کے لئے جائے ، اس اتنا اجر ملے گا جتنا مصیبت پر صبر کرنے والے کو ملتا ہے ، اور صاحب مصیبت انسان سے بھی کوئی کم نہیں ہو گا ۔

عزاداری کی ایک قسم بھی ہے جو اس عام عزاداری سے کچھ بلند مرتبہ والا ہے ، یہ عزاداری  خصوصی طور پر بڑی ہستیوں یعنی پیغمبروں اور ان کے اوصیاء ، خاص کر پیغمبر اکرم (ص) اور آپ کی اہلبیت (ع) کے لئے ہے۔

عزاداری کی کیفیت اس مصیبت کے کم یا زیادہ ہونے لئے لحاظ سے مختلف ہوتا ہے ، مثلا ایک عام انسان کی مصیبت اور ایک شہید کی مصیبت میں فرق ہوتا ہے ۔

امام حسین (علیہ السلام) کی مصیبت بہت بڑی مصیبت ہے ، کہ رحلت پیغمبر اکرم (ص) کے بعد خاندان اہل بیت پر آئی ، بلکہ وہ عظیم ترین مصیبت ہے جو اسلام پر وارد ہوئی ہے ۔

اس مصیبت کو فراموش نہ ہونے کے لئے ، امام حسین (ع) کے  وہ اسلامی انقلاب تاریخ سے محو نہ ہو نے اور بنی اور یزدیوں کی جنایت فراموش  نہ ہونے کے لئے آئمہ معصومین (علیہم السلام) نے خداوند متعال کی قضا و قدر پر رضایت مندی کے ہمراہ  عزاداری برگزار کرنے کی تاکید اور سفارش کی ہے ۔

 لہذا یہ عزاداری جو شیعیان ہر سال برگزار کرتے ہیں ، اور اپنے وقت ، آسايش اور اموا ل کو دے دیتے ہیں تا کہ امام حسین علیہ السلام کی عزاداری کے مجالس برقرار رہے ، یہ مجالس عزاداری نہ صرف صبر کے منافی نہیں ہے بلکہ عین صبر اور استقامت ہے۔

۲,۶۸۵ قارئين کی تعداد:

عدالت خداوندی اور انسانوں کی آزمائش اور آسایش
تاریخ 16 February 2026 & ٹائم 18:13

عرصہ سے میرے ذہن میں ایک سوال کھٹک رہا ہے ، کہ خدا کیسے عادل ہے در حالیکہ ایک شخص کسی ایسے گھرانے میں بڑا ہوتا ہے جس کا باپ زنا کار ہے ، اور ایک شخص ایک بہت ہی اچھے گھرانے میں بڑا ہوتا ہے؟حقیقت یہ ہے کہ میرا ایک دوست ہے اسے روحی لحاظ سے بہت مایوسی ہوئی ہے ، وہ عشق میں ناکام ہوا ہے ،میرا دوست ایک بہت ہی اچھی اور مذہبی لڑکی ہے ، وہ ایک ایسے گھرانے میں پلی بڑھی ہے کہ اس کا باپ زناکار ہے ،اس کے بھائی نے بیوی کو طلاق دی ہے ، اس کی بہن کو اس کا شوہر مارتا رہتا ہے اور بہت تنگ کرتاہے ، اور خود اس سے بڑی ایک بہن ہے جس کی عمر 27 سال ہے اور ابھی تک شادی نہیں ہوئی ہے ، اس کے بہت سارے منگیتر ہے لیکن جب خاندان کے بارے میں تحقیقات کرتے ہیں تو اس کی باپ کے کرتوت کو دیکھ کر سب چلے جاتے ہیں ،میرا دوست جب ان سب چیزوں کو دیکھتی ہے تو کہتی ہے کہ خدا عادل نہیں ہے ،خدا نے ہمیں يوں ہی چھوڑ دیا ہے ،اسی طرح کی دوسری باتیں ،اس کی حالت بہت بری ہے ، اسے جتنا بھی بولیں کہ یہ سب خداکے امتحانات ہیں، قبول نہیں کرتی ، خلاصہ کلام یہ ہے کہ وہ خدا پر شک کرتی ہے ، بہت ہی غمگین ہے اور کہتی ہے کہ مجھے خدا سے کوئی امید نہیں ہے ، میرا مستقبل تاریک ہے ، میں بڑے بڑے گناہ کو انجام دے چکی ہوں اور وہ خدا سے ناامید ہونا ہے ،آپ کے خیال میں ، میں اس کی کیسے راہنمائی کروں؟میں اسے کیا بتاوں کہ خدا کی عدالت کیا ہے کہ اس کے لئے یہ پریشانیاں پیش آئی ہے؟اس کا یہ اعتقاد ہے کہ اس کے باپ کا نتیجہ ابھی ان کو مل رہا ہے ، وہ کہتی ہے کہ ہمیں اپنے باپ کےکاموں کے نتیجہ کو تحمل کرنا پڑ رہا ہے ،خدا بہت ہی بے عدالت ہے ۔۔۔۔۔ میں اسے کیسے سمجھاوں؟

جواب : کسی کا گناہکار ہونا اور اس گھر میں کسی بچہ کی پیدایش خداوند متعال کی عدالت سے کوئی ربط نہیں رکھتا ہے ، خداوند متعالی نے  اپنے تمام بندوں کو اچھے اور برے دونوں راستے کو دیکھا دیا ہے اور انسانوں کی راہنمائی کے لئے پیغمبروں کو بھیجا ہے اور پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے بعد ان کے بر حق جانشینوں  اور زمان غیبت میں مراجع عظام اور علماء معصومین علیہم السلام  کی پیروی کرتے ہوئے اچھے اور برے کو لوگوں کے لئے بیان کرتے ہیں ، اس کے علاوہ خود خدا نے بھی انسان کے اندر عقل کو قرار دیا ہے کہ جس کی مدد سے انسان اچھے اور برے کی خود تمیز کر سکتا ہے ، اور خداوند متعال نے بشر کی ہدایت کے لئے کوئی کمی نہیں چھوڑی ہے  ، اب اگر کوئی انسان ان تمام ہدایت اور سعادت کے راستوں کو چھوڑ دیں اور روشن اور مستقیم راستہ سے بھٹک جائے اور انحراف اور گمراہی کی طرف چلا جائے ،تاریکی اور اپنی ہلاکت کی طرف چلا جائے تو ایسے گھرانہ میں کوئی بچہ پیدا ہوجائے تو یہ خدا کے عدالت سے کوئی ربط نہیں رکھتا ہے ؟خداوند متعال نے ہدایت کے اسباب کو سب کے  اختیار میں قرار دیا ہے ، اب ایک انسان اس سے استفادہ کرتا ہے اور خود کو اپنی فطرت کی راہ پر قرار دیتا ہے ، اور ایک نفر گمراہی پر چلا جاتا ہے ،ہر کوئی اپنی اختیار سے جسے خدا نے اسے قرار دیا ہے چلتاہے ، ضمنا اس طرح کے گھرانوں میں جو بچہ پیدا ہوتا ہے وہ اپنی سرنوشت کو خود بدل سکتا ہے اور پاکیزہ گی اور سعادت کی طرف آسکتاہے ۔

بہر حال اس بہن کے مشکل کے بارے میں آپ کو جو ہم بتا سکتے ہیں وہ یہ ہے کہ :

دنیا میں صرف یہ نہیں ہے جو مشکلات میں ہو ، بلکہ اس دنیا میں ہر کوئی اپنے حساب سے مشکل اور پریشانی میں مبتلاء ہیں ، ان پریشانیوں کی وجہ کیا ہے ؟ قرآن کریم کی آيات اور اہل بیت عصمت علیہم السلام کی روایات کے مطابق مومنین کے لئے جو پریشانیاں آتی ہے وہ یا خود ان کے جہالت اور اس کام کے عواقب سے بے خبری کی وجہ سے ہے ، یا یہ خدا کا امتحان ہے ، یا اس کے معنوی درجات کو اوپر لے جانے کے لئے ہے ،ان میں سے ہر ایک کی مختصر تشریح یہ ہے :

الف:کبھی انسان کچھ خطا اور غلط کاموں کا مرتکب ہوتا ہے جس کے نتیجہ میں دنیا کی زندگی میں اسے پریشانیاں پیدا ہوتی ہے ، ہر گناہ کے اپنے خاص اثر اور  نتائج ہے ، کچھ گناہوں کی وجہ سے انسان فقیر ہوتا ہے ، اسی طرح  دوسرے گناہوں کے اپنے اپنے خاص برے نتائج ہیں ، جیسا کہ امام علی علیہ السلام دعا کمیل میں فرماتا ہے :«اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِيَ الذُّنُوبَ الَّتِي تَهْتِكُ الْعِصَمَ اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِيَ الذُّنُوبَ الَّتِي تُنْزِلُ النِّقَمَ اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِيَ الذُّنُوبَ الَّتِي تُغَيِّرُ النِّعَمِ اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِيَ الذُّنُوبَ الَّتِي تَحْبِسُ الدُّعَاءَ اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِيَ الذُّنُوبَ الَّتِي تُنْزِلُ الْبَلَاءَ‏»؛خدایا میرے گناہوں کو بخش دے جو ناموس کو بٹہ لگادیتے ہیں۔ان گناہوں کو بخش دے جو نزول عذاب کا باعث ہوتے ہیں۔ ا ن گناہوں کو بخش دے جو نعمتوں کو متغیر کر دیا کرتےہیں ۔ان گناہوں کو بخش دے جو دعاوٴں کو تیری بارگاہ تک پھنچنے سے روک دیتے ہیں ان گناہوں کو بخش دے جو امیدوں کو منقطع کر دیتے ہیں۔ان گناہوں کو بخش دے جو نزول بلاء کا سبب ہوتے ہیں۔اور یہ سب پریشانیاں بھی اس لئے ہے تا کہ اس کے گناہوں کا کیفر ہو ، چونکہ خداوند متعال اپنے مومن بندہ کو پسندکرتا ہے تو بعض گناہوں کے سلسلے میں اسے گرفتار کرتا ہے تا کہ اس کے گناہ کا سزا اسے اسی دنیا میں ملے ،اور آخرت میں  اس کا بوجھ کم ہو ، اور یہ خود خدا کا اپنے مومن بندہ کے لئے لطف اور رحمت ہے ، لیکن جو شخص مورد غضب قرار پاتا ہے وہ اکثر و بیشتر کسی مصیبت میں مبتلاء ہونے کے بجائے اس کی نعمت کو زیادہ کیا جاتا ہے تا کہ آخرت میں اسے دردناک عذاب میں مبتلاء کرے ۔

ب۔  کچھ پریشانی کبھی خدا کی طرف سے امتحان اور آزمائش کے لئے ہے،خدا کے ثابت قوانین میں سے ایک یہ ہے کہ مومنین کو آزمائش میں ڈال دیتے ہیں ، جیسا کہ قرآن کریم کی بہت ساری آیات میں اس مسئلہ کی طرف اشارہ فرمایا ہے ، نمونہ کے طور پر سورہ آل عمران کی آیت 186 ملاحظہ فرمائيں:«لَتُبْلَوُنَّ في‏ أَمْوالِكُمْ وَ أَنْفُسِكُمْ وَ لَتَسْمَعُنَّ مِنَ الَّذينَ أُوتُوا الْكِتابَ مِنْ قَبْلِكُمْ وَ مِنَ الَّذينَ أَشْرَكُوا أَذىً كَثيراً وَ إِنْ تَصْبِرُوا وَ تَتَّقُوا فَإِنَّ ذلِكَ مِنْ عَزْمِ الْأُمُورِ»؛"یقیناً تم اپنے اموال اور نفوس کے ذریعہ آزمائے جاؤ گے اور جن کو تم سے پہلے کتاب دی گئی ہے اور جو مشرک ہو گئے ہیں سب کی طرف سے بہت اذیت ناک باتیں سنو گے – اب اگر تم صبر کرو گے اور تقویٰ اختیار کرو گے تو یہی امور میں استحکام کا سبب ہے"۔سورہ بقرہ آیت 155 میں فرماتا ہے:«و لَنَبْلُوَنَّكُمْ بِشَيْ‏ءٍ مِنَ الْخَوْفِ وَ الْجُوعِ وَنَقْصٍ مِنَ الاَمْوالِ وَالأَْنْفُسِ وَ الثَّمَراتِ وَ بَشِّرِ الصَّابِرِينَ»؛"اور ہم یقیناً تمہیں تھوڑے خوف تھوڑی بھوک اور اموال و نفوس اور ثمرات کی کمی سے آزمائیں گے اور اے پیغمبر آپ ان صبر کرنے والوں کو بشارت دے دیں"۔سورہ عنکبوت آیت 2 اور 3میں فرماتا ہے :«أحسب الناس أن يتركوا أن يقولوا آمنا و هم لا يفتنون»۔کیا لوگوں نے یہ خیال کر رکھا ہےکہ و ہ صرف اتنا کہنے سے چھوڑ دے جائيں گے کہ ہم ایمان لائے اور یہ کہ وہ آزمائے نہیں جائیں گے ، اور بتحقیق ہم ان سے پہلوں کو بھی آزماچکے ہیں کیونکہ اللہ کو بہر حال یہ واضح کرنا ہے کہ کون سچے ہیں اور یہ بھی ضرور واضح کرنا ہے کہ کون جھوٹے ہیں "۔پس یقینا خدا وند متعال مسلمانوں کو بھی آزمائے گا،اور اس وقت معلوم ہو گا کہ کون سچے ایماندار ہیں اور کون جھوٹا ایمان کا دعویدار ہے ، البتہ خدا کے آزمائش کا کوئی خاص چارچوب نہیں ہے بلکہ ہر کسی کا اس کے روحی حالات کے مطابق آزمائش میں ڈالا جاتا ہے اور اس کا امتحان ہوتا ہے ، لہذا ایک اور آیت میں فرماتا ہے :«وَنَبْلُوكُمْ بِالشَّرِّ وَ الْخَيْرِ فِتْنَةً وَ إِلَيْنا تُرْجَعُونَ»(انبياء: 35)، اور ہم امتحان کے طور پر برائی اور بھلائی کے ذریعے تمہیں مبتلا کرتے ہیں اور تم پلٹ کر ہماری ہی طرف آو گے"۔

خداکے امتحان اور آزمائش کی حکمت کیا ہے ؟ اگرچہ خداوند متعال تمام کاموں سے آگاہ ہے، لہذا بندوں سے جو امتحان لیا جاتا ہے وہ ان چیزوں کے بارے میں جہالت کو ختم کرنے کے لئے نہیں ہے ، لیکن خالص مومنوں کے شایستگی اور لیاقت کو ظاہر کرکے دوسروں کو دیکھانے  اور ان کے اندورنی استعداد کو ظاہر کرنے کے لئے ان کا امتحان لیا جاتا ہے ۔

مومن انسان کو خالص کرنا اور اس کے ایمان کا جوہرہ آشکار ہونا خدا کے امتحان اور آزمائش کے حکمتوں میں سے ایک ہے ۔جس طرح سنہار سونے کو آگ میں ڈال دیتا ہے تا کہ اس کے کچرے آگ میں ختم ہو جائے اور خالص سونا مل جائے ، خداوند متعال بھی مومن انسانوں کو غم و اندوہ اور گرفتاریوں میں ڈال کر اس کے ایمان کو خالص کرا لیتا ہے ، اسی طرح سچے مومن اور صرف  مومن ہونے کے دعویدار انسانوں کو الگ الگ کرنا بھی خدا کے امتحان اور آزمائش کی حکمتوں میں سے ایک ہے ، جیسا کہ حضرت  علی                          فرماتے ہیں :«لَا بُدَّ لِلنَّاسِ مِنْ أَنْ يُمَحَّصُوا وَ يُمَيَّزُوا وَ يُغَرْبَلُوا وَ يُسْتَخْرَجُ فِي الْغِرْبَالِ خَلْق»؛، "لوگ خالص ہونا چاہئے اور ان کا امتحان ہونا چاہئے اور اچھے اور برے الگ ہونا چاہئے " لہذا مومنین ان کے ایمان کے مرتبہ اور روحی حالت کے مطابق خدا کے سخت امتحانات واقع ہوتا ہے اور کوئی یہ نہ سوچے کہ ایمان کا راستہ ہمیشہ سرسبز باغوں سے گزرتا ہے اور با ایمان افراد اس طولانی سفر میں صرف پھولوں کے پتوں پر قدم رکھتے ہیں یہ فکر اور سوچ ایمان اور دین کی ماہیت سے بے خبری کی علامت ہے ، شاید یہی سوچ اور فکر تھی کہ مکہ میں بعض مسلمانوں کے افکار میں رخنہ ڈالا تھا کہ ہم کب تک خدا واحد پر ایمان رکھنے کے جرم میں ظلم و ستم میں پستے رہیں ؟خداوند متعال نے ان کے ذہنوں سے اس فکر کو ختم کرنے کے لئے ذیل کی ان آیات کو نازل فرمایا:«أَ حَسِبَ النَّاسُ أَنْ يُتْرَكُوا أَنْ يَقُولُوا آمَنَّا وَ هُمْ لا يُفْتَنُونَ وَ لَقَدْ فَتَنَّا الَّذينَ مِنْ قَبْلِهِمْ فَلَيَعْلَمَنَّ اللَّهُ الَّذينَ صَدَقُوا وَ لَيَعْلَمَنَّ الْكاذِبينَ»(عنكبوت/2-3)؛ کیا لوگوں نے یہ خیال کر رکھا ہےکہ و ہ صرف اتنا کہنے سے چھوڑ دے جائيں گے کہ ہم ایمان لائے اور یہ کہ وہ آزمائے نہیں جائیں گے ، اور بتحقیق ہم ان سے پہلوں کو بھی آزماچکے ہیں کیونکہ اللہ کو بہر حال یہ واضح کرنا ہے کہ کون سچے ہیں اور یہ بھی ضرور واضح کرنا ہے کہ کون جھوٹے ہیں "۔

گویا یہی غلط افکار کہ ایمان لانے کے بعد پھر کوئی مشکل پیش نہیں آنی چاہئے ، مدینہ میں بھی مسلمانوں کے ذہنوں میں بھی پیدا ہوئے تھے کہ خداوند متعال نے ان کے اس غلط اور عقیدہ کو باطل قرار دینے کے لئے یوں فرمایا :«أَمْ حَسِبْتُمْ أَنْ تَدْخُلُوا الْجَنَّةَ وَ لَمَّا يَأْتِكُمْ مَثَلُ الَّذينَ خَلَوْا مِنْ قَبْلِكُمْ مَسَّتْهُمُ الْبَأْساءُ وَ الضَّرَّاءُ وَ زُلْزِلُوا حَتَّى يَقُولَ الرَّسُولُ وَ الَّذينَ آمَنُوا مَعَهُ مَتى‏ نَصْرُ اللَّهِ أَلا إِنَّ نَصْرَ اللَّهِ قَريب‏»(بقره: 214)؛ کیا تم خیال کرتے ہو کہ یونہی جنت میں داخل ہو جاؤ گے حالانکہ ابھی تمہیں اس قسم کے حالات پیش نہیں آئے جو تم سے پہلوں کو پیش آئے تھے؟ انہیں سختیاں اور تکالیف پہنچیں اور وہ اس حد تک جھنجھوڑے گئے کہ (وقت کا) رسول اور اس کے مومن ساتھی پکار اٹھے کہ آخر اللہ کی نصرت کب آئے گی؟(انہیں بشارت دے دی گئی کہ) دیکھو اللہ کی نصرت عنقریب آنے والی ہے۔

جنگ احد کے بعد جس میں مسلمانوں کے بہت سارے نقصانات ہوئے اور زخمی بھی ہوئے اور 70 بہت ہی اچھے جنگنجو اور فوج کے سپہ سالار شہید ہوئے (ایسے حالت میں ، یہ بیان کرنے کے لئے کہ ایمان اور دینداری میں مشکلات ہے ) خداوند متعال نے اس آیت کریمہ کو نازل فرمایا :«أَمْ حَسِبْتُمْ أَنْ تَدْخُلُوا الْجَنَّةَ وَ لَمَّا يَعْلَمِ اللَّهُ الَّذينَ جاهَدُوا مِنْكُمْ وَ يَعْلَمَ الصَّابِرينَ»(آل عمران:142)؛کیا تم (لوگ) یہ سمجھتے ہیں کہ جنت میں یونہی چلے جاؤ گے حالانکہ ابھی اللہ نے یہ دیکھا ہی نہیںکہ تم میں سے جہاد کرنے والے اور صبر کرنے والے کون ہیں؟بہر حال خدا کے آزمایش کا باب ایک مفصل باب ہے اور اس کی حکمتیں بھی بہت زیادہ ہیں اور خدا ہر بندہ کو ایک خاص انداز سے آزمايش میں قرار دیتا ہے ، چنانچہ پیغمبران الہی سخت امتحان اور آزمایش میں واقع ہوتے تھے ۔

ج- اجر کوزیادہ کرنا اور روحانی انعام:کبھی پریشانیاں اور امتحانات الہی اس لئے ہے کہ خداوند مومن انسانوں کو امتحان میں ڈال دیتا ہے تا کہ وہ ان پر صبر کرے اور اس کے روحانی درجات کو بلند کرے ، اس بارے میں عبد الرحمن سے ایک روایت نقل ہے جس میں فرماتے ہیں :«عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَجَّاجِ قَالَ ذُكِرَ عِنْدَ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ(ع) الْبَلَاءُ وَ مَا يَخُصُّ اللَّهُ عَزَّ وَ جَلَّ بِهِ الْمُؤْمِنَ فَقَالَ سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ ص مَنْ أَشَدُّ النَّاسِ بَلَاءً فِي الدُّنْيَا فَقَالَ النَّبِيُّونَ ثُمَّ الْأَمْثَلُ فَالْأَمْثَلُ وَ يُبْتَلَى الْمُؤْمِنُ بَعْدُ عَلَى قَدْرِ إِيمَانِهِ وَ حُسْنِ أَعْمَالِهِ فَمَنْ صَحَّ إِيمَانُهُ وَ حَسُنَ عَمَلُهُ اشْتَدَّ بَلاؤُهُ وَ مَنْ سَخُفَ إِيمَانُهُ وَ ضَعُفَ عَمَلُهُ قَلَّ بَلَاؤُهُ»؛ «، عبد الرحمن ابن حجاج کہتا ہے : میں امام صادق  علیہ السلام کی خدمت میں شرفیاب ہواتھا ان کے حضور میں سختیوں اور خدا کا مومن بندوں کے امتحان کرنے کی بات ہوئی ، تو آپ علیہ السلام نے فرمایا : رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے پوچھا گیا :دنیا میں کس کا امتحان زیادہ سخت ہے ؟ فرمایا:پیغمبروں کا ، ان کے بعد ہر وہ جو ان کے جیسے ہیں (اوصیاء) اور ان کے بعد مومن  کا اس کے ایمان کے اندازہ سے اور کردار کے اچھے ہونے کے لحاظ سے بلاوں میں گرفتار ہوتے ہیں ، پس جس کا بھی ایمان صحیح ہو اور کردار نیک ہو اسی اندازہ سے اس کا امتحان سخت ہوتا ہے اور جس کا ایمان ضعیف ہو اس کی گرفتاری اور امتحان کم ہو گا "ایک اور روایت میں ہے :«عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ ع قَالَ إِنَّمَا الْمُؤْمِنُ بِمَنْزِلَةِ كِفَّةِ الْمِيزَانِ كُلَّمَا زِيدَ فِي إِيمَانِهِ زِيدَ فِي بَلَائِه»؛امام صادق علیہ السلام سے روایت ہے کہ فرماتے ہیں :مومن مومن ترازو کے دو پلڑوں کے مانندہے جتنا ایمان میں اضافہ ہو گا اتنا بلا و مصیبت میں بھی اضافہ ہو گا"امام صادق علیہ السلام نے فرمایا: خداوند متعال اپنے اچھے بندوں کو بلا اور مصیبت میں گرفتار کرتا ہے تا کہ اس طرح سے وہ بغیر کسی گناہ کے اجر اور ثواب عنایت فرمائے ، ایک اور حدیث میں پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے یوں نقل ہے : «إِنَّ الرَّجُلَ لَيَكُونُ لَهُ الدَّرَجَةُ عِنْدَ اللَّهِ لَا يَبْلُغُهَا بِعَمَلِهِ يُبْتَلَى بِبَلَاءٍ فِي جِسْمِهِ فَيَبْلُغُهَا بِذَلِكَ»؛انسان کے لئے خداوند متعال کے نزدیک درجہ اور مقام ہے کہ انسان اپنے عمل کے ذریعہ اس درجہ تک فائز نہیں ہو سکتا ( اس کا عمل کم ہے) لہذا خداوند اس کے بدن کو مصائب اور امراض میں گرفتار کرتا ہے اور اس کے ذریعہ وہ اس مقام تک پہنچ جاتا ہے "اسی طرح کی ایک اور روایت امام صادق علیہ السلام سے روایت ہے کہ فرماتے ہیں :«عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ(عليه السلا م) قَالَ إِنَّ فِي الْجَنَّةِ مَنْزِلَةً لَا يَبْلُغُهَا عَبْدٌ إِلَّا بِالِابْتِلَاءِ فِي جَسَدِهِ».

اب جو مطالب بیان ہوئے ان کے مطابق آپ خود خدا کے نزدیک اچھے اور باعزت شخصیات جیسے پیغمبران اور آئمہ اور سارے مومن بندوں کے بارے میں غور و فکر کریں؛ جو مشکلات اور پریشانیاں دنیا میں ان کے لئے پیش آئے ہیں اگر کسی اور کے لئے ہوتے تو ان کے لئے ان کو تحمل کرنا اور برداشت کرنا بہت ہی سخت تھا ، آئمہ علیہم السلام کی زندگی پر توجہ دیں کہ ان کے لئے کتنی پریشانیاں تھیں ، خصوصا کربلا کے واقعہ کی طرف توجہ دیں کتنے مصائب اس خاندان پر آئے ، لیکن ان تمام مصائب کے باوجود کربلا کے صبر کے قہرمان یعنی حضرت زینب سلام اللہ علیہا  نے نہ صرف کوئی اعتراض نہیں کیا بلکہ فرمایا:«ما رأيت إلا جميلا»؛« میں نے خدا سے اچھائی کے علاوہ کچھ نہیں دیکھا ہے »حتی گیارہ محرم کو بھی تمام بھائيوں اور عزیزوں کے شہادت کے بعد بھی نماز تہجد کو ترک نہیں کیا ،اب آپ خود سوچیں کہ آپ کی پریشانیاں شاید امتحان الہی ہو ، یا اس میں کچھ دوسرے جہات ہوں، اور بعض روایات کے مطابق ، خداوند متعال کبھی اپنے بندہ کی اچھائی کو اسی میں دیکھتا ہے کہ وہ دنیا میں بلا و گرفتاری میں رہے  اس صورت میں اس کی حکمت کا تقاضا یہی ہے کہ اسے امتحان میں ڈال دیں ،ان سب کا نتیجہ یہ ہے کہ آپ اس بہن سے بتا دیں :مومن کبھی بھی خدا کی رحمت سے ناامید نہیں ہوتا ہے ، اور کبھی بھی زندگی کو اپنے لئے سخت نہیں دیکھتا ہے ، بلکہ خدا کی رضایت پر راضی ہوتا ہے ، دنیا ، امتحان کی جگہ ہے اور اس میں پیش آنے والی پریشانیاں اور مشکلات مومن کے گناہوں کو بخشنے کا یا بلند درجات تک فائز ہونے کا وسیلہ ہے ، اس بہن کو بھی ناامید نہیں ہونا چاہئے ،بے صبری کو اپنے آپ سے دور کریں ، تمام کاموں کو خدا کے سپرد کرے اور خدا پر توکل کریں اور خدا کو محور قرار دیتے ہوئے اپنے مشکلات کو ختم کرنے کے لئے کوشش کریں ، زیادہ سے زیادہ دعا پڑھیں، قرآن کی تلاوت کرے ، واجبات کو بجا لائے اور محرمات کو ترک کرے ، دوسروں کو اذیت پہنچانے اور حرام مال کھانے سے اجتناب کرے ، ان شاء اللہ خداوند ان کی مشکلات کو رفع کرے گا اور سب کو صحیح ہو جائے گا ۔

۶,۷۶۰ قارئين کی تعداد:

ماہ صفر کا نحس ہونا
تاریخ 16 February 2026 & ٹائم 18:13

کیا صفر کا مہینہ نحس مہینہ ہے؟


بسمہ تعالی
سال کے تمام ایام خدا کے ایام ہیں انسان اپنے کامیابی کے لئے سال کے پورے ایام میں تلاش و کوشش کر سکتا ہے اور خدا سے قرب حاصل کرنے اوراس کی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے سعی کر سکتا ہے اور خدا کی عبادت صدقات اور لوگوں کی خدمت کر سکتا ہے ۔
ماہ صفر بھی اسی طرح ہے اگر انسان خدا کی رضایت کاطالب ہواوراس راہ میں سعی وکوشش کرتا ہو تو اسے توفیقات الہی حاصل ہو گا اور خدا کی رحمت،نعمت اورسرافرازی کے دوارزے اس پر کھل جاتا ہے،لیکن اگرانسان خداکے یادسے غافل ہو جائے اورنفسانی ہوا وہوس کے درپے ہوتو وہ شیطان کی پیروی کرتا ہے کہ طبیعی طورپروہ خداکی توفیقات سے دورہوگااوربدبختی، عذاب اور قحطی کے دروازے اس کے لئے کھل جائے گااس طرح وہ اپنے لئے قیامت کے دن عذاب الہی کو اپنے لئے فراہم کرتا ہے۔
ان سب باتوں کے باوجودکتابوں میں یہ ذکرہے کہ ماہ صفر نحس مہینہ کے نام سے مشہور ہے ۔
جلیل القدر محدث حضرت آیت اللہ شیخ عباس قمی (رہ) نے مفاتیح الجنان می
ں بھی ماہ صفر کے اعمال میں اور اپنی دوسری کتاب ''وقایع الایام''میں بھی اس موضوع کی طرف اشارہ کیا ہے ۔
ہم یہاں پر ان کے کتاب وقایع الایام کی عبارت کو بیان کرتے ہیں :
جان لو!یہ ماہ (ماہ صفر) نحس سے مشہور ہے اور اس کی وجہ شاید اس مہنیہ میں رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وفات واقع ہونا ہو،جس طرح پیر کادن منحوس ہونا اسی وجہ سے ہے،یا اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ مہینہ تین حرام مہینوں(ذی قعدہ، ذی الحجۃ، اور محرم) کے بعدواقع ہوا ہے ان تینوں مہینوں میں جنگ اولڑائی کرناحرام تھااوراس مہینہ میں جنگ شروع ہو جاتا ہے اورگھر اس کے مالکوں سے خالی ہوتے تھے،یہ بھی اس مہینہ کو صفر نام رکھنے کی ایک وجہ ہے۔
بہرحال نحوست کو ختم کرنے کے لئے صدقات،دعااورخدا سے پناہ مانگنے سے بہترکوئی چیز نہیں ہے،اگر کوئی اس مہینہ کے بلاؤں سے محفوظ رہنا چاہتا ہے تو ہر روز ١٠مرتبہ اس دعا کو پڑھا کریں کہ ''محدث فیض'' روح اللہ روحہ،نے کتاب''خلاصۃ الاذکار''میں ذکرفرمایا ہے :یاشدید القوى،ویاشدید المحال،یاعزیز، یا عزیز، ذلّت بعظمتک جمیع خلقک، فاکفنى شَرّ خلقک، یا محسن، یا مجمل، یا منعم،یامفضل،یالااِله الّا اءنت، سبحانک إ نّى کنتُ مِن الظّالمین، فاستجبناله و نجّیناهُ
من الغمّ،وکذلک ننجىِ المؤمنین،وصلّى اللّه على محمّدوآله الطّیبین الطّاهرین.

۳,۶۳۲ قارئين کی تعداد:

قمہ زنی اور زنجیرکا حکم
تاریخ 16 February 2026 & ٹائم 18:13

قمه زنی اور وه زنجیر جس میں چاقو لگے ہوے ہیں ان کے مارنے کا کیا حکم ہے؟

اس بات کے پیش نظر کہ اس وقت قمہ زنی دشمنوں کے لئے شیعوں کے خلاف پروپیکنڈا پھیلانے کا سبب بنا ہے ،لہذا قمہ زنی عزاداری کے توہین کا سبب ہے اور مخالفین کو سمجھانے کے لئے کوئی قابل قبول توجیہ نہ ہونے کی وجہ سے اس کا نتیجہ برا ہونے کے علاوہ کچھ نہیں ، لہذا امام حسین علیہ السلام کے چاہنے والوں کے لیے اس طرح کے کاموں سے پرہیز کرنا ضروری ہے ۔

۳,۴۸۷ قارئين کی تعداد:

امام حسین علیہ السلام نے توحید کی درس دی یا ذوالجناح کو پوچنے کی؟
تاریخ 16 February 2026 & ٹائم 18:13

امام حسین علیہ السلام نے ہمیں توحید کی درس دی ہے یا دُلدُل اورذوالجناح پوچنے کی تعلیم دی ہے ؟


امام حسین علیہ السلام اولیاء الہی میں سے تھے اور سب سے بڑے موحد اور خدا کے عارفین میں سے تھے ، او رتوحید کی حقیقت کو آپ  اور آپ کے اولاد آئمہ  طاہرین ہی جانتے تھے ،اور شیعہ توحید کے بارے میں صحیح عقیدہ کو آئمہ  سے ہی حاصل کی ہیں ، اور شیعہ دوسرے لوگوں کی طرح نہیں ہیں کہ اپنی عقیدہ توحید کو حشویہ ،مجسمہ اور جہلة سے حاصل کریں ، پس عصر حاضر میں جو بھی شیعوں پر یہ تہمت لگاتے ہیں کہ شیعہ خدا کو چھوڑ کر آئمہ ، ان کے قبور ،گھوڑے اور ذوالجناح  وغیرہ کی پرستش کرتے ہیں یہ دجالی جھوٹ ہیں ۔

۳,۹۱۰ قارئين کی تعداد: