نصحتیں اور قیمتی باتیں

اپنا سوال پوچھیں
انسان کو یقین حاصل ہونے کے اسباب
تاریخ 16 February 2026 و ٹائم 18:10

انسان  کو  یقین حاصل ہونے کے اسباب

قرآن کریم کی آیات اور آئمہ معصومین  علیہم  السلام کی روایات میں جن مطالب کے بارے میں بہت زیادہ اہمیت دی گئی ہے ان  میں سے ایک انسان کو یقین حاصل ہونا اور اس کا یقین کے مقام تک پہنچنا ہے ، اور بعض روایات سے استفادہ ہوتا ہے کہ جس طرح ایمان کا درجہ اسلام سے پہلے ہے اور تقوی  کا  درجہ ایمان سے پہلے ہے ، اسی طرح یقین  کا  درجہ تقوی سے پہلے ہے ، جب  تک  کوئی  شخص مومن نہ ہو وہ متقی نہیں ہو سکتا اور جب تک کوئي شخص متقی نہ  ہو وہ یقین کے درجہ پر نہیں پہنچ سکتا ، یقین ایک بہت ہی مہم مسئلہ ہے ، کہ بعض روایات میں نقل ہے   خدا کی  نعمتوں میں سے ایک چیز جو لوگوں کے درمیان بہت کم تقسیم ہوا ہے وہ یقین ہے ،«لم يقسم بين الناس شيءٌ اقل من اليقين»، یعنی بہت ہی کم افراد اس مرحلہ تک پہنچتے ہیں ۔

ابھی ہم جن حالات سے گزر  رہے  ہیں  علمی  لحاظ سے ہمیں یہ کوشش کرنی چاہئے کہ  ہمارے تمام کام یقین حاصل کرنے کے لئے ہو ، خداوند متعال کی نسبت وہ یقین جو انسان  میں ہونا چاہئے ، کہ بعض روایات میں یقین کے آثار کو توکل بیان کیا ہے ، یعنی جس  انسان کو یقین ہو واقعا وہ خدا پر توکل کرتا ہے ، وہ خدا کے سامنے سر تسلیم خم ہے اور خدا کے قضا ء وقدر پر راضی ہے ، اسی طرح اپنے کاموں کو خدا پر چھوڑ دیتا ہے ، یہ چار خصوصیات ان خصوصیات میں سے ہے کہ اگر کسی کے اندر وہ یقین ہو جو خدا کا منظور نظر ہے ، تو اس میں یہ آثار پایا جاتے ہیں ۔

یقین کے بارے میں روایات بہت زیادہ  ہیں ، میں صرف یادآوری کے طور پر یہ عرض کرنا چاہتا ہوں کہ ہمیں ایسا ہونا چاہئے کہ واقعا ہر روز ہمارے یقین میں پہلے دن کی نسبت اضافہ ہو ، ایسا نہیں ہے کہ یقین  کی ایک مقدار ہے ، اس مقدار تک جب پہنچ جائے تو اس کے بعد وہ ختم ہو جاتا ہو ، ایسا نہیں ہے بلکہ یقین کے مختلف مراتب اور درجات ہیں ۔

بحار الانوار میں ذکر ہوا ہے کہ  پیغمبر  اکرم   صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے عرض ہوا کہ ہمارے لئے نقل ہوا ہے کہ حضرت عیسی یا حضرت موسی (علیہما السلام) پانی پر چلتے تھے «يمشي  علي  الماء » ، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا : ان کے اندر جو  یقین  تھا، خدا  نے انہیں ایسی قدرت عطا کی تھی، اگر ان کے یقین میں اور اضافہ ہوتا تو «مشي علي الهواء»، ہوا پر بھی چلنے کی قدرت پیدا کر لیتے ، اس کے بعد فرمایا :انبیاء میں فرق اور ان کے فضیلت میں اختلاف ان کی اسی یقین کی وجہ سے ہے ، یعنی ہمارے پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا یقین تمام انسانوں ، اولیاء ، آئمہ  معصومین  اور سارے انبیاء سے  زیادہ تھے ، انبیاء میں بھی اس یقین کے مختلف  درجات ہیں ۔

یقین ایسی کوئی چیز نہیں ہے کہ یہ بتا یا جائے : میں ابھی یہ احساس کرتا ہوں کہ میں یقین کے مرحلہ پر پہنچا ہوں ،کہ اس  کے بعد کوئی اور چیز نہیں ہے ،«ليس فوقه شيء»،کبھی میں خود کو یہ نصیحت کرتا ہوں یا بعض دوستوں کو یہ یاد دھانی کرتا ہوں کہ ، ہمیں ان مسائل کے بارے میں واقعا سوچنا چاہئے ، یعنی اس بارے میں فکرمند رہنا چاہئے ، اگر ایک دن گزر گیا اور اس بارے میں ہم ایک قدم آگے  نہیں  بڑھ سکے ، تو اپنے آپ سے یہ بتانا چاہئے کہ دنیا ہمارے سروں پر امنڈ آئے تو  زیادہ نہیں ہے ۔

انسان کے  تمام کاموں میں اور دنیوی  مشاغل میں علم سے بہتر کوئی چیز پیدا نہیں کر سکتا ، اور وہ بھی کلی علم ، اور تمام علوم کے درمیان  بھی وہ علم جو وحی اور مبداء و معاد سے مربوط  ہو اس  سے بہتر کوئی علم پیدا نہیں کر سکتا ، خداوند متعال نے بھی ہمیں یہ توفیق عنایت فرمایا ہے اور ہمیں اس راہ میں قرار دیا ہے کہ ہمارے علوم مبداء اور معاد سے مربوط ہے ، مثلا ہم ایک قرآن کے "لا تفعل " کا معنی کرنا چاہتے ہیں ، کتنے اس میں زحمت کرنے کی ضرورت ہے ، آپ جب " لا تشرب " کا معنی کرنا چاہتا ہے ، تو دیکھنا چاہئے کہ کیسے اس  کا معنی کرے ، ہم اس معنی کو خدا سے نسبت دینا چاہتے ہیں ، یہ بتانا چاہتے ہیں کہ  خدا نے ایسا فرمایا ہے ، یہ کوئی کم چیز نہیں ہے ، بہت ہی اہم مسئلہ ہے ۔

ہم اس راستہ پر چل رہے ہیں تو سب  چیزوں سے قطع نظر ان کمالات کو اپنے اندر پیدا کرنا چاہئے ،کبھی ہم یہ کہتے ہیں ہم  درس پڑھتے ہیں تا کہ مجتہد ہو جائے اور مجتہد ہوتے ہیں تا کہ فتوا دے دیں ، بالفرض  ہم  نے فتوا بھی دے دیا ، ایک  کھرب   انسان  ہمارے  مقلد بھی ہو گئے ، اس کے بعد کیا ؟؟؟ حقیقت میں یہ انسان کے لئے کمال نہیں  ہے ، کہ یہ بتا یا جائے کہ انسان اس درجہ تک پہنچ گیا ہے کہ اس کے مقلد ہے ۔

ایک وقت میں نے اپنے والد گرامی سے ایک بات بتایا تھا ، انہوں نے اپنے باتوں میں مجھ سے فرمایا : تم یہ نہ سوچو کہ  کہیں پر اگر میرا مقلد بن جائے تو میں خوش ہوتا ہوں ، میں خوش نہیں ہوتا ہوں ، ان کی ذمہ داری میرے گردن پر آنے کی وجہ سے میں یقیناً پریشان ہوتا ہوں ، وہ لوگ جتنے اعمال انجام دیں گے ان سب کے بارے میں قیامت کے دن مجھ سے سوال ہوگا اور مجھے  ان  سب  کا  جوابدہ ہونا چاہئے ، حقیقتا بھی ایسا ہی ہے ، یہ ایسی چیز نہیں ہے کہ انسان  ان  سے  دل لگائے ۔

جی ہاں ! اگر انسان واقعی طور پر اس   یقین  اور نورانیت کو اپنے اندر احساس کرے ، اس کے آثار بھی ایسے ہی ہوں گے ، اور یقین کے آثار میں سے ایک توکل اور خدا کے سامنے سرتسلیم خم ہونا ہے ، ہم نے اپنے بزرگوں میں اس تسلیم کو بہت سارے واقعات میں دیکھ لی ہیں ۔

انسان کا علم کسی زمانہ میں اپنے  اوج   کو  پہنچتا ہے ، اور اس کے بعد سب چیزوں کو اس سے لے لیتا ہے ،«و من نعمره ننكسه»، انسان جب عمر کے آخر کو پہنچ جائے تو شایدوہ  حروف تہجی بھی  بھول جائے ،یہ سب ختم ہونے والی چیزیں ہیں ، لیکن یہ نفسانی ملکات کہ انہیں میں سے ایک بلکہ سب سے بہترین یقین ہے ، ہم  کوشش   کریں کہ اسے اپنے اندر ایجاد کرے ، امیر المومنین علیہ السلام فرماتے ہیں :«سل الله اليقين»، فرماتے ہیں : یقین کو خدا سے طلب کرو :«سل  الله اليقين و خير ما دام في القلب اليقين»،انسان کےدل میں سب  سے بہترین چیز جو باقی رہتی ہے وہ یقین ہے ، خدا ہم سب کو یہ نصیب فرمائے ۔

۳,۷۲۸ قارئين کی تعداد:

خدا پر اطمینان حاصل ہونے کے شرائط
تاریخ 16 February 2026 و ٹائم 18:10

خدا پر اطمینان حاصل ہونے کے شرائط

تحف العقول میں  ایک روایت نقل ہے جسے مرحوم مجلسی نے بھی بحار الانوار جلد 88 ، ص261 پر  نقل کیا ہے ، کہ سفیان ثوری امام صادق علیہ  السلام کی خدمت میں آیا اور عرض کیا : مجھے کچھ نصیحت فرمائے تا کہ میں اس پر عمل  کروں ۔

حضرت نے بھی  پہلے  یہی فرمایا : اگر میں کوئی نصیحت کروں تو تم اس پر عمل کرو گے ؟اس میں ایک  جملہ  جس  کے بارے میں تاکید بھی کرتا ہو وہ  یہ  ہے کہ آپ علیہ السلام نے فرمایا :«ثق بالله ...» ،خدا پر اطمینان رکھو ، تا کہ مقام خدا کے عارف کے درجہ پر فائز ہو جائے ، یہ بہت ہی اہم مطلب ہے  اور بہت ہی مہم نصیحت ہے کہ انسان کو خدا پر اطمینان ہو۔

اگر کوئی واقعی  میں  خدا  پر  اطمینان حاصل کرنا چاہتا ہے ، تو اس کا پہلا شرط یہ ہے کہ ہمیشہ  اسی  کی طرف متوجہ رہے، جو شخص خدا سے غافل ہو وہ خدا پر اطمینان پیدا نہیں کر سکتا ، انسان کو ہمیشہ خدا کی طرف متوجہ رہنا چاہئے کہ «انا عبد و الله رب».، میں بندہ ہوں اور اللہ میرا رب ہے ۔

یہ بہت  ہی  مشکل  ہے کہ جو کچھ کام ہم انجام دیتے ہیں ان سب میں چاہئے وہ دنیوی اور مادی زندگی ہو یا علمی مسائل، یا سیر و سلوک ، یا اجتماعی زندگی خدا کی طرف متوجہ رہیں ۔

یہ پہلا قدم ہے کہ اگر انسان خدا پر اطمینان رکھنا چاہتا ہے تو خدا کی طرف متوجہ رہنا چاہئے ۔

متوجہ رہنے کا دوسرا قدم یہ ہے کہ کم از کم یہ جان لیں کہ خدا ہی انسان کے تمام کاموں کی  تدبیر اسی  کے ہاتھ میں ہے اور وہ کسی بھی حالت میں بندہ کو چھوڑ نہیں دیتا ، مثلا _نعوذ باللہ _ ایک چرواہا نہیں ہے اپنے غلام کو چھوڑ دیں اور بولیں : تم خود جہاں جانا چاہتے ہو چلے جاو، اور جو مرضی ہے کرلو ۔

کبھی ہم غلطی بھی کر لیتے ہیں«إِنَّا هَدَيْناهُ السَّبيلَ إِمَّا شاكِراً وَ إِمَّا كَفُورا»،اب اختیار خود انسان کے ہاتھ میں ہے چاہئے سیدھے راستہ پر چلے جاو یا غلط راستہ پر ۔

جو "دائم الفيض " ہے «يا من وسعت رحمته کل شيء»، وہ ہستی جس کی رحمت دنیا کی سب چیز کو احاطہ کی ہوئی ہے ، ایسا نہیں ہے کہ وہ انسان کو آزاد چھوڑ دیں ،ہمیں اس دنیا  میں  خلق کیا گیا ہے ، حتی کہ کتابوں کے نازل ہونے کے بعد اور رسولوں کے مبعوث ہونے کے بعد بھی ہمیں آزاد رہا نہیں  چھوڑا ہے اور "ولی اللہ " جو لوگوں پر  خدا  کی  حجت  ہے پھر بھی انسان کو آزاد رہا نہیں کیا ہے ۔

یہ مطلب ایک  خاص مطلب ہے کہ ہم اس کی طرف متوجہ نہیں رہتے ،ہمیں جان لینا چاہئے کہ وہ ہمیشہ ہمارے بارے میں متوجہ ہے ، اگر اس کا بندہ پیغمبر ہے ، ان کو بھی یہ  برداشت نہیں ہے کہ اس کی امت قیامت کے دن عذاب الہی میں گرفتار ہو جائے ، وہ بے انتہا شفیق اور مہربان ہے ۔

اس بارے میں ہمیں متوجہ رہنا چاہئے کہ خود اصل وجود ذات مقدس حق تعال کے بارے میں آگاہ  رہیں  اور اس بارے میں بھی کہ اس نے ہمیں رہا کیا ہوا نہیں ہے ۔

اگر یہ دو مرحلہ  ہمارے اندر زندہ ہو جائے ، واقعا ہم متوجہ رہیں اور جو بھی قدم اٹھاتے ہیں اور جو بھی ہاتھ ہلاتے ہیں ، جو بھی صغیرہ اور کبیرہ انجام دیتے ہیں ان سب کے بارے میں وہ  آگاہ ہے ، اور صرف دیکھتے رہنا نہیں ہے بلکہ اس سے بھی ایک مرحلہ اوپر ہے کہ وہ  یہ  نہیں چاہتا  کہ ہم غلط  راستہ  پر واقع ہو جائے ۔

یہ انسان کی  بدبختی ہے کہ خدا کے اتنے زیادہ توجہات کے باوجود وہ پھر بھی غلط راستہ پر چلا جاتا ہے اور خود کو خدا کے راستہ سے جدا کر لیتا ہے ، اس انسان میں کتنی  شقاوت  آجاتی ہے ، روایات ہیں کہ ہمارے بعض گناہوں کے اثرات یہ ہے کہ انسان دنیا اور آخرت میں متوجہ نہیں ہوتا ، اور خدا بھی انسان کی طرف توجہ نہیں کرتا ، یہ گناہ کا اثر وضعی ہے کہ خداوند اپنی نظر کو انسان سے پھیر لیتا ہے ۔

ہمیں جان لینا چاہئے کہ خدا یہ نہیں چاہتا ہے کہ جس وجود کو اس نے خلق کیا ہے وہ ضایع ہو جائے ، سارے اسرار اسی میں پوشیدہ ہے ، ایسا نہیں ہے کہ کسی باغبان کی طرح باغ میں دو پھول لگا لیں اور اس کے بعد بولے جو بھی ہو جائے ہونے دو ، نہیں ایسا نہیں ہے ، بلکہ وہ حکیم ہے ، اور وہ اپنے اس وجود کو ضایع ہونا نہیں چاہتا ، یہ ہم خود  ہیں  کہ  اپنے  ہاتھوں  سے اپنے آپ کو ضایع کر دیتے ہیں اور نابود کر لیتے ہیں ۔

اگر یہ  دو  مطلب  انسان کے اندر پایا جائے ، تو اسے اطمینان کا مقام حاصل ہو گا اور انسان خدا پر اطمینان پیدا  کرے گا ،وہی انسان کی حیثیت ، عزت اوردوسرے تمام کاموں کا متکفل ہے ، یہ ہے مرحلہ اطمینان خدا۔

البتہ ایسا  بھی  نہیں  ہے کہ انسان ہاتھ پر ہاتھ جوڑ کر بیٹھ جائے اور بولے : وہی ہمارے تمام کاموں کا متکفل ہے ، ہمارے اندر تو کوئی چیز نہیں ہے ، ایسانہیں ہے بلکہ اسے چاہئے  کہ   شرائط کو مہیا کرے ۔

اس روایت  میں   امام صادق علیہ السلام نے جو فرما یا ہے وہ یہ ہے کہ :«ثق بالله»،خدا  پر  اطمینان  رکھا کرو ، «تکن عارفا»،عارف ہو جاوگے ، عارف یہ  نہیں  ہے کہ  انسان بولے : میں چلہ کاٹا ہوں ، کسی تاریک جگہ پر چالیس دن بیٹھ جائے ، دوست اور اہل و عیال اور اجتماع سے دور ہوجائے ، او ر اسے چلہ کاٹنا نام رکھے ، مکتب  اہلبیت  میں ایسی کوئی چیز ہے ہی نہیں ہے ۔


 

ماخذ : بحار الانوار، ج 88، ص 261

۲,۳۶۰ قارئين کی تعداد:

امام صادق علیہ السلام کی فضیلت
تاریخ 16 February 2026 و ٹائم 18:10

امام صادق  علیہ السلام کی  فضیلت

امام صادق  علیہ السلام ہمارے مذہب کے رئیس ہیں ، اور ہمیں اس پر فخر ہے کہ اس مذہب کا عنوان ، مذہب جعفری ہے ، حقیقت یہ ہے کہ  ہم اپنے ائمہ اطہار علیہم السلام کے بارے میں جتنا شناخت رکھنی چاہئے اتنی شناخت پیدا نہیں کی ہے ۔

ان بزرگوں کی خدا کے ہاں جو مراتب اور درجات ہیں ان کو ہم نے نہیں پہچانا ہے ، اور کبھی بعض افراد سے کچھ ایسی باتیں سننے میں آتی ہے اور  کچھ نظریات سامنے آتی ہے کہ انسان کو بہت  دکھ  پہنچتا  ہے ، یہ لوگ  ان بزرگوں کو عام انسانوں کی حد تک تنزل کر دیتے ہیں ، آپ ہمارے فقہ میں دیکھیں کہ امام صادق علیہ السلام سے کتنی روایات موجود ہیں ؟اول فقہ ( کتاب طہارت) سے لے کر آخر یعنی کتاب دیات تک امام صادق  علیہ السلام سے روایت موجود ہے ؛ اور وہ بھی نہ صرف ایک دو حدیث بلکہ بہت ساری روایات موجود ہیں ، صرف باب حج میں آپ ملاحظہ فرمائيں ، زرارہ امام صادق علیہ السلام سے عرض کرتا ہے میں چالیس سال سے آپ سے حج کے احکام کے بارے میں سوال کر رہاہوں لیکن ابھی تک ختم نہیں ہوا ہے ؛ خانہ کعبہ کے کچھ محدود اعمال ہیں ، تو اس کے بارے میں اتنے سارے احکام ، اور اس کے لئے کیوں اتنے طویل زمان درکار ہو؟ آپ علیہ السلام نے فرمایا: تم کیا چاہتے ہو ؟ یہ گھر آدم کی خلقت سے دو ہزار سال پہلے محل طواف تھا ، اور تم چالیس سال میں اس کے احکام کو جاننا او ر سمجھنا چاہتے ہو ؟!یہ فروعی مسائل کے بارے میں ہے ، اعتقادی مسائل میں توحید سے لے کر معاد تک آپ ملاحظہ کریں امام صادق علیہ السلام سے کتنی روایات موجود ہیں ، انسان جب تصور کرتا ہے کہ اتنی ساری معلومات ایک عام آدمی سے ممکن نہیں ہے ، جب تک مبداء وحی سے متصل نہ ہو اور خداوند متعالی کا علم اس کے ساتھ نہ ہو ان تمام موارد میں جواب دینا ممکن نہیں ہے ، اگر ایک مجتہد سے بھی کسی فقہی مسئلہ کے بارے میں سوال کرے جس نے اپنی پوری عمر فقہ میں گزاری ہو ، وہ بھی عام طور پر یہی کہتا ہے کہ میں دوبارہ دیکھ کر بتاتا ہوں اور کتاب کی طرف مراجعہ کرنے کے بعد ہی وہ اظہار نظر کرتا ہے ۔



ماخذ :

۲,۳۲۲ قارئين کی تعداد:

امام صادق علیہ السلام کی نظر میں علماء کی قدر و منزلت
تاریخ 16 February 2026 و ٹائم 18:10

امام صادق علیہ السلام کی نظر میں علماء کی قدر و منزلت

یہ ایام  رئیس مذہب امام صادق  علیہ السلام کی شہادت کے ایام ہیں ، ایک ایسی  مبارک ہستی کہ یہ تمام حوزات علمیہ اور وہ تمام علوم جن پر شیعہ آج فخر و مباہات  کرتے ہیں انہی  امام علیہ السلام کی پر برکت  حیات سے ہے ، آپ دیکھیں کہ ہمارے پاس اس مبارک ہستی سے کتنی روایات موجود ہیں ، کتنے اصحاب ، اشخاص اور بزرگوں نے آپ  علیہ السلام سے تمام فقہی مسائل میں روایات کو ہمارے لئے بیان کيے ہیں ۔

میں یہاں پر دو مطلب کے بارے میں کچھ عرایض پیش کرنا چاہتا ہوں ؛ ایک مطلب یہ ہے کہ حافظان دین کی تکریم اور احترام کے بارے میں امام صادق علیہ السلام کی سیرت کیا تھی، اس بارے میں ہمیں توجہ دینے کی ضرورت ہے ۔

جو لوگ امام صادق علیہ السلام کی نظر میں دین کے حافظ تھے آپ کے نزدیک ان کی کیا حیثیت تھی ، یہ مطلب ہم طلاب علوم دینی  کے لئے بہت اہم ہے کیونکہ ہم سب کا  دعوا ہے کہ ہم دین کی حفاظت  کے راستہ میں آئے ہیں اور اس راستہ  میں  اپنی زندگی گزار رہے ہیں ،اس بارے میں توجہ کرنے سے خود ہمیں بھی اپنے کام کی قدر و قیمت کا اندازہ ہوتا ہے اور دوسروں کے لئے بھی ان کی ذمہ داری مشخص ہو جاتی ہے ، جب ایک انسان کو معلوم ہوتا ہے کہ حافظان دین کی امام صادق علیہ السلام کے نزدیک  اتنی  زیادہ اہمیت ہے ، تو اس کے بعد علماء اور مراجع کو بھی ایک عام آدمی نہیں  سمجھیں گے  ، اور ان کی اعتبار اور قدر و منزلت کو دوسرے لوگوں کے برابر قرار نہیں  دیں گے  ، اس بارے میں ،میں چند روایات کو نقل کرتا ہوں ؛

فضل بن عبد الملک کہتا ہے : «سمعت ابا عبدالله عليه السلام يقول أَحَبُّ النَّاسِ إِلَيَّ أَحْيَاءً وَ أَمْوَاتاً أَرْبَعَةٌ بُرَيْدُ بْنُ مُعَاوِيَةَ الْعِجْلِيُّ وَ زُرَارَةُ وَ مُحَمَّدُ بْنُ مُسْلِمٍ وَ الْأَحْوَلُ وَ هُمْ أَحَبُّ النَّاسِ إِلَيَّ أَحْيَاءً وَ أَمْوَات»، میرے نزدیک محبوترین لوگ چاہئے وہ زندہ ہو یا دنیا سے چلے گئے ہوں ، چار نفر ہیں : بُريد، زراره، محمد بن مسلم و احوَل.

جمیل بن دراج کی روایت میں فرماتا ہے : «بَشِّرِ الْمُخْبِتِينَ بِالْجَنَّةِ بُرَيْدُ بْنُ مُعَاوِيَةَ الْعِجْلِيُّ وَ أَبُو بَصِيرٍ لَيْثُ بْنُ الْبَخْتَرِيِّ الْمُرَادِيُّ وَ مُحَمَّدُ بْنُ مُسْلِمٍ وَ زُرَارَةُ أَرْبَعَةٌ نُجَبَاءُ أُمَنَاءُ اللَّهِ عَلَى حَلَالِهِ وَ حَرَامِهِ لَوْ لَا هَؤُلَاءِ انْقَطَعَتْ آثَارُالنُّبُوَّةِ وَانْدَرَسَتْ»؛امام صادق علیہ السلام نجبای اربعہ ( چار نجیب افراد) کا نام لیتے ہیں اور فرماتے ہیں ؛ اگر یہ چار نہ ہوتے تو آثار نبوت  ختم ہو جاتے ، یہ چار نفر ،بریدبن معاویہ عجلی ، محمد بن مسلم ، زرارہ  ابا بصیر  اور لیث بن بختری مرادی ہیں ۔

داود بن صرحان امام صادق علیہ السلام سے نقل کرتا ہے : «إنّه قال إنّ أصحاب أبيه كانوا زيناً أحياءاً و اموات»؛ امام صادق علیہ  السلام فرماتا ہے : میرے پدربزرگوار امام باقر علیہ السلام کے اصحاب دین اور لوگوں  کی  زینت ہیں ، زندہ ہوں یا دنیا سے چلے گئے ہوں ، یہ تاکید اس چیز کی طرف اشارہ ہے کہ ان افراد کی اہمیت صرف ان کی حیات پر منحصر نہیں ہے بلکہ جب دنیا سے چلے جائے تب بھی ان کی اہمیت باقی ہے ، اس کے بعد آپ (ع) ان چار افراد کے نام لیتے ہیں :زراره، محمد بن مسلم، ابو بصير و بريد. ، اس کے بعد فرماتا ہے: «هولاء القوامون بالقسط، هولاء القوالون بالصدق»؛ یہ لوگ عدالت برپا کرنے والے ہیں ، یعنی یہ اشارہ ہے اس قائمین قسط کی طرف جو قرآن کریم میں ذکر ہے : هؤلاء السابقون السابقون اولئك المقربون اينها السابقون السابقون "؛ اب کوئی شخص پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے زمانہ میں تھا ، لیکن آپ کے راستہ پر صحیح طرح نہیں چلا ہے ، لیکن پھر بھی یہ بتایا جائے کہ چونکہ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانہ میں تھا تو یہ خود بخود عنوان السابقون السابقون میں داخل ہوتا ہے ؛ ایسا نہیں ہے !السابقون السابقون وہ لوگ ہیں جو دین کی حفاظت کرنے ، دین کو بیان کرنے اور دین کو قوت پہنچانے میں دوسروں سے سبقت لے لیں ، یہاں پر زمان کے لحاظ سے پہلے ہونا مراد نہیں ہے ، کہ یہ بتایا جائے چونکہ ایک شخص زمان کے اعتبار سے دوسرے سے مقدم ہے ، تو یہ اسی اعتبار سے مقدم ہوگا ، ایسا نہیں ہے ۔

ایک اور روایت جو پہلے کی روایات کی نسبت کچھ مفصل ہے ، اس میں جمیل بن دراج کہتا ہے : میں ایک دن امام صادق علیہ السلام کی خدمت میں شرفیاب ہوا تو ایک شخص وہاں سے نکل کر جا رہا تھا ، حضرت (ع) نے مجھ سے فرمایا : «لقيت الرجل الخارج من عندي» ؛ جو شخص یہاں سے نکل کر جا رہا تھا کیا تم نے اس کو دیکھا ؟ «فقلت بلي» ؛ عرض کیا : جی ہاں ! «هو رجلٌ من اصحابنا من أهل الكوفه» ؛ پہلے جمیل نے کہا یہ شخص ہمارے افراد میں سے ہے اور اہل کوفہ ہے ، امام علیہ السلام نے فرمایا : «لا قدّس الله روحه و لا قدّس مثله» ؛خدا  اس کی روح کی تزکیہ نہ کرے ! یہ یا نفرین ہے ، یا یہ بھی وہ دعا ہے جو ہم عام طور پر کرتے ہیں : قدس الله نفسه، حضرت فرماتا ہے : یہ دعا اس شخص کے لئے نہ ہو ، یہ نفرین سے ایک درجہ کم ہے !یا یہ نفرین ہی ہے کہ ممکن ہے ایسا ہی ہو ، یا یہ بتایا جائے کہ حضرت اس کو نفرین کرنا نہیں چاہتا تھا بلکہ  نفرین سے ایک درجہ کم کو بیان فرمایا ہے ، یعنی یہ دعا جو اولیاء خدا کے لئے ہے ، ایسے افراد کے لئے نہ ہو !«إنّه ذكر اقوام» ؛اس کے بعد حضرت اس شخص کو نفرین کرنے کی علت کو بیان فرماتا ہے ۔

فرماتے ہیں اس کی علت یہ ہے کہ اس شخص نے میرے سامنے ان افراد کو برا بھلا کہنا شروع کیا جو میرے والد بزرگوار کے امین اور مورد اطمینان تھے ، اور میرے والد گرامی ان پر اعتماد کرتے تھے «ذكر اقوام» یعنی ان کی عیب جوئی کی «كان أبي ائتمنهم علي حلال الله وحرامه»  ان افراد کی برائی کی جو میرے والد کے ہاں خدا کے حلال اور حرام پر امین تھے «و كانوا عيبة علمه»  یہ لوگ میرے باپ کے علم کے مخزن تھے «و كذلك اليوم هم مستودع سرّي» آج بھی میں اپنی اسرار کو ان کے پاس امانت رکھتا ہوں ، دین کے تمام اسرار کو میں ان تک منتقل کرتا ہوں «اصحاب أبي حقّاً إذا أراد الله لأهل الأرض سوءاً صرف بهم عنهم السوء»یہ  ایسے لوگ ہیں کہ اگر خداوند متعال روئے زمین کے تمام لوگوں پر عذاب نازل کرنا چاہئے تو انہیں چار نفر کی برکت سے عذاب کو ان سے ٹال دے گا «هم نجوم شيعتي احياءاً و اموات» یہ میرے شیعوں کے ستارے ہیں زندہ ہو  یا اس دنیا سے چلے جائے «يحيون ذكر أبي» یہ لوگ میرے والد اور اجداد کے ذکر کوزندہ رکھنے والے ہیں «بهم يكشف الله كلّ بدعةٍ»لوگوں کے لئے جو بھی بدعت پیش آتی ہے وہ ان لوگوں کے ذریعہ واضح ہوجاتی ہے ، یہ لوگ کاشف بدعت ہیں «ينفون عن هذا الدين إنتحال المبطلين و تعوّل الغالين» یہ لوگ ان لوگوں کو اس دین سے جدا کرتے ہیں جو حقیقتا متدین نہیں ہیں لیکن اپنے آپ کو اس دین سے منسوب کرتے ہیں اور بغیر کسی ملاک اور معیار کے اس دین سے اپنے آپ کو منسوب کرتے ہیں ،ان سب کو یہ لوگ اس  دین سے جدا کرتے ہیں ۔

حدیث  کے باقی  حصوں کو بیان کرنے سے پہلے یہاں پر ایک مطلب کو بیان کروں ؛ اگر واقعا کسی زمانہ  میں  زرارہ ،محمد بن مسلم اور برید وغیرہ میں یہ خصوصیات تھیں جسے امام صادق علیہ السلام بیان فرما رہے ہیں ، اور چونکہ کسی شخص نے ان کی برائی کی تھی تو امام علیہ  السلام اس شخص کو نفرین کرتا ہے ، ہمارے زمانہ میں کون  لوگ حافظان دین ہیں ؟ ہمارے زمانہ میں کونسے مراکز اور کون لوگ دین کی حفاظت کو اپنے ذمہ لیے ہوئے ہیں ؟ علماء ، حوزات علمیہ ، بزرگان اور مراجع عظام، دین کے حافظان ہیں ، اور یہ «لاقدّس الله مثله ولاقدّس الله روحه» وہی نفرین ہے جسے اس زمانہ میں امام صادق علیہ السلام نے کیا ہے ، یہ ہمارے زمانہ میں بھی ان لوگوں کو شامل ہوتا ہے جو مراجع عظام کی نسبت بے اعتنائی کرتے ہیں اور ہمیشہ یہ کوشش کرتے ہیں کہ جو کچھ یہ حضرات بیان کرے ان کے خلاف کچھ بولے، آج خدا کے حلال اور حرام کے امین کون ہیں ؟ ہمارے مراجع حجاب اور پردہ کے بارے میں اتنے  زیادہ  فریاد کرتے ہیں اور اس بارے میں پریشانی کا اظہار کرتے ہیں ، لیکن اس کے بالکل  مقابلہ  میں مختلف قسم کے بیانات ، مجلات اور دوسری چیزیں نشر ہوتے ہوئے نظر آتے ہیں ۔

امام علیہ السلام اس روایت میں آگے فرماتے ہیں : «ثم بكي»بہت ہی عجیب ہے ،کسی شخص نے جب زرارہ کی برائی کی ، محمد بن مسلم اور برید کی برائی کی تو  امام صادق علیہ السلام  اتنے زیادہ  ناراض ہوتے ہیں اور اس کے مقابلہ میں آتے ہیں اور بعد میں گریہ بھی کرتا ہے کہ کیوں ایسا ہوا ہے ؟

روایت  میں  فرماتا ہے :«عليهم صلوات الله و رحمته أحياءاً و اموات»یہ لوگ زندہ ہو یا اس دنیا سے چلے جائے خدا کی صلوات اور رحمت ان پر ہو ، یہ ہمارے کام کی اہمیت کو ہمارے لئے بیان کرتا ہے ، یہ عظیم دورس جو حوزات علمیہ میں موجود ہیں یہ سب اس لئے ہے کہ ہم چاہتے ہیں حلال اور حرام کو جان جائے !اس سے بڑھ کر کوئی افتخار نہیں ہے کہ انسان کا وجود خدا کے حلال اور حرام کا امین قرار پائے ، خدا کے حلال اور حرام کا حافظ قرار پائے ، اگر کسی جگہ دیکھ لیا ہے حلال ہے تو بیان کرے حلال ہے اور اگر دیکھ لیا حرام ہے تو اس کا مقابلہ کرے! اور اس کو بیان کرنے میں کوئی ڈر اور خوف محسوس نہ کرے ،بنیادی طور پر حلال اور حرام کے امین کی خصوصیات ہی یہی ہے  کہ ان میں کوئی خوف اور ڈر نہیں ہوتا ، اگر کوئی کسی خوف اور ڈر کی وجہ سے کسی چیز کے حرام کو بیان نہ کرے سکے کہ کہیں اس سے مقابلہ نہ کرے ، کہیں اس کی جو عزت و احترام ہے وہ ختم نہ ہو جائے ، تو اس کے بعد یہ امین نہیں ہے ! حلال اور حرام میں خدا کے امین  وہ لوگ ہیں جو اگر کوئی چیز واقعا حلال ہے تو بیان کرے یہ حلال ہے اور اگر کوئی چیز حرام ہے توبیان کرے یہ حرام ہے اور اس کو بیان کرنے میں کسی سے نہ ڈرے۔

اسی منصور دوانیقی کے بارے میں نقل ہے کہ  ایک دن اس نے امام صادق علیہ السلام کی خدمت میں عرض کیا : «لم لا تغشانا كما يغشانا ساير الناس» ، جس طرح دوسرے سارے لوگ ہمارے پیچھے آتے ہیں ، ہارے پاس آتے ہیں اور ہمارے ساتھ بیٹھ جاتے ہیں ،کیوں آپ لوگ نہیں آتے ؟آپ نے جواب میں فرمایا :«ليس لنا ما نخافك من اجله» ،بہت اچھا جواب ہے ، فرمایا : ہمارے پاس کوئی ایسی چیز نہیں ہے جس کی وجہ سے تم سے ڈر لگے ، یعنی ہمیں کوئی خوف اور ڈر نہیں ہے کہ اس خوف کی وجہ سے تمہارے پاس آجائیں تا کہ محفوظ رہے «و لا عندك من أمر الأخرة ما نرجوك له»  اور آخرت کے لحاظ سے تمہارے پاس کوئي ایسی مہم چیز  نہیں ہے کہ ہم اس کی امید سے تمہارے پاس آجائيں تا کہ یہ بولے کہ تمہارے پاس آنے سے خدا کے پاس ہمارے لئے ثواب ملے گا ، اگر تمہارے پاس آجائے تو خدا سے تقرب حاصل ہو گا ، ہماری آخرت کے لئے فائدہ مند ہو ، کوئي ایسی چیز بھی تمہارے پاس نہیں ہے «و لا أنت في نعمةٍ فنهنّيك عليه» ایسا بھی نہیں ہے کہ تمہارے پاس ایسی نعمت  ہو کہ ہم آکر تمہیں اس کی مبارک بادی پیش کرے ، اور یہ عمومی نعمتیں تو سب کے پاس ہے ، اب اگر لوگو کے اموال کو تم نے لے کر کھایا ہے اور ناحق طور پر ان کو خرچ کیا ہے تو یہ تمہارے لئے عذاب ہے «و لا تراها نقمةٌ فنعزيك»اور تم پرکوئی مصیبت بھی نہیں آئی ہے کہ میں تسلیت کے لئے تمہارے پاس آجاؤں ، ملاحظہ فرمائيں کہ امام علیہ السلام کیسے جواب دے رہا ہے ، یہ ان لوگوں کی خصوصیات میں سے ہے جو خدا وند تبارک و تعالی میں محو ہوتے ہیں ، یہ حضرات یہ نہیں دیکھتے کہ ان کے پاس جانا ان کے لئے دنیوی کوئی فائدہ ہےیا نہیں ہے ؟

بلکہ یہ دیکھتے ہیں کہ کیا ان کے پاس جانا ان کے آخرت کے لئے فائدہ ہے یا نہیں ، ہمارا ملاک اور معیار بھی یہی ہونا چاہئے ،لوگوں کے ساتھ ہمارے ارتباط میں ملاک اور معیار اور بنیاد یہی چیز ہونی چاہئے ،اگر کسی سے ارتباط قائم کرنا چاہئیں تو دیکھیں واقعا علمی لحاظ سے ان کے پاس کچھ معلومات ہیں جن سے ہم استفادہ کر سکيں  یا نہیں ہے ؟ تقوا کے لحاظ سے اس کےساتھ ہونے کا کچھ فائدہ ہے یا نہیں ؟ حوزات علمیہ میں ایک چیز جو پہلے تھی لیکن اب نہ صرف وہ ختم ہو چکا ہے بلکہ ایک بری چیزی اس کے جگہ پر آیا ہے !پہلے حوزات میں یہ دیکھا جاتا تھا کہ کس نے اپنی عمر کو تہذیب  نفس میں گزارا ہے ، اپنی عمر کو خدا کے لئے درس دینے میں گزارا ہے ، خدا کے لئے زحمت اٹھایا ہے ، اس کے تلاش میں رہتے تھے اور اس سے معنوی طور پر بہرہ مند ہوتے تھے ، لیکن اب یہ چیز نہیں ہے !آپ خود بتائيں  اس وقت  حوزہ میں  ہم میں سے کتنے ایسے ہیں جو کسی ایسے شخص کے پيچھے گئے ہوں جو مہذب ہو اور جس نے اپنی عمر کو تہذیب میں گزارا ہو ، یا کسی ایسے شخص کے پاس گئے ہوں  جو ہمیں ایسے افراد کی نشاندہی کرے !لیکن اس کے مقابلہ میں کچھ بے بنیاد خواب ، جعلی کرامات ، اور جعلی چیزوں کے پیچھے چلے جاتے ہیں ، واقعا ہمیں یہ دیکھنا چاہئے کہ ہم لوگوں سے جو ارتباط قائم کرتے ہیں یہ ارتباط کس محور پر ہونا چاہئے ؟ کسی ذمہ دار شخصیت سے رابطہ رکھنا چاہتے ہیں ، کیا یہ رابطہ خدا کے لئے ہے ؟ کیا یہ انقلاب کی خدمت کے لئے ہے ؟ یا نہیں اس رابطہ میں بھی ہمارے دنیوی مقاصد ہوتے ہیں ، بلکہ ہم چند دن بعد کسی  عہدہ پر فائز ہونا چاہتے ہیں ، کہیں ہم بھی ایسے مسائل کے پیچھے تو نہیں ہیں ؟!!

یہ امام صادق علیہ السلام کا دین کے حافظوں کی نسبت عملی سیرت ہے  اور ان افراد کے ساتھ بھی  آپ علیہ السلام کی سیرت ہے جو دین کے کام نہیں آتے جیسے منصور دوانیقی، ملاحظہ فرمایا کہ امام علیہ السلام نے کس طرح اس سے برتاؤ کیا ، کیسا جواب دیا ، یہ ایک مطلب ہے ۔

دوسرا مطلب : ایک جامع وصیت ہے کہ امام صادق علیہ السلام نے اپنے فرزند گرامی امام کاظم علیہ السلام کے لئے کیا ہے کہ آپ اس میں فرماتے ہیں : «يا بنيّ إقبل وصيّتي واحفظ مقالتي فإنّك إن حفظتها تعيش سعيدا و تموت حميدا، يا بنيّ من رضي بما قسّم له استغني، من مدّ عينه إلي ما في يد غيره مات فقير۔۔۔۔۔۔۔»  اے میرے بیٹا ! میری وصیت کو سن لیں اور اس پر عمل کریں ، اگر تم نے اسے سن لیا اور عمل کیا تو سعادتمند زندگی گزاروگے اور سب تعریف کرتے ہوئے اس دنیا سے چلے جاو گے ، اے بیٹا!جو شخص اس  رزق و روزی پر راضی ہوا جو اسے نصیب ہوئی ہے وہ بے نیاز ہوا ، لیکن جس نے اپنی آنکھ کو دوسروں کی ہاتھوں کی طرف کر لیا وہ فقیر مر ے گا ۔۔۔۔۔۔

۲,۱۷۲ قارئين کی تعداد:

حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کی فضلیت
تاریخ 16 February 2026 و ٹائم 18:10


                                                                  حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا  کی فضلیت

شیعہ  کی حقیقت  حضرت زہرا سلام اللہ علیہا  کی مرہون منت ہے اور شیعہ کی بقاء اور استمرار اور سب کچھ حضرت زہرا سلام اللہ علیہا  کی برکت سے ہے ، اس بات سے قطع نظر کہ تمام آئمہ اطہارعلیہم السلام آپ کے اولاد ہیں ، ( البتہ اسے  بتا رہا ہوں وگرنہ بہت سارے حقایق اسی میں پوشیدہ ہے ، کلی طور پر مسئلہ امامت اور آئمہ طاہرین علیہم السلام ایک بہت مہم مسئلہ ہے ، ہمارے دین میں امامت ایک اصل کے عنوان سے بیان ہوا ہے ) لیکن خود حضرت زہرا سلام اللہ علیہا  کی شناخت اور آپ کے ابعاد وجودی کے بارے میں آگاہی پیدا کرنا خود ایک بہت بڑا میدان ہے جس کی کوئی انتہاء نہی ہے ، انسان اس میں کسی انتہاء تک نہیں پہنچ سکتا  ، ہمیں چاہئے کہ حضرت زہرا سلام اللہ علیہا  کی نسبت زیادہ سے زیادہ  شناخت پیدا کرے ، یہ ایام جو  آپ کے عزاداری  کے ایام ہیں ،یہ ظلم و ستم جو آپ پر ڈھائے گئے ، ان مصائب کو ذکر کرنے کے ساتھ ساتھ کچھ حد تک آپ سلام اللہ علیہا  کی مقام و منزلت کو بھی جان لیں ، کتاب بحار الانوار ( جلد 43 کہ اس کے زیادہ تر مطالب حضرت زہرا سلام اللہ علیہا  کے بارے میں ہے ) میں کچھ  روایات ہیں کہ انسان حضرت کی عظمت اور شخصیت کے بارے میں دنگ رہ جاتا ہے ،میں ایک روایت کو بیان کرنا چاہتا ہوں کہ اس کے مضامین کو آپ نے بہت زیادہ سنا ہے ، لیکن اس روایت میں کچھ مطالب ہیں کہ ان کی طرف توجہ کرنا بہت ضروری ہے،حضرت زہرا سلام اللہ علیہا  کی فضلیت کے بارے میں ایک روایت ہے کہ مرحوم مجلسی نے اس روایت کو کتاب بحار الانوار میں ، تفسیر فرات سے نقل کیا ہے :«مُوسَى بْنُ عَلِيِّ بْنِ مُوسَى بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمُحَارِبِيُّ مُعَنْعَناً عَنْ أَبِي عَبْدِ اللهِ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ  عليه السلام  عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ قَالَ»، امام حسین علیہ السلام رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے نقل کرتا ہے : «قَالَ رَسُولُ اللهِ (صلی الله علیه و آله)‏ مَعَاشِرَ النَّاسِ تَدْرُونَ‏ لِمَا خُلِقَتْ‏ فَاطِمَةُ»،یہ ایک مطلب ہے کہ خود پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے بیان فرمانا شروع کیا ہے کسی نے ان سے سوال نہیں کیا ہے ، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم فرماتا ہے ، تمہیں معلوم ہے کہ جب حضرت فاطمہ سلام اللہ علیہا  خلق ہوئی تو ان کی خلقت کی کیفیت کیا تھی ؟«قَالُوا اللهُ وَ رَسُولُهُ أَعْلَمُ»،سب نے کہا : ہمیں معلوم نہیں ہے ، خدا اور اس کا رسول بہتر جانتا ہے ، فرمایا :«خُلِقَتْ فَاطِمَةُ حَوْرَاءَ إِنْسِيَّةً لَا إِنْسِيَّةً»؛ حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا  صرف ایک انسیہ کے طور پر خلق نہیں ہوا ہے بلکہ حوراء اور انسیہ سے مرکب ہے ، يعنی حضرت زہرا سلام اللہ علیہا  کی خلقت دوسرے تمام مخلوقات سے فرق ہے ، ان کی خلقت اور دوسرے تمام مخلوقین کی خلقت میں فرق ہے ، سارے مخلوقین صرف انسی ہیں ، محض انسان ہیں ، لیکن یہ مبارک وجود مرکب ہے حوراء اور انسیہ سے «قَالَ خُلِقَتْ مِنْ عَرَقِ جَبْرَئِيلَ وَ مِنْ زَغَبِهِ»؛ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا آپ سلام اللہ علیہا  جبرئیل کے عرق اور زغب سے خلق ہوئی ہے (لغت کی کتابوں میں لکھا ہے : زغب الصبی او زغب الفرخ"چوزے کے بدن میں جو چھوٹے چھوٹے پر ہوتے ہیں اسے زغب کہتے ہیں )

«قَالُوا يَا رَسُولَ اللهِ إِنَّهُ‏] أَشْكَلَ اشتكل ذَلِكَ‏] عَلَيْنَا تَقُولُ حَوْرَاءُ إِنْسِيَّةٌ لَا إِنْسِيَّةٌ ثُمَّ تَقُولُ مِنْ عَرَقِ جَبْرَئِيلَ وَ مِنْ زَغَبِهِ»؛ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے دو مطلب بیان فرمایا : 1۔ « خُلِقَتْ فَاطِمَةُ حَوْرَاءَ إِنْسِيَّةً لَا إِنْسِيَّةً»،

2) «خُلِقَت مِنْ عَرَقِ جَبْرَئِيلَ وَ مِنْ زَغَبِهِ»)، اصحاب نے عرض کیا : یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم ! یہ مسئلہ بہت زیادہ پیچیدہ ہو گیا ، اس کی حقیقت کیا ہے ؟ «قَالَ إِذاً أَنَا أُنَبِّئُكُمْ أَهْدَى إِلَيَّ رَبِّي تُفَّاحَةً مِنَ الْجَنَّةِ»،آپ نے فرمایا : میں ابھی اس واقعہ کو تمہارے لئے بیان کرتا ہوں ، خداوند تبارک و تعالی نے جنت سے میرے لئے ایک سیب  عطا فرمایا «أَتَانِي بِهَا جَبْرَئِيلُ فَضَمَّهَا إِلَى صَدْرِهِ»؛ جبرئیل نے اس سیب کو اپنے سینہ سے لگا لیا «فَعَرِقَ جَبْرَئِيلُ  ع] وَ عَرِقَتِ التُّفَّاحَةُ»؛ جبرئيل کو پسینہ آگیا اور اس کے کچھ قطرات اس سیب پر گر گیا ،«فَصَارَ عَرَقُهُمَا عَرَقُهَا] شَيْئاً وَاحِداً»؛ تو سیب اور جبرئیل کے پسینہ دونوں آپس میں مل گیا ، توجہ فرمائیں کہ جبرئیل نے اس سیب کو اس خاص حالت میں لایا ہے ، یعنی اس سیب کو ایک معمولی چیز لانے کی طرح نہیں لایا ہے کہ ہاتھ میں اٹھا کر لائے ، اس سے ہم یہ مطلب حاصل کر سکتے ہیں کہ انسان ایک بڑے تخفہ  اور جس کے لئے بہت زیادہ احترام کا قائل ہو اسے سینہ سے لگاتے ہیں «ثُمَّ قَالَ السَّلَامُ عَلَيْكَ يَا رَسُولَ اللهِ وَ رَحْمَةُ اللهِ وَ بَرَكَاتُهُ قُلْتُ وَ عَلَيْكَ السَّلَامُ يَا جَبْرَئِيلُ فَقَالَ إِنَّ اللهَ أَهْدَى إِلَيْكَ تُفَّاحَةً مِنَ الْجَنَّةِ»؛ جبرئيل کہتا ہے کہ خداوند تبارک وتعالی نے بہشت سے آپ کے لئے ایک سیب تخفہ بھیجا ہے «فَأَخَذْتُهَا فَقَبَّلْتُهَا وَ قَبَّلْتُهَا وَ وَضَعْتُهَا عَلَى عَيْنِي وَ ضَمَمْتُهَا إِلَى صَدْرِي»؛یعنی جبرئیل کتنا اس سیب کے لئے احترام اور تکریم کا قائل ہوا ہے ،صرف ایک معمولی کھانے یا صرف ایک بہشتی کھانے کے طور پر نہیں ہے ، بہشتی کھانا مریم سلام اللہ علیہا  کے لئے بھی آیا تھا اسی طرح بعض دوسرے کے لئے بھی آیا تھا ، لیکن جبرئیل نے اس سیب کو ایک خاص حالت میں لے آنا اس کی اہمیت کو بیان کرنے کے لئے ہے «ثُمَّ قَالَ يَا مُحَمَّدُ كُلْهَا»؛جبرئيل نے عرض کیا : یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم اس سیب کو نوش فرمائے «قُلْتُ يَا حَبِيبِي جَبْرَئِيلُ هَدِيَّةُ رَبِّي تُؤْكَلُ»؛ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم پہلے تو فرماتے ہیں کہ یہ خدا وند تبارک و تعالی کی طرف سے میرے لئے تخفہ ہے اور تخفہ کی حفاظت کرنی چاہئے اسے کھایا نہیں جاتا ،«قَالَ نَعَمْ قَدْ أُمِرْتَ بِأَكْلِهَا»؛جبرئیل نے فرمایا : جی ہاں ! لیکن یہاں پر آپ کو کھانے کا حکم ہے ،پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم فرماتے ہیں : «فَأَفْلَقْتُهَا»؛ میں نے اس سیب کو کاٹا «فَرَأَيْتُ مِنْهَا نُوراً سَاطِعاً»؛ (یعنی سیب کو جب دو نصف کر لیا ) تو اس میں سے ایک نور دیکھا ، اس کے بعد فرماتا ہے :«فَفَزِعْتُ‏ مِنْ ذَلِكَ النُّورِ»؛میں اس نور سے وحشت زدہ ہو گیا ، یعنی اس نور میں اتنی عظمت تھی کہ میں وحشت زدہ ہو گیا ، اور اس سیب سے ہی حضرت زہرا سلام اللہ علیہا  کا وجود دنیا میں آنا ہے ،یہاں پر رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے جملہ پر توجہ فرمائيں( خداوند متعالی کے بعد عقل اول ہے اور خدا کے نور کے بعد ان سے بڑھ کر کوئی نور نہیں ہے ) وہ فرماتا ہے :«فَفَزِعْتُ‏ مِنْ ذَلِكَ النُّورِ».«قَالَ كُلْ فَإِنَّ ذَلِكَ نُورُ الْمَنْصُورَةِ فَاطِمَةَ»؛ جبرئیل عرض کرتا ہے ، اس سیب کو نوش فرمائیں ، اس سیب میں فاطمہ سلام اللہ علیہا  کا نور ہے «قُلْتُ يَا جَبْرَئِيلُ وَ مَنِ الْمَنْصُورَةُ؟ قَالَ جَارِيَةٌ تَخْرُجُ مِنْ صُلْبِكَ وَ اسْمُهَا فِي السَّمَاءِ الْمَنْصُورَةُ وَ فِي الْأَرْضِ‏ فَاطِمَةُ»؛کیوں آسمانوں میں انہیں منصورہ کہا اور زمین میں فاطمہ کہا جاتا ہے ؟ ( یہاں پر آسمان میں منصورہ کہنے کی علت کو بیان نہیں کیا گیا ہے ، لیکن دوسری روایات میں یہ ذکر ہے ) صرف یہی فرماتے ہیں :«قَالَ سُمِّيَتْ فَاطِمَةَ فِي الْأَرْضِ لِأَنَّهُ‏ فَطَمَتْ شِيعَتَهَا مِنَ النَّارِ»؛فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا  کے شیعیان آگ سے الگ ہوئے ہیں اور شیعوں کو آتش سے جدا کیا گیا ہے ، اس کے بعد فرماتا ہے :«وَ فُطِمُوا أَعْدَاؤُهَا عَنْ حُبِّهَا»؛یہ بہت ہی مہم نکتہ ہے یعنی آپ سلام اللہ علیہا  کے دشمن آپ کے محبت سے جدا اور محروم ہوئے ہیں یعنی دشمنان کبھی بھی حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا  کی محبت کو اپنے اندر پیدا نہیں کر سکتے ہیں ۔

دشمن یہی کہتے ہیں کہ حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا  بھی دوسرے خواتین کی طرح ایک خاتون ہے، یہاں پر جس محبت کی بات ہوئی ہے یہ اس معمولی محبت کی طرح نہیں ہے جو عام انسانوں سے کرتے ہیں ، حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا  کی نسبت جو محبت ہے  اس کے لئے «بما لها من المقام»؛اس کا اپنا ایک خاص مقام ہے ، وہ بھی اس وجہ سے کہ یہ ایک ایسی نورانی خلقت ہے ، رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کا حضرت فاطمہ سلام اللہ علیہا  سے محبت بھی اسی وجہ سے تھا،حضرت فاطمہ سلام اللہ علیہا  کو چومتے تھے اور فرماتے تھے کہ مجھے فاطمہ سلام اللہ علیہا  سے بہشت کی بو آتی ہے ، ایسی محبت مراد ہے ، لہذا میرا اصرار یہ ہے کہ ہم اپنے اندر ایسی محبت کو زیادہ کرے، حضرت فاطمہ سلام اللہ علیہا  کی اس عظمت کو ہم اپنے اندر فکر اور ذہن میں ہر روز زیادہ سے زیادہ قرار دیں ، ہرسال اس سے پہلے والے سال کی نسبت فاطمیہ کو زیادہ سے زیادہ باشکوہ انداز میں برگزار کرے ، اور اپنے گھر والوں اور جدید نسل کو حضرت فاطمہ سلام اللہ علیہا  سے زیادہ سے زیادہ آگاہ کرے، اور بعض لوگ آکر کچھ احقمانہ جو بات کرتے ہیں کہ اس وقت کیا گھروں کے دروازے بھی تھے یا نہیں ؟!یہ بہت ہی چھوٹی باتیں ہیں ، فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا  ایک الگ مخلوق ہیں ، ان کی خلقت سے لے کر تمام مناقب اور فضائل سب مختلف ہیں  ،کیا یہ ممکن ہے کہ کوئی مسلمان ایک ایسی ہستی کی طرف توجہ نہ کرے ؟مگر یہ ممکن ہے کہ شیعہ حضرت فاطمہ سلام اللہ علیہا  کی نسبت بی تفاوت ہو، ایک ایسی ہستی اپنے والد گرامی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے بعد کتنی مدت زندہ رہے ؟ اس وقت کے اسلامی معاشرہ نے رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے رحلت کے بعد کونسا ایسا کام کیا تھا کہ بہت ہی کوتاہ مدت میں شہید ہوگئی؟یہ سب مسلم باتیں ہیں ، میں یہ پہلے بھی عرض کر چکا ہوں کہ "فاطمہ شناسی " حوزہ کے دورس میں سے ایک ہونا چاہئے ، حوزہ علمیہ میں جو بھی طلبہ تعلیم حاصل کر رہے ہیں اس کا حضرت فاطمہ سلام اللہ علیہا  کے بارے میں  مطالعات بہت زیادہ ہونا چاہئے ، جب یہ کہا جاتا ہے کہ حضرت زہرا سلام اللہ علیہا  معصوم تھی اور ان کا مقام عصمت ہے ، تو اس میں کوئی شک و شبہہ نہیں ہونا چاہئے ، اور یہ اس کے لئے سوالیہ نشان نہیں ہونا چاہئے !حضرت زہرا سلام اللہ علیہا  کے علمی مقام و منزلت ، قرآن کریم پر آپ کو جو تسلط حاصل تھی، مسجد میں آپ سلام اللہ علیہا  نے جو خطبہ ارشاد فرمایا اس پر آپ توجہ دیں ، ایک خاتون ہے ابھی  والد گرامی پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے رحلت کے چند روز ہی گزرے ہیں ، ابھی آپ مصیبت زدہ ہے ، کس قدر آپ نے قرآن کریم کی آیات سے تمسک کیا ہے ؟! کیا ایک عام انسان ایک خطبہ میں اتنی ساری آیات سے تمسک کر سکتا ہے ؟!یہ سب ان کی نوری خلقت کے لئے ہے ، حضرت زہرا سلام اللہ علیہا  کے علم کی کیفت کے بارے میں ہمارے پاس کچھ روایات ہیں ، اور آپ عالم ما وراء سے کیسے ارتباط میں تھے اس بارے میں کچھ روایات ہیں، ان کے علم  کے بارے میں ، ان کے محدثہ ہونے کے بار ے میں ،اسی طرح مصحف حضرت زہرا سلام اللہ علیہا   یہ سب ایسی چیزیں ہیں کہ ان کے بارے میں ہمیں اچھی طرح آگاہ ہونا چاہئے ، یہ ایام فاطمیہ ایسے ایام ہیں کہ اگر ہم خدا سے نزدیک ہونا چاہتے ہیں تو حضرت زہرا سلام اللہ علیہا  کی شناخت کے ذریعہ یہ ممکن ہے ، خدا سے تقرب پیدا کرنا حضرت زہرا سلام اللہ علیہا  کے مقام کے اعترا ف کے بغیر ممکن نہیں ہے ، یہ مطلب ایک ایسا مطلب ہے کہ جو روز روشن کی طرح ہمارے لئے عیاں ہے،خدا سے تقرب اس عظیم خاتون کی شناخت کے بغیر ممکن نہیں ہے ، ہمارے عزاداری پہلے سے بہت زیادہ مفصل ہونا چاہئے ، اور ایام فاطمیہ کے عزاداری میں کوئي کمی نہیں ہونی چاہئے، اگر شیعوں کو زندہ رہنا ہے اور ترقی کی طرف گامزن رہنا ہے تو ان عزاداری کو باشکوہ انداز میں قائم رکھنا چاہئے ، ہمیں سوچنا چاہئے کہ کونسی عظیم شخصیت ان ایام میں ہم سے جدا ہوئے ہیں ، ان پر کیا کیا مظالم ڈھائے گئے ہیں کہ یہ مظالم قابل انکار بھی نہیں ہے ،ان ایام میں انسان کم از کم اسی کتاب بحار الانوار کو اٹھا کر دیکھ لیں ، اور اس میں حضرت زہرا سلام اللہ علیہا  کے بارے میں جو روایات نقل ہیں ان کو پڑھ لیں ، انشاء اللہ ہم سب کو آپ سلام اللہ علیہا  کی شفاعت نصیب ہو «و في السماء المنصورة ذَلِكَ قَوْلُ اللهِ فِي كِتَابِهِ‏ وَ يَوْمَئِذٍ يَفْرَحُ الْمُؤْمِنُونَ بِنَصْرِ اللهِ‏ بِنَصْرِ فَاطِمَةَ (سلام الله علیها؛ چونکہ سب  کوحضرت زہرا سلام اللہ علیہا  کی مدد حاصل ہوتی ہے لہذا یہ فرمایا ہے ۔


منبع : بحار الأنوار، ج 43، ص 18



ماخذ : بحار الأنوار، ج 43، ص 18

۲,۷۵۶ قارئين کی تعداد: