نصحتیں اور قیمتی باتیں
اپنا سوال پوچھیںیقین کی نشانياں
تاریخ 16 February 2026 و ٹائم 19:59
یقین کی نشانياں
مرحوم کلینی نے کتاب کافی میں باب "الایمان و الکفر " میں ،باب «فضل الايمان على الاسلام واليقين على الايمان»میں پانچویں حدیث میں ذکر کیا ہے :"على بن ابراهيم،عن محمد بن عيسى، عن يونس،یہ روایت معتبر ہے ،قال:سألت اباالحسن الرضا (عليه السلام ) عن الايمان والاسلام؟ قال: فقال ابوجعفر (عليه السلام) ، آٹھویں امام فرماتا ہے ، امام باقر علیہ السلام نے فرمایا: انما هو الاسلام، و الايمان فوقه بدرجة و التقوى فوق الايمان بدرجة و اليقين فوق التقوى بدرجة"،جس چیز کے بارے میں انسان سب سے پہلے اعتقاد پیدا کرتا ہے وہ اسلام ہے ، اور اسلام سے ایک درجہ اوپر ، ایمان ہے ، اور ایمان سے ایک درجہ اوپر ، تقوی ہے ، اور تقوی سے ایک درجہ اوپر ، یقین کا درجہ ہے ۔
اور اسی روایت میں آگے جا کرفرماتے ہیں :و لم يقسم بين الناس شىء اقل من اليقين،خداوند متعال نے اپنے بندوں کو جتنی نعمتیں عطا کی ہیں ان میں سے سب کم جو دیا گیا ہے وہ یقین ہے ،قال: قلت فائ شىء اليقين ؟یقین کیا ہے ؟فرمایا: یقین کے چار ارکان ہیں : خدا پر توکل ، خدا کے سامنے سر تسلیم خم ہونا، خدا کے قضا وقد رپر راضی ہونا، اور سب کاموں کو اسی پر چھوڑنا ۔
ابو بصیر کی روایت میں ہے ، کہ امام علیہ السلام فرماتے ہیں : فما اوتى الناس اقل من اليقين وانما تمسکتم بادنى الاسلام فاياکم ان ينفلت من أيديکم،لوگوں نے اسلام کے کمترین درجہ سے تمسک کیا ہوا ہے ، آگاہ رہیں کہ یہی بھی اس کے ہاتھ سے نکل نہ جائے ۔
فقہ اورتفسیر میں ایک بحث ہے وہ یہ ہے کہ اسلام اور ایمان میں کیا فرق ہے ؟ اس روایت یا بعض دوسری آیات میں جو ایمان ذکر ہے ، کیا وہی اصطلاحی ایمان ہے جس کا امامیہ قائل ہے؟
کہ بولا جائے: ایمان یعنی ولایت پر اعتقاد رکھنا ، اور اسلام یعنی خدا، توحید اور نبوت پر اعتقاد ، ان کے معتقد کو مسلمان کہا جاتا ہے اور اس سے ایک درجہ اوپر اگر ولایت پر بھی ایمان ہو تو وہ مومن ہو جاتا ہے ؟یہ اصطلاح فقہ میں رائج ہے ، مثلا کہتے ہیں : کسی حلال جانور کو ذبح کرنے والے کے شرائط میں سے ایک اس کا مومن ہونا ہے ،یعنی شیعہ ہو ۔
البتہ ممکن ہے یہ بتایا جائے کہ وہ ایمان اور اسلام ایک ہی ہے ، جب خدا نے پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے فرمایا : "و ان لم تفعل فما بلغت رسالته"اس کا معنی یہ ہے کہ اگر کسی نے امامت کو قبول نہیں کیا ، تو گویا اس نے پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رسالت کا ہی انکار کیا ہے ، اس وقت ، اسلام ہی نہیں ہے ، اور اس میں کوئی شک و شبہہ بھی نہیں ہے ، لیکن اس معنی سے قطع نظر ، خود خدا کی نسبت ایک مرتبہ ہے کہ وہ مرتبہ اسلام ہے ، اور اس کا ظاہر یہی اسلام ہے جو شہادتین پڑھنے سے حاصل ہوتا ہے ، جب کسی انسان نے شہادتین کو پڑھ لیا تو وہ مسلمان ہو گیا ، لیکن ممکن ہے اس کے دل میں خدا پر ایمان نہ ہو ، ایمان ایک قلبی چیز ہے ، یعنی واقعا ًجو چیز زبان سے بولا جاتا ہے وہی چیز انسان کے قلب میں بھی ہو ۔
اس ایمان کے درجہ سے اوپر کیا ہے ؟ اسلام ظاہری شہادتین سے شروع ہوتا ہے ، اس کے بعد قلب میں ایمان میں تبدیل ہو جاتا ہے ، اور جب انسان کے اعضاء و جوارح میں ایمان ظاہر ہونے لگتا ہے ،یعنی واجبات کو انجام دیتا ہے اور محرمات کو ترک کرتاہے ،اس وقت متقی ہوتا ہے ، اور اس سے بالاتر درجہ یقین ہے ۔
میں اس مطلب کے بارے میں کچھ تاکید کرتا ہوں کہ توجہ فرمائيں: عاقل انسان وہ ہیں جو اس تلاش میں رہے کہ کمیاب ہیرے کہاں ہوتے ہیں تا کہ اسے پیدا کر لے ، انسان جب تنور والے کے پاس جاتا ہے تا کہ روٹی لے لیں ،اس کی فطرت یہ ہے کہ کوئی اچھی روٹی لے لیں ، جب وہ کپڑا خریدنا چاہتا ہے تو یہ کوشش ہوتی ہے کوئی خاص کپڑا خریدے ، اسی طرح ہم معنویات میں بھی بیٹھ کر سوچیں ، الحمد للہ ہم سب روایات کو پڑھ سکتے ہیں ، ہمارے ائمہ طاہرین علیہم السلام نے بہت ہی واضح اور کامل طور پر تمام مراحل کو ہمارے لئے درجہ بندی کرکے بیان فرمائے ہیں ، ایمان ، اسلام سے ایک درجہ اوپر ہے ، تقوا ، ایمان سے ایک درجہ بلند ہے ، اس کے بعد فرماتا ہے یقین ان سب سے بالاتر ہے ، اس کے بعد فرماتا ہے :آگاہ ہو جاؤ! خداوند متعال نے انسان کے لئے جتنی نعمتیں عطا کی ہیں ان سب میں سے کوئی بھی نعمت اتنی کم نہیں دی گئي ہے جتنی یقین کم اور محدود دی ہے ، ہمیں چاہئے اسے حاصل کرے ؛ اور اس یقین کی چار نشانیاں ہیں :
1۔خدا پر توکل؛ انسان اپنے تمام کاموں میں خدا کو اپنا وکیل قرار دے ، حتی کہ ایک علمی گفتگو میں بھی خدا کو اپنا وکیل قرار دیں ، کہ اسے اس ہدف تک پہنچے میں مدد کرے جس میں خدا کی رضایت ہو ۔
دنیوی امور میں تو بہت ہی سزاوار ہے کہ انسان ان کاموں میں خدا کو اپنا وکیل قرار ديں ، انسان کے لئے جو واقعات پیش آتے ہیں ، مال و دولت ہاتھ سے چلا جاتا ہے ، کوئی عزیز وفات پاتا ہے ، ان مصائب اور مشکلات کے اوقات میں انسان کو یہ دیکھنا چاہئے کہ آیا خداوند متعال اس کی قلب کو تسلی دیتا ہے یا نہیں ؟ یہ خدا پر توکل کا مقام ہے ، ایک دن معاشرہ میں اس کی عزت ہوتی ہے اور ایک دن وہ اسی معاشرہ میں ذلیل ہوتا ہے ، "یوم لک و یوم علیک" دونوں حالات میں آیا خدا پر توکل کرتا ہے یا نہیں ؟ خدا پر توکل کرنا بہت ہی مہم ہے ، انسان کو چاہئے کہ ہر حالت میں خدا کو اپنا وکیل قرار دے دیں ۔
2۔ توکل سے بالاتر مقام ، اس کے سامنے تسلیم ہونا ہے ، توجہ کریں ، وہ اسلام جو ابتداء میں ہے وہ کہاں ہے اور یہ تسلیم جو یقین کا دوسرا درجہ ہے وہ کہاں ؟ ! خدا کے سامنے تسلیم ہونا یعنی مشکلات میں شکوہ و شکایت نہ کرنا ، تسلیم یہ ہے کہ انسان مشکلات کے وقت شکوہ و شکایت کی زبان نہ کھولے ، بلکہ جو بھی پیش آئے اسی کو قبول کرے ۔
3۔ خدا کے قضاء وقدر پر راضی ہونا ۔
4۔ تمام کاموں کو خدا پر چھوڑ دینا
ماخذ : اصول کافی، ج 2، ص 51
انسان کو یقین حاصل ہونے کے اسباب
تاریخ 16 February 2026 و ٹائم 19:59
انسان کو یقین حاصل ہونے کے اسباب
قرآن کریم کی آیات اور آئمہ معصومین علیہم السلام کی روایات میں جن مطالب کے بارے میں بہت زیادہ اہمیت دی گئی ہے ان میں سے ایک انسان کو یقین حاصل ہونا اور اس کا یقین کے مقام تک پہنچنا ہے ، اور بعض روایات سے استفادہ ہوتا ہے کہ جس طرح ایمان کا درجہ اسلام سے پہلے ہے اور تقوی کا درجہ ایمان سے پہلے ہے ، اسی طرح یقین کا درجہ تقوی سے پہلے ہے ، جب تک کوئی شخص مومن نہ ہو وہ متقی نہیں ہو سکتا اور جب تک کوئي شخص متقی نہ ہو وہ یقین کے درجہ پر نہیں پہنچ سکتا ، یقین ایک بہت ہی مہم مسئلہ ہے ، کہ بعض روایات میں نقل ہے خدا کی نعمتوں میں سے ایک چیز جو لوگوں کے درمیان بہت کم تقسیم ہوا ہے وہ یقین ہے ،«لم يقسم بين الناس شيءٌ اقل من اليقين»، یعنی بہت ہی کم افراد اس مرحلہ تک پہنچتے ہیں ۔
ابھی ہم جن حالات سے گزر رہے ہیں علمی لحاظ سے ہمیں یہ کوشش کرنی چاہئے کہ ہمارے تمام کام یقین حاصل کرنے کے لئے ہو ، خداوند متعال کی نسبت وہ یقین جو انسان میں ہونا چاہئے ، کہ بعض روایات میں یقین کے آثار کو توکل بیان کیا ہے ، یعنی جس انسان کو یقین ہو واقعا وہ خدا پر توکل کرتا ہے ، وہ خدا کے سامنے سر تسلیم خم ہے اور خدا کے قضا ء وقدر پر راضی ہے ، اسی طرح اپنے کاموں کو خدا پر چھوڑ دیتا ہے ، یہ چار خصوصیات ان خصوصیات میں سے ہے کہ اگر کسی کے اندر وہ یقین ہو جو خدا کا منظور نظر ہے ، تو اس میں یہ آثار پایا جاتے ہیں ۔
یقین کے بارے میں روایات بہت زیادہ ہیں ، میں صرف یادآوری کے طور پر یہ عرض کرنا چاہتا ہوں کہ ہمیں ایسا ہونا چاہئے کہ واقعا ہر روز ہمارے یقین میں پہلے دن کی نسبت اضافہ ہو ، ایسا نہیں ہے کہ یقین کی ایک مقدار ہے ، اس مقدار تک جب پہنچ جائے تو اس کے بعد وہ ختم ہو جاتا ہو ، ایسا نہیں ہے بلکہ یقین کے مختلف مراتب اور درجات ہیں ۔
بحار الانوار میں ذکر ہوا ہے کہ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے عرض ہوا کہ ہمارے لئے نقل ہوا ہے کہ حضرت عیسی یا حضرت موسی (علیہما السلام) پانی پر چلتے تھے «يمشي علي الماء » ، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا : ان کے اندر جو یقین تھا، خدا نے انہیں ایسی قدرت عطا کی تھی، اگر ان کے یقین میں اور اضافہ ہوتا تو «مشي علي الهواء»، ہوا پر بھی چلنے کی قدرت پیدا کر لیتے ، اس کے بعد فرمایا :انبیاء میں فرق اور ان کے فضیلت میں اختلاف ان کی اسی یقین کی وجہ سے ہے ، یعنی ہمارے پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا یقین تمام انسانوں ، اولیاء ، آئمہ معصومین اور سارے انبیاء سے زیادہ تھے ، انبیاء میں بھی اس یقین کے مختلف درجات ہیں ۔
یقین ایسی کوئی چیز نہیں ہے کہ یہ بتا یا جائے : میں ابھی یہ احساس کرتا ہوں کہ میں یقین کے مرحلہ پر پہنچا ہوں ،کہ اس کے بعد کوئی اور چیز نہیں ہے ،«ليس فوقه شيء»،کبھی میں خود کو یہ نصیحت کرتا ہوں یا بعض دوستوں کو یہ یاد دھانی کرتا ہوں کہ ، ہمیں ان مسائل کے بارے میں واقعا سوچنا چاہئے ، یعنی اس بارے میں فکرمند رہنا چاہئے ، اگر ایک دن گزر گیا اور اس بارے میں ہم ایک قدم آگے نہیں بڑھ سکے ، تو اپنے آپ سے یہ بتانا چاہئے کہ دنیا ہمارے سروں پر امنڈ آئے تو زیادہ نہیں ہے ۔
انسان کے تمام کاموں میں اور دنیوی مشاغل میں علم سے بہتر کوئی چیز پیدا نہیں کر سکتا ، اور وہ بھی کلی علم ، اور تمام علوم کے درمیان بھی وہ علم جو وحی اور مبداء و معاد سے مربوط ہو اس سے بہتر کوئی علم پیدا نہیں کر سکتا ، خداوند متعال نے بھی ہمیں یہ توفیق عنایت فرمایا ہے اور ہمیں اس راہ میں قرار دیا ہے کہ ہمارے علوم مبداء اور معاد سے مربوط ہے ، مثلا ہم ایک قرآن کے "لا تفعل " کا معنی کرنا چاہتے ہیں ، کتنے اس میں زحمت کرنے کی ضرورت ہے ، آپ جب " لا تشرب " کا معنی کرنا چاہتا ہے ، تو دیکھنا چاہئے کہ کیسے اس کا معنی کرے ، ہم اس معنی کو خدا سے نسبت دینا چاہتے ہیں ، یہ بتانا چاہتے ہیں کہ خدا نے ایسا فرمایا ہے ، یہ کوئی کم چیز نہیں ہے ، بہت ہی اہم مسئلہ ہے ۔
ہم اس راستہ پر چل رہے ہیں تو سب چیزوں سے قطع نظر ان کمالات کو اپنے اندر پیدا کرنا چاہئے ،کبھی ہم یہ کہتے ہیں ہم درس پڑھتے ہیں تا کہ مجتہد ہو جائے اور مجتہد ہوتے ہیں تا کہ فتوا دے دیں ، بالفرض ہم نے فتوا بھی دے دیا ، ایک کھرب انسان ہمارے مقلد بھی ہو گئے ، اس کے بعد کیا ؟؟؟ حقیقت میں یہ انسان کے لئے کمال نہیں ہے ، کہ یہ بتا یا جائے کہ انسان اس درجہ تک پہنچ گیا ہے کہ اس کے مقلد ہے ۔
ایک وقت میں نے اپنے والد گرامی سے ایک بات بتایا تھا ، انہوں نے اپنے باتوں میں مجھ سے فرمایا : تم یہ نہ سوچو کہ کہیں پر اگر میرا مقلد بن جائے تو میں خوش ہوتا ہوں ، میں خوش نہیں ہوتا ہوں ، ان کی ذمہ داری میرے گردن پر آنے کی وجہ سے میں یقیناً پریشان ہوتا ہوں ، وہ لوگ جتنے اعمال انجام دیں گے ان سب کے بارے میں قیامت کے دن مجھ سے سوال ہوگا اور مجھے ان سب کا جوابدہ ہونا چاہئے ، حقیقتا بھی ایسا ہی ہے ، یہ ایسی چیز نہیں ہے کہ انسان ان سے دل لگائے ۔
جی ہاں ! اگر انسان واقعی طور پر اس یقین اور نورانیت کو اپنے اندر احساس کرے ، اس کے آثار بھی ایسے ہی ہوں گے ، اور یقین کے آثار میں سے ایک توکل اور خدا کے سامنے سرتسلیم خم ہونا ہے ، ہم نے اپنے بزرگوں میں اس تسلیم کو بہت سارے واقعات میں دیکھ لی ہیں ۔
انسان کا علم کسی زمانہ میں اپنے اوج کو پہنچتا ہے ، اور اس کے بعد سب چیزوں کو اس سے لے لیتا ہے ،«و من نعمره ننكسه»، انسان جب عمر کے آخر کو پہنچ جائے تو شایدوہ حروف تہجی بھی بھول جائے ،یہ سب ختم ہونے والی چیزیں ہیں ، لیکن یہ نفسانی ملکات کہ انہیں میں سے ایک بلکہ سب سے بہترین یقین ہے ، ہم کوشش کریں کہ اسے اپنے اندر ایجاد کرے ، امیر المومنین علیہ السلام فرماتے ہیں :«سل الله اليقين»، فرماتے ہیں : یقین کو خدا سے طلب کرو :«سل الله اليقين و خير ما دام في القلب اليقين»،انسان کےدل میں سب سے بہترین چیز جو باقی رہتی ہے وہ یقین ہے ، خدا ہم سب کو یہ نصیب فرمائے ۔