نصحتیں اور قیمتی باتیں
اپنا سوال پوچھیںانسان کو یقین حاصل ہونے کے اسباب
تاریخ 16 February 2026 و ٹائم 18:15
انسان کو یقین حاصل ہونے کے اسباب
قرآن کریم کی آیات اور آئمہ معصومین علیہم السلام کی روایات میں جن مطالب کے بارے میں بہت زیادہ اہمیت دی گئی ہے ان میں سے ایک انسان کو یقین حاصل ہونا اور اس کا یقین کے مقام تک پہنچنا ہے ، اور بعض روایات سے استفادہ ہوتا ہے کہ جس طرح ایمان کا درجہ اسلام سے پہلے ہے اور تقوی کا درجہ ایمان سے پہلے ہے ، اسی طرح یقین کا درجہ تقوی سے پہلے ہے ، جب تک کوئی شخص مومن نہ ہو وہ متقی نہیں ہو سکتا اور جب تک کوئي شخص متقی نہ ہو وہ یقین کے درجہ پر نہیں پہنچ سکتا ، یقین ایک بہت ہی مہم مسئلہ ہے ، کہ بعض روایات میں نقل ہے خدا کی نعمتوں میں سے ایک چیز جو لوگوں کے درمیان بہت کم تقسیم ہوا ہے وہ یقین ہے ،«لم يقسم بين الناس شيءٌ اقل من اليقين»، یعنی بہت ہی کم افراد اس مرحلہ تک پہنچتے ہیں ۔
ابھی ہم جن حالات سے گزر رہے ہیں علمی لحاظ سے ہمیں یہ کوشش کرنی چاہئے کہ ہمارے تمام کام یقین حاصل کرنے کے لئے ہو ، خداوند متعال کی نسبت وہ یقین جو انسان میں ہونا چاہئے ، کہ بعض روایات میں یقین کے آثار کو توکل بیان کیا ہے ، یعنی جس انسان کو یقین ہو واقعا وہ خدا پر توکل کرتا ہے ، وہ خدا کے سامنے سر تسلیم خم ہے اور خدا کے قضا ء وقدر پر راضی ہے ، اسی طرح اپنے کاموں کو خدا پر چھوڑ دیتا ہے ، یہ چار خصوصیات ان خصوصیات میں سے ہے کہ اگر کسی کے اندر وہ یقین ہو جو خدا کا منظور نظر ہے ، تو اس میں یہ آثار پایا جاتے ہیں ۔
یقین کے بارے میں روایات بہت زیادہ ہیں ، میں صرف یادآوری کے طور پر یہ عرض کرنا چاہتا ہوں کہ ہمیں ایسا ہونا چاہئے کہ واقعا ہر روز ہمارے یقین میں پہلے دن کی نسبت اضافہ ہو ، ایسا نہیں ہے کہ یقین کی ایک مقدار ہے ، اس مقدار تک جب پہنچ جائے تو اس کے بعد وہ ختم ہو جاتا ہو ، ایسا نہیں ہے بلکہ یقین کے مختلف مراتب اور درجات ہیں ۔
بحار الانوار میں ذکر ہوا ہے کہ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے عرض ہوا کہ ہمارے لئے نقل ہوا ہے کہ حضرت عیسی یا حضرت موسی (علیہما السلام) پانی پر چلتے تھے «يمشي علي الماء » ، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا : ان کے اندر جو یقین تھا، خدا نے انہیں ایسی قدرت عطا کی تھی، اگر ان کے یقین میں اور اضافہ ہوتا تو «مشي علي الهواء»، ہوا پر بھی چلنے کی قدرت پیدا کر لیتے ، اس کے بعد فرمایا :انبیاء میں فرق اور ان کے فضیلت میں اختلاف ان کی اسی یقین کی وجہ سے ہے ، یعنی ہمارے پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا یقین تمام انسانوں ، اولیاء ، آئمہ معصومین اور سارے انبیاء سے زیادہ تھے ، انبیاء میں بھی اس یقین کے مختلف درجات ہیں ۔
یقین ایسی کوئی چیز نہیں ہے کہ یہ بتا یا جائے : میں ابھی یہ احساس کرتا ہوں کہ میں یقین کے مرحلہ پر پہنچا ہوں ،کہ اس کے بعد کوئی اور چیز نہیں ہے ،«ليس فوقه شيء»،کبھی میں خود کو یہ نصیحت کرتا ہوں یا بعض دوستوں کو یہ یاد دھانی کرتا ہوں کہ ، ہمیں ان مسائل کے بارے میں واقعا سوچنا چاہئے ، یعنی اس بارے میں فکرمند رہنا چاہئے ، اگر ایک دن گزر گیا اور اس بارے میں ہم ایک قدم آگے نہیں بڑھ سکے ، تو اپنے آپ سے یہ بتانا چاہئے کہ دنیا ہمارے سروں پر امنڈ آئے تو زیادہ نہیں ہے ۔
انسان کے تمام کاموں میں اور دنیوی مشاغل میں علم سے بہتر کوئی چیز پیدا نہیں کر سکتا ، اور وہ بھی کلی علم ، اور تمام علوم کے درمیان بھی وہ علم جو وحی اور مبداء و معاد سے مربوط ہو اس سے بہتر کوئی علم پیدا نہیں کر سکتا ، خداوند متعال نے بھی ہمیں یہ توفیق عنایت فرمایا ہے اور ہمیں اس راہ میں قرار دیا ہے کہ ہمارے علوم مبداء اور معاد سے مربوط ہے ، مثلا ہم ایک قرآن کے "لا تفعل " کا معنی کرنا چاہتے ہیں ، کتنے اس میں زحمت کرنے کی ضرورت ہے ، آپ جب " لا تشرب " کا معنی کرنا چاہتا ہے ، تو دیکھنا چاہئے کہ کیسے اس کا معنی کرے ، ہم اس معنی کو خدا سے نسبت دینا چاہتے ہیں ، یہ بتانا چاہتے ہیں کہ خدا نے ایسا فرمایا ہے ، یہ کوئی کم چیز نہیں ہے ، بہت ہی اہم مسئلہ ہے ۔
ہم اس راستہ پر چل رہے ہیں تو سب چیزوں سے قطع نظر ان کمالات کو اپنے اندر پیدا کرنا چاہئے ،کبھی ہم یہ کہتے ہیں ہم درس پڑھتے ہیں تا کہ مجتہد ہو جائے اور مجتہد ہوتے ہیں تا کہ فتوا دے دیں ، بالفرض ہم نے فتوا بھی دے دیا ، ایک کھرب انسان ہمارے مقلد بھی ہو گئے ، اس کے بعد کیا ؟؟؟ حقیقت میں یہ انسان کے لئے کمال نہیں ہے ، کہ یہ بتا یا جائے کہ انسان اس درجہ تک پہنچ گیا ہے کہ اس کے مقلد ہے ۔
ایک وقت میں نے اپنے والد گرامی سے ایک بات بتایا تھا ، انہوں نے اپنے باتوں میں مجھ سے فرمایا : تم یہ نہ سوچو کہ کہیں پر اگر میرا مقلد بن جائے تو میں خوش ہوتا ہوں ، میں خوش نہیں ہوتا ہوں ، ان کی ذمہ داری میرے گردن پر آنے کی وجہ سے میں یقیناً پریشان ہوتا ہوں ، وہ لوگ جتنے اعمال انجام دیں گے ان سب کے بارے میں قیامت کے دن مجھ سے سوال ہوگا اور مجھے ان سب کا جوابدہ ہونا چاہئے ، حقیقتا بھی ایسا ہی ہے ، یہ ایسی چیز نہیں ہے کہ انسان ان سے دل لگائے ۔
جی ہاں ! اگر انسان واقعی طور پر اس یقین اور نورانیت کو اپنے اندر احساس کرے ، اس کے آثار بھی ایسے ہی ہوں گے ، اور یقین کے آثار میں سے ایک توکل اور خدا کے سامنے سرتسلیم خم ہونا ہے ، ہم نے اپنے بزرگوں میں اس تسلیم کو بہت سارے واقعات میں دیکھ لی ہیں ۔
انسان کا علم کسی زمانہ میں اپنے اوج کو پہنچتا ہے ، اور اس کے بعد سب چیزوں کو اس سے لے لیتا ہے ،«و من نعمره ننكسه»، انسان جب عمر کے آخر کو پہنچ جائے تو شایدوہ حروف تہجی بھی بھول جائے ،یہ سب ختم ہونے والی چیزیں ہیں ، لیکن یہ نفسانی ملکات کہ انہیں میں سے ایک بلکہ سب سے بہترین یقین ہے ، ہم کوشش کریں کہ اسے اپنے اندر ایجاد کرے ، امیر المومنین علیہ السلام فرماتے ہیں :«سل الله اليقين»، فرماتے ہیں : یقین کو خدا سے طلب کرو :«سل الله اليقين و خير ما دام في القلب اليقين»،انسان کےدل میں سب سے بہترین چیز جو باقی رہتی ہے وہ یقین ہے ، خدا ہم سب کو یہ نصیب فرمائے ۔
حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کی فضلیت
تاریخ 16 February 2026 و ٹائم 18:15
حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کی فضلیت
«قَالُوا يَا رَسُولَ اللهِ إِنَّهُ] أَشْكَلَ اشتكل ذَلِكَ] عَلَيْنَا تَقُولُ حَوْرَاءُ إِنْسِيَّةٌ لَا إِنْسِيَّةٌ ثُمَّ تَقُولُ مِنْ عَرَقِ جَبْرَئِيلَ وَ مِنْ زَغَبِهِ»؛ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے دو مطلب بیان فرمایا : 1۔ « خُلِقَتْ فَاطِمَةُ حَوْرَاءَ إِنْسِيَّةً لَا إِنْسِيَّةً»،
2) «خُلِقَت مِنْ عَرَقِ جَبْرَئِيلَ وَ مِنْ زَغَبِهِ»)، اصحاب نے عرض کیا : یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم ! یہ مسئلہ بہت زیادہ پیچیدہ ہو گیا ، اس کی حقیقت کیا ہے ؟ «قَالَ إِذاً أَنَا أُنَبِّئُكُمْ أَهْدَى إِلَيَّ رَبِّي تُفَّاحَةً مِنَ الْجَنَّةِ»،آپ نے فرمایا : میں ابھی اس واقعہ کو تمہارے لئے بیان کرتا ہوں ، خداوند تبارک و تعالی نے جنت سے میرے لئے ایک سیب عطا فرمایا «أَتَانِي بِهَا جَبْرَئِيلُ فَضَمَّهَا إِلَى صَدْرِهِ»؛ جبرئیل نے اس سیب کو اپنے سینہ سے لگا لیا «فَعَرِقَ جَبْرَئِيلُ ع] وَ عَرِقَتِ التُّفَّاحَةُ»؛ جبرئيل کو پسینہ آگیا اور اس کے کچھ قطرات اس سیب پر گر گیا ،«فَصَارَ عَرَقُهُمَا عَرَقُهَا] شَيْئاً وَاحِداً»؛ تو سیب اور جبرئیل کے پسینہ دونوں آپس میں مل گیا ، توجہ فرمائیں کہ جبرئیل نے اس سیب کو اس خاص حالت میں لایا ہے ، یعنی اس سیب کو ایک معمولی چیز لانے کی طرح نہیں لایا ہے کہ ہاتھ میں اٹھا کر لائے ، اس سے ہم یہ مطلب حاصل کر سکتے ہیں کہ انسان ایک بڑے تخفہ اور جس کے لئے بہت زیادہ احترام کا قائل ہو اسے سینہ سے لگاتے ہیں «ثُمَّ قَالَ السَّلَامُ عَلَيْكَ يَا رَسُولَ اللهِ وَ رَحْمَةُ اللهِ وَ بَرَكَاتُهُ قُلْتُ وَ عَلَيْكَ السَّلَامُ يَا جَبْرَئِيلُ فَقَالَ إِنَّ اللهَ أَهْدَى إِلَيْكَ تُفَّاحَةً مِنَ الْجَنَّةِ»؛ جبرئيل کہتا ہے کہ خداوند تبارک وتعالی نے بہشت سے آپ کے لئے ایک سیب تخفہ بھیجا ہے «فَأَخَذْتُهَا فَقَبَّلْتُهَا وَ قَبَّلْتُهَا وَ وَضَعْتُهَا عَلَى عَيْنِي وَ ضَمَمْتُهَا إِلَى صَدْرِي»؛یعنی جبرئیل کتنا اس سیب کے لئے احترام اور تکریم کا قائل ہوا ہے ،صرف ایک معمولی کھانے یا صرف ایک بہشتی کھانے کے طور پر نہیں ہے ، بہشتی کھانا مریم سلام اللہ علیہا کے لئے بھی آیا تھا اسی طرح بعض دوسرے کے لئے بھی آیا تھا ، لیکن جبرئیل نے اس سیب کو ایک خاص حالت میں لے آنا اس کی اہمیت کو بیان کرنے کے لئے ہے «ثُمَّ قَالَ يَا مُحَمَّدُ كُلْهَا»؛جبرئيل نے عرض کیا : یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم اس سیب کو نوش فرمائے «قُلْتُ يَا حَبِيبِي جَبْرَئِيلُ هَدِيَّةُ رَبِّي تُؤْكَلُ»؛ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم پہلے تو فرماتے ہیں کہ یہ خدا وند تبارک و تعالی کی طرف سے میرے لئے تخفہ ہے اور تخفہ کی حفاظت کرنی چاہئے اسے کھایا نہیں جاتا ،«قَالَ نَعَمْ قَدْ أُمِرْتَ بِأَكْلِهَا»؛جبرئیل نے فرمایا : جی ہاں ! لیکن یہاں پر آپ کو کھانے کا حکم ہے ،پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم فرماتے ہیں : «فَأَفْلَقْتُهَا»؛ میں نے اس سیب کو کاٹا «فَرَأَيْتُ مِنْهَا نُوراً سَاطِعاً»؛ (یعنی سیب کو جب دو نصف کر لیا ) تو اس میں سے ایک نور دیکھا ، اس کے بعد فرماتا ہے :«فَفَزِعْتُ مِنْ ذَلِكَ النُّورِ»؛میں اس نور سے وحشت زدہ ہو گیا ، یعنی اس نور میں اتنی عظمت تھی کہ میں وحشت زدہ ہو گیا ، اور اس سیب سے ہی حضرت زہرا سلام اللہ علیہا کا وجود دنیا میں آنا ہے ،یہاں پر رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے جملہ پر توجہ فرمائيں( خداوند متعالی کے بعد عقل اول ہے اور خدا کے نور کے بعد ان سے بڑھ کر کوئی نور نہیں ہے ) وہ فرماتا ہے :«فَفَزِعْتُ مِنْ ذَلِكَ النُّورِ».«قَالَ كُلْ فَإِنَّ ذَلِكَ نُورُ الْمَنْصُورَةِ فَاطِمَةَ»؛ جبرئیل عرض کرتا ہے ، اس سیب کو نوش فرمائیں ، اس سیب میں فاطمہ سلام اللہ علیہا کا نور ہے «قُلْتُ يَا جَبْرَئِيلُ وَ مَنِ الْمَنْصُورَةُ؟ قَالَ جَارِيَةٌ تَخْرُجُ مِنْ صُلْبِكَ وَ اسْمُهَا فِي السَّمَاءِ الْمَنْصُورَةُ وَ فِي الْأَرْضِ فَاطِمَةُ»؛کیوں آسمانوں میں انہیں منصورہ کہا اور زمین میں فاطمہ کہا جاتا ہے ؟ ( یہاں پر آسمان میں منصورہ کہنے کی علت کو بیان نہیں کیا گیا ہے ، لیکن دوسری روایات میں یہ ذکر ہے ) صرف یہی فرماتے ہیں :«قَالَ سُمِّيَتْ فَاطِمَةَ فِي الْأَرْضِ لِأَنَّهُ فَطَمَتْ شِيعَتَهَا مِنَ النَّارِ»؛فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کے شیعیان آگ سے الگ ہوئے ہیں اور شیعوں کو آتش سے جدا کیا گیا ہے ، اس کے بعد فرماتا ہے :«وَ فُطِمُوا أَعْدَاؤُهَا عَنْ حُبِّهَا»؛یہ بہت ہی مہم نکتہ ہے یعنی آپ سلام اللہ علیہا کے دشمن آپ کے محبت سے جدا اور محروم ہوئے ہیں یعنی دشمنان کبھی بھی حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کی محبت کو اپنے اندر پیدا نہیں کر سکتے ہیں ۔
دشمن یہی کہتے ہیں کہ حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا بھی دوسرے خواتین کی طرح ایک خاتون ہے، یہاں پر جس محبت کی بات ہوئی ہے یہ اس معمولی محبت کی طرح نہیں ہے جو عام انسانوں سے کرتے ہیں ، حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کی نسبت جو محبت ہے اس کے لئے «بما لها من المقام»؛اس کا اپنا ایک خاص مقام ہے ، وہ بھی اس وجہ سے کہ یہ ایک ایسی نورانی خلقت ہے ، رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کا حضرت فاطمہ سلام اللہ علیہا سے محبت بھی اسی وجہ سے تھا،حضرت فاطمہ سلام اللہ علیہا کو چومتے تھے اور فرماتے تھے کہ مجھے فاطمہ سلام اللہ علیہا سے بہشت کی بو آتی ہے ، ایسی محبت مراد ہے ، لہذا میرا اصرار یہ ہے کہ ہم اپنے اندر ایسی محبت کو زیادہ کرے، حضرت فاطمہ سلام اللہ علیہا کی اس عظمت کو ہم اپنے اندر فکر اور ذہن میں ہر روز زیادہ سے زیادہ قرار دیں ، ہرسال اس سے پہلے والے سال کی نسبت فاطمیہ کو زیادہ سے زیادہ باشکوہ انداز میں برگزار کرے ، اور اپنے گھر والوں اور جدید نسل کو حضرت فاطمہ سلام اللہ علیہا سے زیادہ سے زیادہ آگاہ کرے، اور بعض لوگ آکر کچھ احقمانہ جو بات کرتے ہیں کہ اس وقت کیا گھروں کے دروازے بھی تھے یا نہیں ؟!یہ بہت ہی چھوٹی باتیں ہیں ، فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا ایک الگ مخلوق ہیں ، ان کی خلقت سے لے کر تمام مناقب اور فضائل سب مختلف ہیں ،کیا یہ ممکن ہے کہ کوئی مسلمان ایک ایسی ہستی کی طرف توجہ نہ کرے ؟مگر یہ ممکن ہے کہ شیعہ حضرت فاطمہ سلام اللہ علیہا کی نسبت بی تفاوت ہو، ایک ایسی ہستی اپنے والد گرامی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے بعد کتنی مدت زندہ رہے ؟ اس وقت کے اسلامی معاشرہ نے رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے رحلت کے بعد کونسا ایسا کام کیا تھا کہ بہت ہی کوتاہ مدت میں شہید ہوگئی؟یہ سب مسلم باتیں ہیں ، میں یہ پہلے بھی عرض کر چکا ہوں کہ "فاطمہ شناسی " حوزہ کے دورس میں سے ایک ہونا چاہئے ، حوزہ علمیہ میں جو بھی طلبہ تعلیم حاصل کر رہے ہیں اس کا حضرت فاطمہ سلام اللہ علیہا کے بارے میں مطالعات بہت زیادہ ہونا چاہئے ، جب یہ کہا جاتا ہے کہ حضرت زہرا سلام اللہ علیہا معصوم تھی اور ان کا مقام عصمت ہے ، تو اس میں کوئی شک و شبہہ نہیں ہونا چاہئے ، اور یہ اس کے لئے سوالیہ نشان نہیں ہونا چاہئے !حضرت زہرا سلام اللہ علیہا کے علمی مقام و منزلت ، قرآن کریم پر آپ کو جو تسلط حاصل تھی، مسجد میں آپ سلام اللہ علیہا نے جو خطبہ ارشاد فرمایا اس پر آپ توجہ دیں ، ایک خاتون ہے ابھی والد گرامی پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے رحلت کے چند روز ہی گزرے ہیں ، ابھی آپ مصیبت زدہ ہے ، کس قدر آپ نے قرآن کریم کی آیات سے تمسک کیا ہے ؟! کیا ایک عام انسان ایک خطبہ میں اتنی ساری آیات سے تمسک کر سکتا ہے ؟!یہ سب ان کی نوری خلقت کے لئے ہے ، حضرت زہرا سلام اللہ علیہا کے علم کی کیفت کے بارے میں ہمارے پاس کچھ روایات ہیں ، اور آپ عالم ما وراء سے کیسے ارتباط میں تھے اس بارے میں کچھ روایات ہیں، ان کے علم کے بارے میں ، ان کے محدثہ ہونے کے بار ے میں ،اسی طرح مصحف حضرت زہرا سلام اللہ علیہا یہ سب ایسی چیزیں ہیں کہ ان کے بارے میں ہمیں اچھی طرح آگاہ ہونا چاہئے ، یہ ایام فاطمیہ ایسے ایام ہیں کہ اگر ہم خدا سے نزدیک ہونا چاہتے ہیں تو حضرت زہرا سلام اللہ علیہا کی شناخت کے ذریعہ یہ ممکن ہے ، خدا سے تقرب پیدا کرنا حضرت زہرا سلام اللہ علیہا کے مقام کے اعترا ف کے بغیر ممکن نہیں ہے ، یہ مطلب ایک ایسا مطلب ہے کہ جو روز روشن کی طرح ہمارے لئے عیاں ہے،خدا سے تقرب اس عظیم خاتون کی شناخت کے بغیر ممکن نہیں ہے ، ہمارے عزاداری پہلے سے بہت زیادہ مفصل ہونا چاہئے ، اور ایام فاطمیہ کے عزاداری میں کوئي کمی نہیں ہونی چاہئے، اگر شیعوں کو زندہ رہنا ہے اور ترقی کی طرف گامزن رہنا ہے تو ان عزاداری کو باشکوہ انداز میں قائم رکھنا چاہئے ، ہمیں سوچنا چاہئے کہ کونسی عظیم شخصیت ان ایام میں ہم سے جدا ہوئے ہیں ، ان پر کیا کیا مظالم ڈھائے گئے ہیں کہ یہ مظالم قابل انکار بھی نہیں ہے ،ان ایام میں انسان کم از کم اسی کتاب بحار الانوار کو اٹھا کر دیکھ لیں ، اور اس میں حضرت زہرا سلام اللہ علیہا کے بارے میں جو روایات نقل ہیں ان کو پڑھ لیں ، انشاء اللہ ہم سب کو آپ سلام اللہ علیہا کی شفاعت نصیب ہو «و في السماء المنصورة ذَلِكَ قَوْلُ اللهِ فِي كِتَابِهِ وَ يَوْمَئِذٍ يَفْرَحُ الْمُؤْمِنُونَ بِنَصْرِ اللهِ بِنَصْرِ فَاطِمَةَ (سلام الله علیها)»؛ چونکہ سب کوحضرت زہرا سلام اللہ علیہا کی مدد حاصل ہوتی ہے لہذا یہ فرمایا ہے ۔
منبع : بحار الأنوار، ج 43، ص 18
ماخذ : بحار الأنوار، ج 43، ص 18
یقین کی نشانياں
تاریخ 16 February 2026 و ٹائم 18:15
یقین کی نشانياں
مرحوم کلینی نے کتاب کافی میں باب "الایمان و الکفر " میں ،باب «فضل الايمان على الاسلام واليقين على الايمان»میں پانچویں حدیث میں ذکر کیا ہے :"على بن ابراهيم،عن محمد بن عيسى، عن يونس،یہ روایت معتبر ہے ،قال:سألت اباالحسن الرضا (عليه السلام ) عن الايمان والاسلام؟ قال: فقال ابوجعفر (عليه السلام) ، آٹھویں امام فرماتا ہے ، امام باقر علیہ السلام نے فرمایا: انما هو الاسلام، و الايمان فوقه بدرجة و التقوى فوق الايمان بدرجة و اليقين فوق التقوى بدرجة"،جس چیز کے بارے میں انسان سب سے پہلے اعتقاد پیدا کرتا ہے وہ اسلام ہے ، اور اسلام سے ایک درجہ اوپر ، ایمان ہے ، اور ایمان سے ایک درجہ اوپر ، تقوی ہے ، اور تقوی سے ایک درجہ اوپر ، یقین کا درجہ ہے ۔
اور اسی روایت میں آگے جا کرفرماتے ہیں :و لم يقسم بين الناس شىء اقل من اليقين،خداوند متعال نے اپنے بندوں کو جتنی نعمتیں عطا کی ہیں ان میں سے سب کم جو دیا گیا ہے وہ یقین ہے ،قال: قلت فائ شىء اليقين ؟یقین کیا ہے ؟فرمایا: یقین کے چار ارکان ہیں : خدا پر توکل ، خدا کے سامنے سر تسلیم خم ہونا، خدا کے قضا وقد رپر راضی ہونا، اور سب کاموں کو اسی پر چھوڑنا ۔
ابو بصیر کی روایت میں ہے ، کہ امام علیہ السلام فرماتے ہیں : فما اوتى الناس اقل من اليقين وانما تمسکتم بادنى الاسلام فاياکم ان ينفلت من أيديکم،لوگوں نے اسلام کے کمترین درجہ سے تمسک کیا ہوا ہے ، آگاہ رہیں کہ یہی بھی اس کے ہاتھ سے نکل نہ جائے ۔
فقہ اورتفسیر میں ایک بحث ہے وہ یہ ہے کہ اسلام اور ایمان میں کیا فرق ہے ؟ اس روایت یا بعض دوسری آیات میں جو ایمان ذکر ہے ، کیا وہی اصطلاحی ایمان ہے جس کا امامیہ قائل ہے؟
کہ بولا جائے: ایمان یعنی ولایت پر اعتقاد رکھنا ، اور اسلام یعنی خدا، توحید اور نبوت پر اعتقاد ، ان کے معتقد کو مسلمان کہا جاتا ہے اور اس سے ایک درجہ اوپر اگر ولایت پر بھی ایمان ہو تو وہ مومن ہو جاتا ہے ؟یہ اصطلاح فقہ میں رائج ہے ، مثلا کہتے ہیں : کسی حلال جانور کو ذبح کرنے والے کے شرائط میں سے ایک اس کا مومن ہونا ہے ،یعنی شیعہ ہو ۔
البتہ ممکن ہے یہ بتایا جائے کہ وہ ایمان اور اسلام ایک ہی ہے ، جب خدا نے پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے فرمایا : "و ان لم تفعل فما بلغت رسالته"اس کا معنی یہ ہے کہ اگر کسی نے امامت کو قبول نہیں کیا ، تو گویا اس نے پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رسالت کا ہی انکار کیا ہے ، اس وقت ، اسلام ہی نہیں ہے ، اور اس میں کوئی شک و شبہہ بھی نہیں ہے ، لیکن اس معنی سے قطع نظر ، خود خدا کی نسبت ایک مرتبہ ہے کہ وہ مرتبہ اسلام ہے ، اور اس کا ظاہر یہی اسلام ہے جو شہادتین پڑھنے سے حاصل ہوتا ہے ، جب کسی انسان نے شہادتین کو پڑھ لیا تو وہ مسلمان ہو گیا ، لیکن ممکن ہے اس کے دل میں خدا پر ایمان نہ ہو ، ایمان ایک قلبی چیز ہے ، یعنی واقعا ًجو چیز زبان سے بولا جاتا ہے وہی چیز انسان کے قلب میں بھی ہو ۔
اس ایمان کے درجہ سے اوپر کیا ہے ؟ اسلام ظاہری شہادتین سے شروع ہوتا ہے ، اس کے بعد قلب میں ایمان میں تبدیل ہو جاتا ہے ، اور جب انسان کے اعضاء و جوارح میں ایمان ظاہر ہونے لگتا ہے ،یعنی واجبات کو انجام دیتا ہے اور محرمات کو ترک کرتاہے ،اس وقت متقی ہوتا ہے ، اور اس سے بالاتر درجہ یقین ہے ۔
میں اس مطلب کے بارے میں کچھ تاکید کرتا ہوں کہ توجہ فرمائيں: عاقل انسان وہ ہیں جو اس تلاش میں رہے کہ کمیاب ہیرے کہاں ہوتے ہیں تا کہ اسے پیدا کر لے ، انسان جب تنور والے کے پاس جاتا ہے تا کہ روٹی لے لیں ،اس کی فطرت یہ ہے کہ کوئی اچھی روٹی لے لیں ، جب وہ کپڑا خریدنا چاہتا ہے تو یہ کوشش ہوتی ہے کوئی خاص کپڑا خریدے ، اسی طرح ہم معنویات میں بھی بیٹھ کر سوچیں ، الحمد للہ ہم سب روایات کو پڑھ سکتے ہیں ، ہمارے ائمہ طاہرین علیہم السلام نے بہت ہی واضح اور کامل طور پر تمام مراحل کو ہمارے لئے درجہ بندی کرکے بیان فرمائے ہیں ، ایمان ، اسلام سے ایک درجہ اوپر ہے ، تقوا ، ایمان سے ایک درجہ بلند ہے ، اس کے بعد فرماتا ہے یقین ان سب سے بالاتر ہے ، اس کے بعد فرماتا ہے :آگاہ ہو جاؤ! خداوند متعال نے انسان کے لئے جتنی نعمتیں عطا کی ہیں ان سب میں سے کوئی بھی نعمت اتنی کم نہیں دی گئي ہے جتنی یقین کم اور محدود دی ہے ، ہمیں چاہئے اسے حاصل کرے ؛ اور اس یقین کی چار نشانیاں ہیں :
1۔خدا پر توکل؛ انسان اپنے تمام کاموں میں خدا کو اپنا وکیل قرار دے ، حتی کہ ایک علمی گفتگو میں بھی خدا کو اپنا وکیل قرار دیں ، کہ اسے اس ہدف تک پہنچے میں مدد کرے جس میں خدا کی رضایت ہو ۔
دنیوی امور میں تو بہت ہی سزاوار ہے کہ انسان ان کاموں میں خدا کو اپنا وکیل قرار ديں ، انسان کے لئے جو واقعات پیش آتے ہیں ، مال و دولت ہاتھ سے چلا جاتا ہے ، کوئی عزیز وفات پاتا ہے ، ان مصائب اور مشکلات کے اوقات میں انسان کو یہ دیکھنا چاہئے کہ آیا خداوند متعال اس کی قلب کو تسلی دیتا ہے یا نہیں ؟ یہ خدا پر توکل کا مقام ہے ، ایک دن معاشرہ میں اس کی عزت ہوتی ہے اور ایک دن وہ اسی معاشرہ میں ذلیل ہوتا ہے ، "یوم لک و یوم علیک" دونوں حالات میں آیا خدا پر توکل کرتا ہے یا نہیں ؟ خدا پر توکل کرنا بہت ہی مہم ہے ، انسان کو چاہئے کہ ہر حالت میں خدا کو اپنا وکیل قرار دے دیں ۔
2۔ توکل سے بالاتر مقام ، اس کے سامنے تسلیم ہونا ہے ، توجہ کریں ، وہ اسلام جو ابتداء میں ہے وہ کہاں ہے اور یہ تسلیم جو یقین کا دوسرا درجہ ہے وہ کہاں ؟ ! خدا کے سامنے تسلیم ہونا یعنی مشکلات میں شکوہ و شکایت نہ کرنا ، تسلیم یہ ہے کہ انسان مشکلات کے وقت شکوہ و شکایت کی زبان نہ کھولے ، بلکہ جو بھی پیش آئے اسی کو قبول کرے ۔
3۔ خدا کے قضاء وقدر پر راضی ہونا ۔
4۔ تمام کاموں کو خدا پر چھوڑ دینا
ماخذ : اصول کافی، ج 2، ص 51
خدا پر اطمینان حاصل ہونے کے شرائط
تاریخ 16 February 2026 و ٹائم 18:15
خدا پر اطمینان حاصل ہونے کے شرائط
تحف العقول میں ایک روایت نقل ہے جسے مرحوم مجلسی نے بھی بحار الانوار جلد 88 ، ص261 پر نقل کیا ہے ، کہ سفیان ثوری امام صادق علیہ السلام کی خدمت میں آیا اور عرض کیا : مجھے کچھ نصیحت فرمائے تا کہ میں اس پر عمل کروں ۔
حضرت نے بھی پہلے یہی فرمایا : اگر میں کوئی نصیحت کروں تو تم اس پر عمل کرو گے ؟اس میں ایک جملہ جس کے بارے میں تاکید بھی کرتا ہو وہ یہ ہے کہ آپ علیہ السلام نے فرمایا :«ثق بالله ...» ،خدا پر اطمینان رکھو ، تا کہ مقام خدا کے عارف کے درجہ پر فائز ہو جائے ، یہ بہت ہی اہم مطلب ہے اور بہت ہی مہم نصیحت ہے کہ انسان کو خدا پر اطمینان ہو۔
اگر کوئی واقعی میں خدا پر اطمینان حاصل کرنا چاہتا ہے ، تو اس کا پہلا شرط یہ ہے کہ ہمیشہ اسی کی طرف متوجہ رہے، جو شخص خدا سے غافل ہو وہ خدا پر اطمینان پیدا نہیں کر سکتا ، انسان کو ہمیشہ خدا کی طرف متوجہ رہنا چاہئے کہ «انا عبد و الله رب».، میں بندہ ہوں اور اللہ میرا رب ہے ۔
یہ بہت ہی مشکل ہے کہ جو کچھ کام ہم انجام دیتے ہیں ان سب میں چاہئے وہ دنیوی اور مادی زندگی ہو یا علمی مسائل، یا سیر و سلوک ، یا اجتماعی زندگی خدا کی طرف متوجہ رہیں ۔
یہ پہلا قدم ہے کہ اگر انسان خدا پر اطمینان رکھنا چاہتا ہے تو خدا کی طرف متوجہ رہنا چاہئے ۔
متوجہ رہنے کا دوسرا قدم یہ ہے کہ کم از کم یہ جان لیں کہ خدا ہی انسان کے تمام کاموں کی تدبیر اسی کے ہاتھ میں ہے اور وہ کسی بھی حالت میں بندہ کو چھوڑ نہیں دیتا ، مثلا _نعوذ باللہ _ ایک چرواہا نہیں ہے اپنے غلام کو چھوڑ دیں اور بولیں : تم خود جہاں جانا چاہتے ہو چلے جاو، اور جو مرضی ہے کرلو ۔
کبھی ہم غلطی بھی کر لیتے ہیں«إِنَّا هَدَيْناهُ السَّبيلَ إِمَّا شاكِراً وَ إِمَّا كَفُورا»،اب اختیار خود انسان کے ہاتھ میں ہے چاہئے سیدھے راستہ پر چلے جاو یا غلط راستہ پر ۔
جو "دائم الفيض " ہے «يا من وسعت رحمته کل شيء»، وہ ہستی جس کی رحمت دنیا کی سب چیز کو احاطہ کی ہوئی ہے ، ایسا نہیں ہے کہ وہ انسان کو آزاد چھوڑ دیں ،ہمیں اس دنیا میں خلق کیا گیا ہے ، حتی کہ کتابوں کے نازل ہونے کے بعد اور رسولوں کے مبعوث ہونے کے بعد بھی ہمیں آزاد رہا نہیں چھوڑا ہے اور "ولی اللہ " جو لوگوں پر خدا کی حجت ہے پھر بھی انسان کو آزاد رہا نہیں کیا ہے ۔
یہ مطلب ایک خاص مطلب ہے کہ ہم اس کی طرف متوجہ نہیں رہتے ،ہمیں جان لینا چاہئے کہ وہ ہمیشہ ہمارے بارے میں متوجہ ہے ، اگر اس کا بندہ پیغمبر ہے ، ان کو بھی یہ برداشت نہیں ہے کہ اس کی امت قیامت کے دن عذاب الہی میں گرفتار ہو جائے ، وہ بے انتہا شفیق اور مہربان ہے ۔
اس بارے میں ہمیں متوجہ رہنا چاہئے کہ خود اصل وجود ذات مقدس حق تعال کے بارے میں آگاہ رہیں اور اس بارے میں بھی کہ اس نے ہمیں رہا کیا ہوا نہیں ہے ۔
اگر یہ دو مرحلہ ہمارے اندر زندہ ہو جائے ، واقعا ہم متوجہ رہیں اور جو بھی قدم اٹھاتے ہیں اور جو بھی ہاتھ ہلاتے ہیں ، جو بھی صغیرہ اور کبیرہ انجام دیتے ہیں ان سب کے بارے میں وہ آگاہ ہے ، اور صرف دیکھتے رہنا نہیں ہے بلکہ اس سے بھی ایک مرحلہ اوپر ہے کہ وہ یہ نہیں چاہتا کہ ہم غلط راستہ پر واقع ہو جائے ۔
یہ انسان کی بدبختی ہے کہ خدا کے اتنے زیادہ توجہات کے باوجود وہ پھر بھی غلط راستہ پر چلا جاتا ہے اور خود کو خدا کے راستہ سے جدا کر لیتا ہے ، اس انسان میں کتنی شقاوت آجاتی ہے ، روایات ہیں کہ ہمارے بعض گناہوں کے اثرات یہ ہے کہ انسان دنیا اور آخرت میں متوجہ نہیں ہوتا ، اور خدا بھی انسان کی طرف توجہ نہیں کرتا ، یہ گناہ کا اثر وضعی ہے کہ خداوند اپنی نظر کو انسان سے پھیر لیتا ہے ۔
ہمیں جان لینا چاہئے کہ خدا یہ نہیں چاہتا ہے کہ جس وجود کو اس نے خلق کیا ہے وہ ضایع ہو جائے ، سارے اسرار اسی میں پوشیدہ ہے ، ایسا نہیں ہے کہ کسی باغبان کی طرح باغ میں دو پھول لگا لیں اور اس کے بعد بولے جو بھی ہو جائے ہونے دو ، نہیں ایسا نہیں ہے ، بلکہ وہ حکیم ہے ، اور وہ اپنے اس وجود کو ضایع ہونا نہیں چاہتا ، یہ ہم خود ہیں کہ اپنے ہاتھوں سے اپنے آپ کو ضایع کر دیتے ہیں اور نابود کر لیتے ہیں ۔
اگر یہ دو مطلب انسان کے اندر پایا جائے ، تو اسے اطمینان کا مقام حاصل ہو گا اور انسان خدا پر اطمینان پیدا کرے گا ،وہی انسان کی حیثیت ، عزت اوردوسرے تمام کاموں کا متکفل ہے ، یہ ہے مرحلہ اطمینان خدا۔
البتہ ایسا بھی نہیں ہے کہ انسان ہاتھ پر ہاتھ جوڑ کر بیٹھ جائے اور بولے : وہی ہمارے تمام کاموں کا متکفل ہے ، ہمارے اندر تو کوئی چیز نہیں ہے ، ایسانہیں ہے بلکہ اسے چاہئے کہ شرائط کو مہیا کرے ۔
اس روایت میں امام صادق علیہ السلام نے جو فرما یا ہے وہ یہ ہے کہ :«ثق بالله»،خدا پر اطمینان رکھا کرو ، «تکن عارفا»،عارف ہو جاوگے ، عارف یہ نہیں ہے کہ انسان بولے : میں چلہ کاٹا ہوں ، کسی تاریک جگہ پر چالیس دن بیٹھ جائے ، دوست اور اہل و عیال اور اجتماع سے دور ہوجائے ، او ر اسے چلہ کاٹنا نام رکھے ، مکتب اہلبیت میں ایسی کوئی چیز ہے ہی نہیں ہے ۔
ماخذ : بحار الانوار، ج 88، ص 261
امام صادق علیہ السلام کی فضیلت
تاریخ 16 February 2026 و ٹائم 18:15
امام صادق علیہ السلام کی فضیلت
امام صادق علیہ السلام ہمارے مذہب کے رئیس ہیں ، اور ہمیں اس پر فخر ہے کہ اس مذہب کا عنوان ، مذہب جعفری ہے ، حقیقت یہ ہے کہ ہم اپنے ائمہ اطہار علیہم السلام کے بارے میں جتنا شناخت رکھنی چاہئے اتنی شناخت پیدا نہیں کی ہے ۔
ان بزرگوں کی خدا کے ہاں جو مراتب اور درجات ہیں ان کو ہم نے نہیں پہچانا ہے ، اور کبھی بعض افراد سے کچھ ایسی باتیں سننے میں آتی ہے اور کچھ نظریات سامنے آتی ہے کہ انسان کو بہت دکھ پہنچتا ہے ، یہ لوگ ان بزرگوں کو عام انسانوں کی حد تک تنزل کر دیتے ہیں ، آپ ہمارے فقہ میں دیکھیں کہ امام صادق علیہ السلام سے کتنی روایات موجود ہیں ؟اول فقہ ( کتاب طہارت) سے لے کر آخر یعنی کتاب دیات تک امام صادق علیہ السلام سے روایت موجود ہے ؛ اور وہ بھی نہ صرف ایک دو حدیث بلکہ بہت ساری روایات موجود ہیں ، صرف باب حج میں آپ ملاحظہ فرمائيں ، زرارہ امام صادق علیہ السلام سے عرض کرتا ہے میں چالیس سال سے آپ سے حج کے احکام کے بارے میں سوال کر رہاہوں لیکن ابھی تک ختم نہیں ہوا ہے ؛ خانہ کعبہ کے کچھ محدود اعمال ہیں ، تو اس کے بارے میں اتنے سارے احکام ، اور اس کے لئے کیوں اتنے طویل زمان درکار ہو؟ آپ علیہ السلام نے فرمایا: تم کیا چاہتے ہو ؟ یہ گھر آدم کی خلقت سے دو ہزار سال پہلے محل طواف تھا ، اور تم چالیس سال میں اس کے احکام کو جاننا او ر سمجھنا چاہتے ہو ؟!یہ فروعی مسائل کے بارے میں ہے ، اعتقادی مسائل میں توحید سے لے کر معاد تک آپ ملاحظہ کریں امام صادق علیہ السلام سے کتنی روایات موجود ہیں ، انسان جب تصور کرتا ہے کہ اتنی ساری معلومات ایک عام آدمی سے ممکن نہیں ہے ، جب تک مبداء وحی سے متصل نہ ہو اور خداوند متعالی کا علم اس کے ساتھ نہ ہو ان تمام موارد میں جواب دینا ممکن نہیں ہے ، اگر ایک مجتہد سے بھی کسی فقہی مسئلہ کے بارے میں سوال کرے جس نے اپنی پوری عمر فقہ میں گزاری ہو ، وہ بھی عام طور پر یہی کہتا ہے کہ میں دوبارہ دیکھ کر بتاتا ہوں اور کتاب کی طرف مراجعہ کرنے کے بعد ہی وہ اظہار نظر کرتا ہے ۔
ماخذ :