قرآن میں معاد - درس 6
‘‘الَّذينَ تَتَوَفَّاهُمُ الْمَلائِكَةُ طَيِّبينَ يَقُولُونَ سَلامٌ عَلَيْكُمْ ادْخُلُوا الْجَنَّةَ بِما كُنْتُمْ تَعْمَلُون’’کہ اس آیت کریمہ میں طیّبین کے بارے میں دواحتمال ہے،ایک یہ ہے کہ طیّبین،نفوس متقین کے لئے حال ہے،یعنی متقین دنیا سے جاتے ہوئے ان کی حالت یہ ہے کہ ان کےنفوس طیّب ہیں اورظلم کی گندگی اورخباثت سے پاک ہیں،دوسرااحتمال یہ ہے طّیبن متقین سے مربوط ہے لیکن نہ کہ خود متقین بلکہ ان کے وفات سے مربوط ہے،اس کے چند مؤیدات ہیں
موت کے وقت ملائکہ کا ناڑل ہونا - درس 12
جووگ دنیا ميں خدا کو اپنا رب جانتے ہيں اوراسی اعتقاد پران کی استقامت ہوتی ہے ، موت کے وقت ملائکہ ان پر نازل ہوتے ہيں،مشہورمفسرین بتاتے ہيں یہ ان کے مرنے کے وقت ہے ، بعض بتاتے ہیں یہ دوسرے مواقع پر بھی ہے جیسے حشر میں روکنے کی تین جگہوں پر بھی ملائکہ نازل ہوتے ہيں :''عند الموت و فی القبر وعند البعث''۔
مومنین پرموت کے وقت ملائکہ نازل ہوتا ہے - درس 13
علی بن ابراہیم نقل کرتا ہے: «إن الذين قالوا ربنا الله ثم استقاموا، قال علي ولاية أميرالمؤمنين(ع»(اہل سنت کے تفاسیر میں زیادہ سے زیادہ یہی بیان ہوا ہے کہ اعتقاد اورعمل صالح پراستقامت کرنا ہے لیکن صجیج اعتقاد کیا ہے یہ بیان نہیں ہوا ہےواضح ہے ''ربنااللہ '' کو وہی شخص بول سکتا ہے جو خداوند متعالی کے فرامین پر اعتقاد رکھتا ہو اورخدا کے فرامین میں سے ایک امیر المومنین ع کی ولایت ہے کہ آیہ کریمہ بلاغ اس پردلالت کرتی ہے۔ «يَا أَيُّهَا الرَّسُولُ بَلِّغْ مَا أُنزِلَ إِلَيْكَ».