نصحتیں اور قیمتی باتیں
اپنا سوال پوچھیںیقین کی نشانياں
تاریخ 16 February 2026 و ٹائم 19:58
یقین کی نشانياں
مرحوم کلینی نے کتاب کافی میں باب "الایمان و الکفر " میں ،باب «فضل الايمان على الاسلام واليقين على الايمان»میں پانچویں حدیث میں ذکر کیا ہے :"على بن ابراهيم،عن محمد بن عيسى، عن يونس،یہ روایت معتبر ہے ،قال:سألت اباالحسن الرضا (عليه السلام ) عن الايمان والاسلام؟ قال: فقال ابوجعفر (عليه السلام) ، آٹھویں امام فرماتا ہے ، امام باقر علیہ السلام نے فرمایا: انما هو الاسلام، و الايمان فوقه بدرجة و التقوى فوق الايمان بدرجة و اليقين فوق التقوى بدرجة"،جس چیز کے بارے میں انسان سب سے پہلے اعتقاد پیدا کرتا ہے وہ اسلام ہے ، اور اسلام سے ایک درجہ اوپر ، ایمان ہے ، اور ایمان سے ایک درجہ اوپر ، تقوی ہے ، اور تقوی سے ایک درجہ اوپر ، یقین کا درجہ ہے ۔
اور اسی روایت میں آگے جا کرفرماتے ہیں :و لم يقسم بين الناس شىء اقل من اليقين،خداوند متعال نے اپنے بندوں کو جتنی نعمتیں عطا کی ہیں ان میں سے سب کم جو دیا گیا ہے وہ یقین ہے ،قال: قلت فائ شىء اليقين ؟یقین کیا ہے ؟فرمایا: یقین کے چار ارکان ہیں : خدا پر توکل ، خدا کے سامنے سر تسلیم خم ہونا، خدا کے قضا وقد رپر راضی ہونا، اور سب کاموں کو اسی پر چھوڑنا ۔
ابو بصیر کی روایت میں ہے ، کہ امام علیہ السلام فرماتے ہیں : فما اوتى الناس اقل من اليقين وانما تمسکتم بادنى الاسلام فاياکم ان ينفلت من أيديکم،لوگوں نے اسلام کے کمترین درجہ سے تمسک کیا ہوا ہے ، آگاہ رہیں کہ یہی بھی اس کے ہاتھ سے نکل نہ جائے ۔
فقہ اورتفسیر میں ایک بحث ہے وہ یہ ہے کہ اسلام اور ایمان میں کیا فرق ہے ؟ اس روایت یا بعض دوسری آیات میں جو ایمان ذکر ہے ، کیا وہی اصطلاحی ایمان ہے جس کا امامیہ قائل ہے؟
کہ بولا جائے: ایمان یعنی ولایت پر اعتقاد رکھنا ، اور اسلام یعنی خدا، توحید اور نبوت پر اعتقاد ، ان کے معتقد کو مسلمان کہا جاتا ہے اور اس سے ایک درجہ اوپر اگر ولایت پر بھی ایمان ہو تو وہ مومن ہو جاتا ہے ؟یہ اصطلاح فقہ میں رائج ہے ، مثلا کہتے ہیں : کسی حلال جانور کو ذبح کرنے والے کے شرائط میں سے ایک اس کا مومن ہونا ہے ،یعنی شیعہ ہو ۔
البتہ ممکن ہے یہ بتایا جائے کہ وہ ایمان اور اسلام ایک ہی ہے ، جب خدا نے پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے فرمایا : "و ان لم تفعل فما بلغت رسالته"اس کا معنی یہ ہے کہ اگر کسی نے امامت کو قبول نہیں کیا ، تو گویا اس نے پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رسالت کا ہی انکار کیا ہے ، اس وقت ، اسلام ہی نہیں ہے ، اور اس میں کوئی شک و شبہہ بھی نہیں ہے ، لیکن اس معنی سے قطع نظر ، خود خدا کی نسبت ایک مرتبہ ہے کہ وہ مرتبہ اسلام ہے ، اور اس کا ظاہر یہی اسلام ہے جو شہادتین پڑھنے سے حاصل ہوتا ہے ، جب کسی انسان نے شہادتین کو پڑھ لیا تو وہ مسلمان ہو گیا ، لیکن ممکن ہے اس کے دل میں خدا پر ایمان نہ ہو ، ایمان ایک قلبی چیز ہے ، یعنی واقعا ًجو چیز زبان سے بولا جاتا ہے وہی چیز انسان کے قلب میں بھی ہو ۔
اس ایمان کے درجہ سے اوپر کیا ہے ؟ اسلام ظاہری شہادتین سے شروع ہوتا ہے ، اس کے بعد قلب میں ایمان میں تبدیل ہو جاتا ہے ، اور جب انسان کے اعضاء و جوارح میں ایمان ظاہر ہونے لگتا ہے ،یعنی واجبات کو انجام دیتا ہے اور محرمات کو ترک کرتاہے ،اس وقت متقی ہوتا ہے ، اور اس سے بالاتر درجہ یقین ہے ۔
میں اس مطلب کے بارے میں کچھ تاکید کرتا ہوں کہ توجہ فرمائيں: عاقل انسان وہ ہیں جو اس تلاش میں رہے کہ کمیاب ہیرے کہاں ہوتے ہیں تا کہ اسے پیدا کر لے ، انسان جب تنور والے کے پاس جاتا ہے تا کہ روٹی لے لیں ،اس کی فطرت یہ ہے کہ کوئی اچھی روٹی لے لیں ، جب وہ کپڑا خریدنا چاہتا ہے تو یہ کوشش ہوتی ہے کوئی خاص کپڑا خریدے ، اسی طرح ہم معنویات میں بھی بیٹھ کر سوچیں ، الحمد للہ ہم سب روایات کو پڑھ سکتے ہیں ، ہمارے ائمہ طاہرین علیہم السلام نے بہت ہی واضح اور کامل طور پر تمام مراحل کو ہمارے لئے درجہ بندی کرکے بیان فرمائے ہیں ، ایمان ، اسلام سے ایک درجہ اوپر ہے ، تقوا ، ایمان سے ایک درجہ بلند ہے ، اس کے بعد فرماتا ہے یقین ان سب سے بالاتر ہے ، اس کے بعد فرماتا ہے :آگاہ ہو جاؤ! خداوند متعال نے انسان کے لئے جتنی نعمتیں عطا کی ہیں ان سب میں سے کوئی بھی نعمت اتنی کم نہیں دی گئي ہے جتنی یقین کم اور محدود دی ہے ، ہمیں چاہئے اسے حاصل کرے ؛ اور اس یقین کی چار نشانیاں ہیں :
1۔خدا پر توکل؛ انسان اپنے تمام کاموں میں خدا کو اپنا وکیل قرار دے ، حتی کہ ایک علمی گفتگو میں بھی خدا کو اپنا وکیل قرار دیں ، کہ اسے اس ہدف تک پہنچے میں مدد کرے جس میں خدا کی رضایت ہو ۔
دنیوی امور میں تو بہت ہی سزاوار ہے کہ انسان ان کاموں میں خدا کو اپنا وکیل قرار ديں ، انسان کے لئے جو واقعات پیش آتے ہیں ، مال و دولت ہاتھ سے چلا جاتا ہے ، کوئی عزیز وفات پاتا ہے ، ان مصائب اور مشکلات کے اوقات میں انسان کو یہ دیکھنا چاہئے کہ آیا خداوند متعال اس کی قلب کو تسلی دیتا ہے یا نہیں ؟ یہ خدا پر توکل کا مقام ہے ، ایک دن معاشرہ میں اس کی عزت ہوتی ہے اور ایک دن وہ اسی معاشرہ میں ذلیل ہوتا ہے ، "یوم لک و یوم علیک" دونوں حالات میں آیا خدا پر توکل کرتا ہے یا نہیں ؟ خدا پر توکل کرنا بہت ہی مہم ہے ، انسان کو چاہئے کہ ہر حالت میں خدا کو اپنا وکیل قرار دے دیں ۔
2۔ توکل سے بالاتر مقام ، اس کے سامنے تسلیم ہونا ہے ، توجہ کریں ، وہ اسلام جو ابتداء میں ہے وہ کہاں ہے اور یہ تسلیم جو یقین کا دوسرا درجہ ہے وہ کہاں ؟ ! خدا کے سامنے تسلیم ہونا یعنی مشکلات میں شکوہ و شکایت نہ کرنا ، تسلیم یہ ہے کہ انسان مشکلات کے وقت شکوہ و شکایت کی زبان نہ کھولے ، بلکہ جو بھی پیش آئے اسی کو قبول کرے ۔
3۔ خدا کے قضاء وقدر پر راضی ہونا ۔
4۔ تمام کاموں کو خدا پر چھوڑ دینا
ماخذ : اصول کافی، ج 2، ص 51
انسان کو یقین حاصل ہونے کے اسباب
تاریخ 16 February 2026 و ٹائم 19:58
انسان کو یقین حاصل ہونے کے اسباب
قرآن کریم کی آیات اور آئمہ معصومین علیہم السلام کی روایات میں جن مطالب کے بارے میں بہت زیادہ اہمیت دی گئی ہے ان میں سے ایک انسان کو یقین حاصل ہونا اور اس کا یقین کے مقام تک پہنچنا ہے ، اور بعض روایات سے استفادہ ہوتا ہے کہ جس طرح ایمان کا درجہ اسلام سے پہلے ہے اور تقوی کا درجہ ایمان سے پہلے ہے ، اسی طرح یقین کا درجہ تقوی سے پہلے ہے ، جب تک کوئی شخص مومن نہ ہو وہ متقی نہیں ہو سکتا اور جب تک کوئي شخص متقی نہ ہو وہ یقین کے درجہ پر نہیں پہنچ سکتا ، یقین ایک بہت ہی مہم مسئلہ ہے ، کہ بعض روایات میں نقل ہے خدا کی نعمتوں میں سے ایک چیز جو لوگوں کے درمیان بہت کم تقسیم ہوا ہے وہ یقین ہے ،«لم يقسم بين الناس شيءٌ اقل من اليقين»، یعنی بہت ہی کم افراد اس مرحلہ تک پہنچتے ہیں ۔
ابھی ہم جن حالات سے گزر رہے ہیں علمی لحاظ سے ہمیں یہ کوشش کرنی چاہئے کہ ہمارے تمام کام یقین حاصل کرنے کے لئے ہو ، خداوند متعال کی نسبت وہ یقین جو انسان میں ہونا چاہئے ، کہ بعض روایات میں یقین کے آثار کو توکل بیان کیا ہے ، یعنی جس انسان کو یقین ہو واقعا وہ خدا پر توکل کرتا ہے ، وہ خدا کے سامنے سر تسلیم خم ہے اور خدا کے قضا ء وقدر پر راضی ہے ، اسی طرح اپنے کاموں کو خدا پر چھوڑ دیتا ہے ، یہ چار خصوصیات ان خصوصیات میں سے ہے کہ اگر کسی کے اندر وہ یقین ہو جو خدا کا منظور نظر ہے ، تو اس میں یہ آثار پایا جاتے ہیں ۔
یقین کے بارے میں روایات بہت زیادہ ہیں ، میں صرف یادآوری کے طور پر یہ عرض کرنا چاہتا ہوں کہ ہمیں ایسا ہونا چاہئے کہ واقعا ہر روز ہمارے یقین میں پہلے دن کی نسبت اضافہ ہو ، ایسا نہیں ہے کہ یقین کی ایک مقدار ہے ، اس مقدار تک جب پہنچ جائے تو اس کے بعد وہ ختم ہو جاتا ہو ، ایسا نہیں ہے بلکہ یقین کے مختلف مراتب اور درجات ہیں ۔
بحار الانوار میں ذکر ہوا ہے کہ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے عرض ہوا کہ ہمارے لئے نقل ہوا ہے کہ حضرت عیسی یا حضرت موسی (علیہما السلام) پانی پر چلتے تھے «يمشي علي الماء » ، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا : ان کے اندر جو یقین تھا، خدا نے انہیں ایسی قدرت عطا کی تھی، اگر ان کے یقین میں اور اضافہ ہوتا تو «مشي علي الهواء»، ہوا پر بھی چلنے کی قدرت پیدا کر لیتے ، اس کے بعد فرمایا :انبیاء میں فرق اور ان کے فضیلت میں اختلاف ان کی اسی یقین کی وجہ سے ہے ، یعنی ہمارے پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا یقین تمام انسانوں ، اولیاء ، آئمہ معصومین اور سارے انبیاء سے زیادہ تھے ، انبیاء میں بھی اس یقین کے مختلف درجات ہیں ۔
یقین ایسی کوئی چیز نہیں ہے کہ یہ بتا یا جائے : میں ابھی یہ احساس کرتا ہوں کہ میں یقین کے مرحلہ پر پہنچا ہوں ،کہ اس کے بعد کوئی اور چیز نہیں ہے ،«ليس فوقه شيء»،کبھی میں خود کو یہ نصیحت کرتا ہوں یا بعض دوستوں کو یہ یاد دھانی کرتا ہوں کہ ، ہمیں ان مسائل کے بارے میں واقعا سوچنا چاہئے ، یعنی اس بارے میں فکرمند رہنا چاہئے ، اگر ایک دن گزر گیا اور اس بارے میں ہم ایک قدم آگے نہیں بڑھ سکے ، تو اپنے آپ سے یہ بتانا چاہئے کہ دنیا ہمارے سروں پر امنڈ آئے تو زیادہ نہیں ہے ۔
انسان کے تمام کاموں میں اور دنیوی مشاغل میں علم سے بہتر کوئی چیز پیدا نہیں کر سکتا ، اور وہ بھی کلی علم ، اور تمام علوم کے درمیان بھی وہ علم جو وحی اور مبداء و معاد سے مربوط ہو اس سے بہتر کوئی علم پیدا نہیں کر سکتا ، خداوند متعال نے بھی ہمیں یہ توفیق عنایت فرمایا ہے اور ہمیں اس راہ میں قرار دیا ہے کہ ہمارے علوم مبداء اور معاد سے مربوط ہے ، مثلا ہم ایک قرآن کے "لا تفعل " کا معنی کرنا چاہتے ہیں ، کتنے اس میں زحمت کرنے کی ضرورت ہے ، آپ جب " لا تشرب " کا معنی کرنا چاہتا ہے ، تو دیکھنا چاہئے کہ کیسے اس کا معنی کرے ، ہم اس معنی کو خدا سے نسبت دینا چاہتے ہیں ، یہ بتانا چاہتے ہیں کہ خدا نے ایسا فرمایا ہے ، یہ کوئی کم چیز نہیں ہے ، بہت ہی اہم مسئلہ ہے ۔
ہم اس راستہ پر چل رہے ہیں تو سب چیزوں سے قطع نظر ان کمالات کو اپنے اندر پیدا کرنا چاہئے ،کبھی ہم یہ کہتے ہیں ہم درس پڑھتے ہیں تا کہ مجتہد ہو جائے اور مجتہد ہوتے ہیں تا کہ فتوا دے دیں ، بالفرض ہم نے فتوا بھی دے دیا ، ایک کھرب انسان ہمارے مقلد بھی ہو گئے ، اس کے بعد کیا ؟؟؟ حقیقت میں یہ انسان کے لئے کمال نہیں ہے ، کہ یہ بتا یا جائے کہ انسان اس درجہ تک پہنچ گیا ہے کہ اس کے مقلد ہے ۔
ایک وقت میں نے اپنے والد گرامی سے ایک بات بتایا تھا ، انہوں نے اپنے باتوں میں مجھ سے فرمایا : تم یہ نہ سوچو کہ کہیں پر اگر میرا مقلد بن جائے تو میں خوش ہوتا ہوں ، میں خوش نہیں ہوتا ہوں ، ان کی ذمہ داری میرے گردن پر آنے کی وجہ سے میں یقیناً پریشان ہوتا ہوں ، وہ لوگ جتنے اعمال انجام دیں گے ان سب کے بارے میں قیامت کے دن مجھ سے سوال ہوگا اور مجھے ان سب کا جوابدہ ہونا چاہئے ، حقیقتا بھی ایسا ہی ہے ، یہ ایسی چیز نہیں ہے کہ انسان ان سے دل لگائے ۔
جی ہاں ! اگر انسان واقعی طور پر اس یقین اور نورانیت کو اپنے اندر احساس کرے ، اس کے آثار بھی ایسے ہی ہوں گے ، اور یقین کے آثار میں سے ایک توکل اور خدا کے سامنے سرتسلیم خم ہونا ہے ، ہم نے اپنے بزرگوں میں اس تسلیم کو بہت سارے واقعات میں دیکھ لی ہیں ۔
انسان کا علم کسی زمانہ میں اپنے اوج کو پہنچتا ہے ، اور اس کے بعد سب چیزوں کو اس سے لے لیتا ہے ،«و من نعمره ننكسه»، انسان جب عمر کے آخر کو پہنچ جائے تو شایدوہ حروف تہجی بھی بھول جائے ،یہ سب ختم ہونے والی چیزیں ہیں ، لیکن یہ نفسانی ملکات کہ انہیں میں سے ایک بلکہ سب سے بہترین یقین ہے ، ہم کوشش کریں کہ اسے اپنے اندر ایجاد کرے ، امیر المومنین علیہ السلام فرماتے ہیں :«سل الله اليقين»، فرماتے ہیں : یقین کو خدا سے طلب کرو :«سل الله اليقين و خير ما دام في القلب اليقين»،انسان کےدل میں سب سے بہترین چیز جو باقی رہتی ہے وہ یقین ہے ، خدا ہم سب کو یہ نصیب فرمائے ۔
خدا پر اطمینان حاصل ہونے کے شرائط
تاریخ 16 February 2026 و ٹائم 19:58
خدا پر اطمینان حاصل ہونے کے شرائط
تحف العقول میں ایک روایت نقل ہے جسے مرحوم مجلسی نے بھی بحار الانوار جلد 88 ، ص261 پر نقل کیا ہے ، کہ سفیان ثوری امام صادق علیہ السلام کی خدمت میں آیا اور عرض کیا : مجھے کچھ نصیحت فرمائے تا کہ میں اس پر عمل کروں ۔
حضرت نے بھی پہلے یہی فرمایا : اگر میں کوئی نصیحت کروں تو تم اس پر عمل کرو گے ؟اس میں ایک جملہ جس کے بارے میں تاکید بھی کرتا ہو وہ یہ ہے کہ آپ علیہ السلام نے فرمایا :«ثق بالله ...» ،خدا پر اطمینان رکھو ، تا کہ مقام خدا کے عارف کے درجہ پر فائز ہو جائے ، یہ بہت ہی اہم مطلب ہے اور بہت ہی مہم نصیحت ہے کہ انسان کو خدا پر اطمینان ہو۔
اگر کوئی واقعی میں خدا پر اطمینان حاصل کرنا چاہتا ہے ، تو اس کا پہلا شرط یہ ہے کہ ہمیشہ اسی کی طرف متوجہ رہے، جو شخص خدا سے غافل ہو وہ خدا پر اطمینان پیدا نہیں کر سکتا ، انسان کو ہمیشہ خدا کی طرف متوجہ رہنا چاہئے کہ «انا عبد و الله رب».، میں بندہ ہوں اور اللہ میرا رب ہے ۔
یہ بہت ہی مشکل ہے کہ جو کچھ کام ہم انجام دیتے ہیں ان سب میں چاہئے وہ دنیوی اور مادی زندگی ہو یا علمی مسائل، یا سیر و سلوک ، یا اجتماعی زندگی خدا کی طرف متوجہ رہیں ۔
یہ پہلا قدم ہے کہ اگر انسان خدا پر اطمینان رکھنا چاہتا ہے تو خدا کی طرف متوجہ رہنا چاہئے ۔
متوجہ رہنے کا دوسرا قدم یہ ہے کہ کم از کم یہ جان لیں کہ خدا ہی انسان کے تمام کاموں کی تدبیر اسی کے ہاتھ میں ہے اور وہ کسی بھی حالت میں بندہ کو چھوڑ نہیں دیتا ، مثلا _نعوذ باللہ _ ایک چرواہا نہیں ہے اپنے غلام کو چھوڑ دیں اور بولیں : تم خود جہاں جانا چاہتے ہو چلے جاو، اور جو مرضی ہے کرلو ۔
کبھی ہم غلطی بھی کر لیتے ہیں«إِنَّا هَدَيْناهُ السَّبيلَ إِمَّا شاكِراً وَ إِمَّا كَفُورا»،اب اختیار خود انسان کے ہاتھ میں ہے چاہئے سیدھے راستہ پر چلے جاو یا غلط راستہ پر ۔
جو "دائم الفيض " ہے «يا من وسعت رحمته کل شيء»، وہ ہستی جس کی رحمت دنیا کی سب چیز کو احاطہ کی ہوئی ہے ، ایسا نہیں ہے کہ وہ انسان کو آزاد چھوڑ دیں ،ہمیں اس دنیا میں خلق کیا گیا ہے ، حتی کہ کتابوں کے نازل ہونے کے بعد اور رسولوں کے مبعوث ہونے کے بعد بھی ہمیں آزاد رہا نہیں چھوڑا ہے اور "ولی اللہ " جو لوگوں پر خدا کی حجت ہے پھر بھی انسان کو آزاد رہا نہیں کیا ہے ۔
یہ مطلب ایک خاص مطلب ہے کہ ہم اس کی طرف متوجہ نہیں رہتے ،ہمیں جان لینا چاہئے کہ وہ ہمیشہ ہمارے بارے میں متوجہ ہے ، اگر اس کا بندہ پیغمبر ہے ، ان کو بھی یہ برداشت نہیں ہے کہ اس کی امت قیامت کے دن عذاب الہی میں گرفتار ہو جائے ، وہ بے انتہا شفیق اور مہربان ہے ۔
اس بارے میں ہمیں متوجہ رہنا چاہئے کہ خود اصل وجود ذات مقدس حق تعال کے بارے میں آگاہ رہیں اور اس بارے میں بھی کہ اس نے ہمیں رہا کیا ہوا نہیں ہے ۔
اگر یہ دو مرحلہ ہمارے اندر زندہ ہو جائے ، واقعا ہم متوجہ رہیں اور جو بھی قدم اٹھاتے ہیں اور جو بھی ہاتھ ہلاتے ہیں ، جو بھی صغیرہ اور کبیرہ انجام دیتے ہیں ان سب کے بارے میں وہ آگاہ ہے ، اور صرف دیکھتے رہنا نہیں ہے بلکہ اس سے بھی ایک مرحلہ اوپر ہے کہ وہ یہ نہیں چاہتا کہ ہم غلط راستہ پر واقع ہو جائے ۔
یہ انسان کی بدبختی ہے کہ خدا کے اتنے زیادہ توجہات کے باوجود وہ پھر بھی غلط راستہ پر چلا جاتا ہے اور خود کو خدا کے راستہ سے جدا کر لیتا ہے ، اس انسان میں کتنی شقاوت آجاتی ہے ، روایات ہیں کہ ہمارے بعض گناہوں کے اثرات یہ ہے کہ انسان دنیا اور آخرت میں متوجہ نہیں ہوتا ، اور خدا بھی انسان کی طرف توجہ نہیں کرتا ، یہ گناہ کا اثر وضعی ہے کہ خداوند اپنی نظر کو انسان سے پھیر لیتا ہے ۔
ہمیں جان لینا چاہئے کہ خدا یہ نہیں چاہتا ہے کہ جس وجود کو اس نے خلق کیا ہے وہ ضایع ہو جائے ، سارے اسرار اسی میں پوشیدہ ہے ، ایسا نہیں ہے کہ کسی باغبان کی طرح باغ میں دو پھول لگا لیں اور اس کے بعد بولے جو بھی ہو جائے ہونے دو ، نہیں ایسا نہیں ہے ، بلکہ وہ حکیم ہے ، اور وہ اپنے اس وجود کو ضایع ہونا نہیں چاہتا ، یہ ہم خود ہیں کہ اپنے ہاتھوں سے اپنے آپ کو ضایع کر دیتے ہیں اور نابود کر لیتے ہیں ۔
اگر یہ دو مطلب انسان کے اندر پایا جائے ، تو اسے اطمینان کا مقام حاصل ہو گا اور انسان خدا پر اطمینان پیدا کرے گا ،وہی انسان کی حیثیت ، عزت اوردوسرے تمام کاموں کا متکفل ہے ، یہ ہے مرحلہ اطمینان خدا۔
البتہ ایسا بھی نہیں ہے کہ انسان ہاتھ پر ہاتھ جوڑ کر بیٹھ جائے اور بولے : وہی ہمارے تمام کاموں کا متکفل ہے ، ہمارے اندر تو کوئی چیز نہیں ہے ، ایسانہیں ہے بلکہ اسے چاہئے کہ شرائط کو مہیا کرے ۔
اس روایت میں امام صادق علیہ السلام نے جو فرما یا ہے وہ یہ ہے کہ :«ثق بالله»،خدا پر اطمینان رکھا کرو ، «تکن عارفا»،عارف ہو جاوگے ، عارف یہ نہیں ہے کہ انسان بولے : میں چلہ کاٹا ہوں ، کسی تاریک جگہ پر چالیس دن بیٹھ جائے ، دوست اور اہل و عیال اور اجتماع سے دور ہوجائے ، او ر اسے چلہ کاٹنا نام رکھے ، مکتب اہلبیت میں ایسی کوئی چیز ہے ہی نہیں ہے ۔
ماخذ : بحار الانوار، ج 88، ص 261
ٍزبان کی حفاظت
تاریخ 16 February 2026 و ٹائم 19:58
زبان کی حفاظت
اسی حدیث کے سلسلے میں جس کا ایک حصہ پچھلے ہفتہ بیان ہوا کہ امیر المومنین علیہ السلام نے محمد بن حنفيہ سے فرمایا : یا بنی لا تقل ما لا تعلم،اے بیٹا ! جس چیز کے بارے میں نہیں جانتا ہو اس کے بارے میں کچھ نہیں بولو " اس کے بعد فرماتا ہے : بل لا تقل کلّ ما تعلم"،بلکہ ہر وہ چیز جس کے بارے میں علم ہے اسے بھی نہ بولو!یہ ایک بہت ہی اہم حکم ہے کہ انسان کو چاہئے اپنی زندگی میں اس کی رعایت کرے ، انسان کے پاس یہ قدرت اور طاقت ہونی چاہئے کہ وہ اپنی زبان پر کنٹرول کرے اور اس کی حفاظت کر سکے، اب کبھی انسان کسی چیز کے بارے میں کچھ جانتا ہے اور وہ اسے اظہار کرنا چاہتا ہے ، کہ کبھی یہ ہم طلاب کے درمیان میں بھی پایا جاتا ہے کہ اظہار فضل کرنا چاہتے ہیں، یہ ایک نا پسند کام ہے ، ہمارے بزرگان بھی اس کا بہت خیال رکھتے تھے کہ حتی الامکان اپنی فضل اور جس چیز کو جانتے ہیں ان کا اظہار نہ کرے،کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ کسی جمع میں بیٹھے ہوتے ہیں ، اور اس شخص سے سوال نہیں ہوتا بلکہ کسی اور شخص سے کسی موضوع کے بارے میں سوال ہوتا ہے ، اور دوسرا شخص جس سے سوال ہوا ہے وہ عمر میں بڑے ہوں، لیکن دوسرے افراد جو جوان ہیں وہ اس سوال کے جواب دینے میں جلدی کرتے ہیں ، یہاں پر پہلی بات تو یہ ہے کہ اگر یہ جو جواب دیتا ہے اگر کامل ہو اور صحیح بھی ہو پھر بھی یہ اس شخص کے ذہن میں نہیں بیٹھتا ہے جس نے سوال کیا ہے ، وہ اس پر کوئی اعتناء نہیں کرے گا ، وہ اپنی جگہ پر مصمم ارادہ کیا ہوا ہے کہ اس کی بات پر کوئی توجہ نہیں دینا ہے ، تو انسان کو کیا ضرورت پڑی ہے کہ ایسے مواقع پر اپنے آپ کی تذلیل کرے ، انسان کو چاہئے جب تک خود اس سے کوئی سوال نہ ہو کوئی جواب نہ دے۔
مجھے یاد ہے کہ مرحوم آقای اشتھاردی جو کہ تقریبا 10 سال مکہ میں ہمارے مرحوم والد بزرگوار کے بعثہ میں مشرف رہتے تھے ، میں بھی ان کے ساتھ ہوتا تھا ، ان کی ایک بہت ہی اچھی خصوصیت یہ تھی کہ جب تک ان سے سوال نہ کرتے تھے کوئی بات نہیں کرتے تھے ، اور اگر صبح سے ظہر تک ان سے سوال کرتے تو مسلسل جواب دیتے ، ایک موبائل عروۃ الوثقی (احکام کی ایک جامع کتاب) تھے، مرحوم اشتھاردی کے ذہن میں شرعی احکام اور فروعات اور مختلف نظریات راسخ تھے ،اور اگر کوئی آکر ان کے ساتھ بیٹھے ہوئے کسی سے سوال کرتے ، تو آپ اس کا کوئی جواب نہیں دیتے تھے ، جب تک خود ان سے سوال نہیں کرتے کوئی جواب نہیں دیتے تھے ، یہ بہت اچھا طریقہ ہے ، لیکن اس کے لئے نفس پر بہت زیادہ کنٹرول کی ضرورت ہے ، انسان کو کسی مسئلہ کے بارے میں بہت اچھی طرح معلوم ہو اور اس کے حضور میں کسی ایسے شخص سے پوچھے جو اس سوال کے جواب کو غلط بتا رہا ہو ، لیکن یہ انسان اپنے آپ پر کامل طور پر مسلط رہے اور خاموش رہے ،بہت ہی قدرتمند ہونے کی ضرورت ہے ، بہر حال جہاں پر انسان پر کچھ بولنا واجب نہ ہو وہاں ایسا ہی کرنا چاہئے ، لیکن بعض جگہوں پر انسان پر واجب ہو جاتا ہے تا کہ کسی جاہل کی اصلاح کرے وہاں پر کوئی بات نہیں ہے ، وہاں پر انسان کچھ بولے لیکن اگر ایسی کسی چیز کی ضرورت نہ ہو تو خاموش رہنا بہتر ہے ،کوئی جواب نہ دینا بہتر ہے ،یہ ایک مثال ہے ، اس کے لئے اور بھی بہت سارے مثالیں ہیں ، مثلا کسی جگہ چند لوگوں کے ساتھ بیٹھا ہوا ہے وہاں پر اس سے کوئی سوال بھی نہیں ہوتا لیکن وہ کچھ بات کر لیتا ہے تا کہ اس کے علمی مراتب کو دیکھا دیں ، ایسے کام کرنے کی کیا ضرورت ہے ؟ امیر المومنین علیہ السلام فرماتے ہیں : فإن الله قد فرض علی جوارحک کلّها فرائض یحتجّ بها علیک یوم القیامة،ہم یہ نہ سوچيں کہ ہمیں کچھ معلوم ہے ، اگر ہم نے وہ بیان کر دیا تو قیامت کے دن خداوند متعالی اس کے بارے میں ہم سے پوچھيں گے ، انسان کے ہر اعضاء و جوارح کے لئے کچھ فرائض قرار دیا ہے خدا ان سے قیامت کے دن پوچھیں گے ، " و يسالك عنها و ذكرها و وعظها و حذرها و ادبها" ان اعضاء اور جوارح کو ادب کی ہے ،ایسے ہی فضول میں نہیں چھوڑا ہے ! ان اعضاء و جوارح کو جسے خداوندمتعالی نے ہمارے اختیار میں قرار دیا ہے " و لم تبركها سدى" فضول میں رہا نہیں کیا ہے ، اس کے بعد اس آیت کریمہ سے تمسک کرتے ہیں :" فقال الله عزوجل : (و لا تقف ما ليس لك به علم ان السمع و البصر و الفواد كل اولئك كان عنه مسولا " اور اس کے بعد اس آیت کریمہ سے بھی استدلال کیا ہے :" اذ تلقونه بالسنتكم و تقولون بافواهكم ما ليس لكم به علم و تحسبونه هينا و هو عندالله عظيم " اس میں خداوند متعالی فرماتا ہے : اس وقت کو یاد کرو کہ تلقّونه بألسنتکمکہ اس تہمت اور افتراء کو ایک دوسرے کے زبان سے نقل کرتے تھے ، یعنی ایک شخص دوسرے کو بتاتا تھا اور وہ تیسرے شخص کو اور تیسرا چوتھے شخص کو "و تقولون بأفواههم ما لیس لکم به علم و تحسبونه هیّنا" اور یہ سوچتے تھے کہ اس میں کوئی مسئلہ نہیں ہے ! یہ ایک بہت ہی اہم بات ہے کہ کبھی انسان کسی چیز کے بارے میں بتاتا ہے اور اس کے بارے میں اس کو کچھ معلوم بھی نہیں ہے ، اور جب اس شخص سے پوچھا جائے کہ کیوں ایسی بات کی ہے تم نے ؟ تو وہ یہی کہتا ہے کہ میں نے سنا تھا ، اور اپنے اس کام کو بہت ہی ہلکا سمجھتا ہے ، لیکن خدا فرماتا ہے "و هو عند الله عظیمٌ"،خدا کے نزدیک یہ بہت بڑا ہے ، یہی لا تقل کلّ ما تعلم" کے مصادیق میں سے ایک مصداق ہے ، اس کا ایک مصداق یہ ہے کہ کبھی انسان اپنے بارے میں کچھ مکاشفہ ( مثلا اپنے بارے میں کچھ مکاشفہ ہوا ہے ) اسے بیان کر دیتا ہے ، اور مخاطب کے لئے اسے قبول کرنا بہت ہی مشکل ہے ، اسی طرح کچھ دوسروں کے بارے میں کچھ مکاشفات کو جانتے ہیں ، اور جا کر منبر سے ان عوام کے لئے بیان کرتے ہیں جو خود خواب اور بیدار ی کو نہیں جانتے ہیں ، کہتا ہے کہ میں آپ لوگوں کے لئے کچھ مکاشفات بیان کرنا چاہتاہوں ، یہ اچھی بات نہیں ہے ، اور اس طرح بیان نہیں ہونا چاہئے ، اور کبھی کتابوں میں بھی اس طرح کے مطالب نظر آتے ہیں ، کہ کچھ عرصہ پہلے ہمارے بڑے اساتید حفظہ اللہ میں سے بعض کی کچھ کتابیں چھپ چکی ہیں ، کہ اس میں اپنے کچھ مکاشفات کو بھی بیان کیا ہے ، اگر یہ ذکر نہ ہوتے تو بہت اچھا تھا ، معاشرہ میں اس طرح کے مکاشفات کو قبول کرنی کی قدرت نہیں ہے ، حتی کہ خود حوزہ علمیہ کے طلاب میں بھی یہ قدرت نہیں پائی جاتی ، اس وجہ سے یہ چیزیں افراط اور تفریط کا شکار ہو جاتا ہے ، کچھ افراد ممکن ہے غلو کرے لے اور اس شخصیت کو تالی تلو عصمت تک قرار دیں اور یہ بھی ممکن ہے کہ نعوذ باللہ بعض افراد ان کو تالی تلو کفر قرار دیں ، چونکہ ان چیزوں کو صحیح طرح سمجھ نہیں سکتا ہے، لہذا یہ بھی "لا تقل کلّ ما تعلم" کے مصادیق میں سے ایک ہے، انسان کے لئے بعض اوقات کچھ مکاشفات یا اپنے لئے کچھ حالات پیدا ہوتے ہیں وہ بھی اسی کے مصادیق میں سے ہے ، اس حدیث کے بارے میں اور بھی غور و فکر کریں شاید اس سے بھی بہتر معنی کر سکے ۔
ماخذ : منبع : وسایل الشیعه، ج15، ص 169
قرآن کریم کی تلاوت
تاریخ 16 February 2026 و ٹائم 19:58
وسائل الشیعہ کتاب جہاد کے دوسرے باب کی ساتویں روایت کا ایک حصہ یہ ہے کہ امیر المومنین علیہ السلام محمد بن حنفيہ کے لئے جو وصیت کرتا ہے اس میں فرماتا ہے : «عَلَيْكَ بِقِرَاءَةِالْقُرْآنِ وَ الْعَمَلِ بِمَا فِيه»،قرآن کی تلاوت اور اس پر عمل کرنے کی وصیت فرماتا ہے ، دو چیز يں ایسی ہیں کہ روایات میں ان کے لئے کوئی حد اور حدود مشخص نہیں ہیں اور اس کے جتنا زیادہ ہو سکے بجا لانے کی ترغیب ہوئی ہے ، ایک بہت زیادہ نماز پڑھنا ہے اور دوسری چیز قرآن کریم کی تلاوت ہے ،قرآن کریم کے بارے میں جو روایات نقل ہوئی ہیں وہ واضح طور پر اس معنی پر دلالت کرتی ہیں ،یہاں پر امیر المومنین علیہ السلام محمد بن حنفيہ سے یہی سفارش فرما رہا ہے ،اب اس حدیث کے ذیل میں اعضاء و جوارح کے کچھ فرائض بیان ہوئے ہیں ، اور یہ ممکن ہے کہ ان فرائض کا انجام پانے کا راستہ یہی ہو ،اگر انسان اپنے ہاتھوں ، پاوں ، کان اور ۔۔۔۔ کے فرائض انجام پائے اور واقع بھی ہو جائے اور اسی پر باقی بھی رہے تو اس کا راستہ یہی ہے «عَلَيْكَ بِقِرَاءَةِ الْقُرْآنِ وَالْعَمَلِ بِمَا فِيهِ وَ لُزُومِ فَرَائِضِهِ وَ شَرَائِعِهِ وَ حَلَالِهِ وَ حَرَامِهِ وَ أَمْرِهِ وَ نَهْيِه»،قرآن کریم میں امر اور نہی ، حلال اور حرام ، واجبات اور احکام جو بھی بیان ہوئے ہیں انسان اپنے آپ کو ان کے انجام دینے کا پابند قرار دیں «وَ التَّهَجُّدِ بِه»،یہاں پر رات میں قرآن پڑھنے پر تاکید ہوئی ہے ، معلوم ہوتا ہے کہ اگر انسان خاص کر سحر کے نزدیک اگر قرآن کی قرائت کرے تو اس کی اپنی ایک خاص اہمیت ہے ،«وَ تِلَاوَتِهِ فِي لَيْلِكَ وَ نَهَارِكَ»،اس کے بعد فرماتا ہے «فَإِنَّهُ عَهْدٌ مِنَ اللهِ»،وہ تہجد ، شاید پوری رات انسان قرآن کے ساتھ رہے ، اس "لیلک اور نهارک" سے مراد یہ ہے کہ زندگی میں قرآن کے لئے کوئی ایک خاص وقت معین نہیں ہے ، صبح ، ظہر ، عصر، رات ، جس وقت پر بھی ہو قرآن کی تلاوت کرے «فَإِنَّهُ عَهْدٌ مِنَ اللهِ تَبَارَكَ وَ تَعَالَى»،یہ علت کو بیان کر رہا ہے «إِلَى خَلْقِهِ فَهُوَ وَاجِبٌ عَلَى كُلِّ مُسْلِمٍ أَنْ يَنْظُرَ كُلَّ يَوْمٍ فِي عَهْدِهِ وَ لَوْ خَمْسِينَ آيَةً»،یہ انسان کا خدا سے تجدید عہد کے لئے ہے ، انسان کا خدا سے بیعت ہے ،انسان جب بھی قرآن پڑھتا ہے خداوند متعال سے ایک جدید بیعت کر لیتا ہے «وَ اعْلَمْ أَنَّ دَرَجَاتِ الْجَنَّةِ عَلَى عَدَدِ آيَاتِ الْقُرْآن»، یہ ایک مشہور بات ہے کہ شايد آپ سب کو معلوم ہو گا ، خود بہشت کی حقیقت کو قرآن تشکیل دیتا ہے ، بہشت کے درجات کو خداوند متعال نے قرآن کریم کی آیات کے تعداد کے مطابق بنایا ہے ، اور جنت کی حقیقت اور اس کے درجات انہیں آیات سے بنتا ہے ، اس کا معنی یہ نہیں ہے کہ جو بھی قرآن کریم کی ایک آیت کو جانتا ہو اور اسے پڑھ لیں صرف ایک درجہ اوپر جاتا ہو کیونکہ اس حدیث میں فرماتا ہے «فَإِذَا كَانَ يَوْمُ الْقِيَامَةِ يُقَالُ لِقَارِئِ الْقُرْآنِ اقْرَأْ وَ ارْق»، قیامت کے دن قرآن کے قاری سے کہا جائے گا: قرآن پڑھتے ہوئے اوپر درجات پر جاؤ " بلکہ قرآن کریم کا بطون بھی جنت کے درجات کے جزء میں سے ہے ، یعنی جو بھی قرآن کریم کے بطن اور اس کے تفسیر سے نزدیک اور آشنا ہو اس کےلئے بھی زیادہ سے زیادہ درجات ہوں گے، لہذا یہ بتا سکتے ہیں کہ ایسا نہیں ہے کہ جنت کے درجات صرف ظاہری آیات کے تعداد کے مطابق ہو ، بلکہ اس میں قرآن کریم کا بطون بھی شامل ہے ، جو بھی انسان قرآن کریم کی آیات کے باطن سے جتنا زیادہ آگاہ ہو اتنا ہی زیادہ اس کا درجات ہو گا اور چونکہ آیات کے بطن کا کوئی حد معین نہیں ہے تو یہ خود خداوند تبارک و تعالی سے ملاقات پر ختم ہوگا «فَلَا يَكُونُ فِي الْجَنَّةِبَعْدَ النَّبِيِّينَ وَ الصِّدِّيقِينَ أَرْفَعُ دَرَجَةً مِنْهُ»انبياء اور صدیقین کے بعد سب سے اونچا درجہ اس شخص کا ہے جو قرآن کا قاری ہو ، البتہ اس بات کو میں نے اپنے بعض اساتید سے سنا ہے شايد بعض روایات میں بھی ہو کہ ممکن ہے کوئی اس دنیا میں حافظ قرآن ہو، لیکن جب وہ اس دنیا سے چلا جائے قرآن کی ایک آیت بھی اس کے لئے باقی نہ رہے ، یہ احتمال بھی ہے ، یہ ایک حقیقت ہے ، جو شخص اس دنیا سے قرآن کو اپنے ساتھ اُس عالم میں لے جا سکے، یہ توفیق اس کےلئے پیدا ہو جائے بہت بڑی توفیق ہے انشاء اللہ خداوند متعالی ہم سب کو نصیب فرمائے.
ماخذ : ماخذ: وسائل الشیعه، ج 15، ص 171