نصحتیں اور قیمتی باتیں

اپنا سوال پوچھیں
امام صادق علیہ السلام کا علماء اہل سنت سے برتاؤ
تاریخ 16 February 2026 و ٹائم 18:16

امام صادق علیہ السلام کا علماء اہل سنت سے برتاؤ

میں ابتدائی طور پر یہ عرض کروں گا کہ ہمیں چاہئے  امام صادق علیہ السلام ( یہ ایام آپ کی شہادت کے ایام ہیں ) کے بارے میں کچھ زیادہ توجہ دیں ، ہم اپنے گھر ، رشتہ داروں اور اپنے شہر میں امام صادق علیہ السلام کی نسبت ایک خصوصی احترام کا قائل ہو جائے ،مشہور مورخین اور رجال شناس افراد کے قول کے مطابق ، اصول اربعمائمہ امام صادق علیہ السلام کے زمانہ میں موجود تھا ، اور یہ بات کثرت  کے ساتھ بیان ہوئی ہے کہ اسی وقت یا اس کے بعد والے زمانہ میں مسجد کوفہ میں 900 ایسے افراد کو میں نے دیکھا جو سب یہ بتاتے تھے : قال جعفر بن محمد۔

لہذا اس وقت امام صادق علیہ السلام سے جو روایات ہمیں ملی ہیں ، ہماری فقہ کی بنیاد یہی روایات ہیں ، اور یہ سب امام صادق علیہ السلام کے وجود کی برکت سے ہے،اسی طرح ہمارے فقہی اور علمی حیات ، ہمارا حوزہ علمیہ سب کے سب انہی حضرت سے مربوط ہے ، لہذا  اس امام علیہ السلام کی شہادت کے دن خاص توجہ دینے کی ضرورت ہے ، جہاں تک ہم سے ہو سکے مجالس عزاء برپا کرے اور آپ علیہ السلام کے زندگی کے مختلف پہلوں کے بارے میں شناخت پیدا کرے ، میں ہمیشہ بتاتا رہتا ہوں کہ ایک اہم کام جو ابھی تک نہیں ہوا ہے اور  ہونا چاہئے ،یہ ہے کہ امام صادق  اور امام باقر علیہما السلام کا اہل سنت کے علماء ؛ ابوحنفیہ ، قتادہ، ابن ابی لیلا، ابن مالک اور دوسروں کے ساتھ رویہ کیسا تھا؟ لوگوں کو ان کے ساتھ وحدت کی رعایت ، ان کے مجالس میں شرکت کرنے ، ان کے تشیع جنازہ میں شرکت کرنے ، ان کے ساتھ مدارات سے پیش آنے اور ان کے نمازوں میں شرکت کرنے کی تشویق دلاتے تھے ، ان سب کے باوجود ان کے درجہ اول کے افراد کے لئے علمی لحاظ سے کسی ارزش کا قائل نہیں تھے اور اسے بیان بھی فرماتے تھے ، کبھی ایک ہی جگہ پر ان کے ساتھ جب جمع ہوتے تھے تو امام صادق علیہ السلام ان سے کچھ سوالات بھی  پوچھتے تھے۔

اس پر خاص توجہ دیں کہ روایات میں ہے کہ سوال صرف سمجھنے کے لئے ہوناچاہئے اس کے علاوہ اس سے کوئی اور غرض اور مقصد نہیں ہونا چاہئے ، لیکن چونکہ ان لوگوں نے اپنے آپ کو فتوا دینے کی اس منصب پر قرار دیا ہوا تھا تو حضرت ان کو یہ سمجھانا چاہتے تھے کہ تمہارے اندر فتوا دینے کی صلاحیت نہیں ہے ، اور کچھ موارد کو بھی بیان فرماتے کہ ہماری روایات میں بہت سارے موجود ہیں ، امام باقر علیہ السلام نے قتادہ سے فرمایا تم کس بنیاد پر اجتھا د کرتے ہو اور کیسے فتوا دیتے ہو ؟ اس نے جواب دیا : میں قرآن کے مطابق فتوا دیتا ہوں ، آپ علیہ السلام نے اس سے فرمایا:«مَا وَرَّثَکَ اللَّهُ مِنْ کِتَابِهِ حَرْفا»،تمہیں قرآن کی حقیقت سے ایک حرف  کے بارے میں بھی علم نہیں ہے ، میں پہلے بھی بتا چکا ہوں کہ اس سے حضرت علیہ السلام کا مراد یہ نہیں ہے کہ تمہیں قرآن کے ظاہر سے کچھ بھی معلوم نہیں ہے ، کیونکہ قرآن کا ظواہر سب لوگوں کے لئے قابل فہم ہے ، لیکن انسان کو آیات کی حقایق سے کچھ استفادہ کرنا چاہئے اور بہت گہرے مطالب تک پہنچنا چاہئے ، اس بارے میں تمہیں کچھ بھی سمجھ نہیں آتا ہے ، یا بہت سارے مواقع پر حضرت علیہ السلام ابو حنفیہ سے مختلف سوالات کرتے ہیں ، وہ واقعہ جو کتاب مکاسب میں صحیحہ ابو ولاد میں ذکر ہوا ہے ، کہ کسی شخص نے ایک خچر کو ایک خاص جگہ تک جا کر واپس آنے  کے لئے کرایہ پر لیا، لیکن اس جگہ سے واپس نہیں آیا بلکہ کسی اور جگہ چلا گیا ، آدھا دن جاکر واپس آنے کے بجائے ، 15 دن یہ سفر طویل ہوا ، خچر کا مالک سنی تھا ، اور جس نے کرایہ پر لیا تھا وہ شیعہ تھا ،یہ لوگ ابوحنیفہ کے پاس چلے گئے ، ابوحنیفہ نے کہا : جو پیسہ اجارہ کے لئے معین ہوا تھا وہی دینا ہو گا اس کے علاوہ کچھ اور دینا ضروری نہیں ہے ، خود یہ سنی بھی اس ظالمانہ فتوا سے تعجب کرنے لگے ، لیکن چونکہ ابوحنیفہ نے کہا تھا لہذا اس بات کو یہیں پر ختم کر لیا ، لیکن اس  شیعہ شخص  کو حج کے ایام میں امام صادق علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہونے کا شرف حاصل ہوا اور اس نے امام علیہ السلام کی خدمت میں اس واقعہ کو بیان کیا ، آپ علیہ السلام نے فرمایا : اسی طرح کے فتوا کی وجہ سے ہے کہ آسمان سے بارش نہیں برستی  اور زمین سے سبزہ نہیں نکلتا ۔

ایسے مواقع پر تقیہ کچھ نہیں تھا اور ان سے فرما دیتے تھے کہ تمہارے اندر دین سمجھنے کی کوئی اہلیت نہیں ہے ، فتوا دینے کی اہلیت نہیں رکھتے ہو ، اگر ابو حنیفہ کی ان فتواوں کو جمع کر لیں تو ان میں بہت سے عجیب غریب چیزیں نظر آتی ہیں ، یہ روایت ظاہرا پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے ہے کہ فرماتے ہیں : «الولد للفراش» بچہ شوہر کا ہے ، اس کے ذیل میں ایک عجیب فتوا جو میں نے خود اہل سنت کی فقہی کتابوں میں دیکھا ہے یہ ہے کہ اگر دنیا کے اس کونہ میں ایک مرد نے دنیا کے دوسرے  کونہ میں ایک عورت سے شادی کر لی ، تو یہ عقد صحیح ہے اگرچہ ان دونوں میں سے کسی نے بھی دوسرے کو نہیں دیکھا ہو ، اگر دس سال بعد اس عورت کے ہاں کوئی بچہ ہوا تو ابو حنیفہ کہتاہے ، یہ بچہ اس مرد کا ہے جو دنیا کے اس کونہ میں ہے، یہ اس کے فتواوں میں سے ایک ہے ، واقعا ان لوگوں نے اسلام کے ساتھ کیا کھیل کھیلا ہے اور اسلام کو کن مصیبتوں میں ڈال دیا ہے ۔خود ابو حنیفہ نے کہا ہے کہ ہمارے پاس پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے 5 سے زیادہ قطعی احادیث نہیں ہیں ،اس کے علاوہ باقی چیزوں کو ہمیں خود حل کر لینا چاہئے اور اس نے ایسا ہی کر لیا ، قیاس سے تمسک کرتے ہوئے اکثر مسائل کو حل کر لیا ، یہاں پر  مجھے ہمارے مرحوم والد محترم (اعلی اللہ مقامہ الشریف) کی ایک بات یاد آتی ہے ، کہ آپ فرمایا کرتے تھے کہ اگر مجھ سے پوچھیں کہ آئمہ علیہم السلام کی مظلومیت کس میں ہے ؟ میں یہ بتاوں گا کہ ان کی مظلومیت صرف امامت کے غصب کرنے یا ان کی بے احترامی کرنے میں نہیں ہے ، بلکہ ان کی مظلومیت اس میں ہے کہ ایک وقت ایسا تھا کہ اسی مکہ اور مدینہ میں ہزاروں افراد کی تربیت کر تے تھے  ، سارے مسائل میں ان سے دس ہزار روایات موجود ہیں ، لیکن آج ہم جب مکہ اور مدینہ جاتے ہیں تو ان میں سے ایک روایت کا بھی کوئی اثر وہاں موجود نہیں ہے ۔

فرماتے تھے بقیع کو ان لوگوں نے خراب کر لیا ، یہ ہمارے لئے ایک بہت بڑی پریشانی ہے ، اور یہ کبھی ختم نہ ہونے والی پریشانی ہے ، لیکن ان کی مظلومیت اس میں نہیں ہے کہ ان کے گنبد اور بارگاہ کو خراب کر لیا ، بلکہ ان کی مظلومیت یہ ہے کہ ایک وقت ایسا تھا کہ مکہ و مدینہ کے مالک اور آقا تھے ، وہاں پر سارے روای ان  کے محضر سے استفادہ کرتے تھے ، حتی کہ خود ابوحنیفہ امام صادق علیہ السلام کے شاگردوں میں سے تھا ، اور مالک نے یہاں تک کہا تھا کہ جعفر بن محمد سے زیادہ فقیہ نہ کسی  آنکھ نے دیکھی ہے اور نہ کسی کان نے  سنا ہے ، اور ان علیہ السلام سے زیادہ کسی کے بھی قلب میں علم خطور نہیں کرتا ہے ، لیکن اب یہ نظر آتا ہے کہ وہاں پر ان میں سے کسی چیز کا بھی کوئی اثر موجود نہیں ہے ۔



ماخذ :

۱,۸۴۰ قارئين کی تعداد:

حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کی فضلیت
تاریخ 16 February 2026 و ٹائم 18:16


                                                                  حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا  کی فضلیت

شیعہ  کی حقیقت  حضرت زہرا سلام اللہ علیہا  کی مرہون منت ہے اور شیعہ کی بقاء اور استمرار اور سب کچھ حضرت زہرا سلام اللہ علیہا  کی برکت سے ہے ، اس بات سے قطع نظر کہ تمام آئمہ اطہارعلیہم السلام آپ کے اولاد ہیں ، ( البتہ اسے  بتا رہا ہوں وگرنہ بہت سارے حقایق اسی میں پوشیدہ ہے ، کلی طور پر مسئلہ امامت اور آئمہ طاہرین علیہم السلام ایک بہت مہم مسئلہ ہے ، ہمارے دین میں امامت ایک اصل کے عنوان سے بیان ہوا ہے ) لیکن خود حضرت زہرا سلام اللہ علیہا  کی شناخت اور آپ کے ابعاد وجودی کے بارے میں آگاہی پیدا کرنا خود ایک بہت بڑا میدان ہے جس کی کوئی انتہاء نہی ہے ، انسان اس میں کسی انتہاء تک نہیں پہنچ سکتا  ، ہمیں چاہئے کہ حضرت زہرا سلام اللہ علیہا  کی نسبت زیادہ سے زیادہ  شناخت پیدا کرے ، یہ ایام جو  آپ کے عزاداری  کے ایام ہیں ،یہ ظلم و ستم جو آپ پر ڈھائے گئے ، ان مصائب کو ذکر کرنے کے ساتھ ساتھ کچھ حد تک آپ سلام اللہ علیہا  کی مقام و منزلت کو بھی جان لیں ، کتاب بحار الانوار ( جلد 43 کہ اس کے زیادہ تر مطالب حضرت زہرا سلام اللہ علیہا  کے بارے میں ہے ) میں کچھ  روایات ہیں کہ انسان حضرت کی عظمت اور شخصیت کے بارے میں دنگ رہ جاتا ہے ،میں ایک روایت کو بیان کرنا چاہتا ہوں کہ اس کے مضامین کو آپ نے بہت زیادہ سنا ہے ، لیکن اس روایت میں کچھ مطالب ہیں کہ ان کی طرف توجہ کرنا بہت ضروری ہے،حضرت زہرا سلام اللہ علیہا  کی فضلیت کے بارے میں ایک روایت ہے کہ مرحوم مجلسی نے اس روایت کو کتاب بحار الانوار میں ، تفسیر فرات سے نقل کیا ہے :«مُوسَى بْنُ عَلِيِّ بْنِ مُوسَى بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمُحَارِبِيُّ مُعَنْعَناً عَنْ أَبِي عَبْدِ اللهِ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ  عليه السلام  عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ قَالَ»، امام حسین علیہ السلام رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے نقل کرتا ہے : «قَالَ رَسُولُ اللهِ (صلی الله علیه و آله)‏ مَعَاشِرَ النَّاسِ تَدْرُونَ‏ لِمَا خُلِقَتْ‏ فَاطِمَةُ»،یہ ایک مطلب ہے کہ خود پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے بیان فرمانا شروع کیا ہے کسی نے ان سے سوال نہیں کیا ہے ، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم فرماتا ہے ، تمہیں معلوم ہے کہ جب حضرت فاطمہ سلام اللہ علیہا  خلق ہوئی تو ان کی خلقت کی کیفیت کیا تھی ؟«قَالُوا اللهُ وَ رَسُولُهُ أَعْلَمُ»،سب نے کہا : ہمیں معلوم نہیں ہے ، خدا اور اس کا رسول بہتر جانتا ہے ، فرمایا :«خُلِقَتْ فَاطِمَةُ حَوْرَاءَ إِنْسِيَّةً لَا إِنْسِيَّةً»؛ حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا  صرف ایک انسیہ کے طور پر خلق نہیں ہوا ہے بلکہ حوراء اور انسیہ سے مرکب ہے ، يعنی حضرت زہرا سلام اللہ علیہا  کی خلقت دوسرے تمام مخلوقات سے فرق ہے ، ان کی خلقت اور دوسرے تمام مخلوقین کی خلقت میں فرق ہے ، سارے مخلوقین صرف انسی ہیں ، محض انسان ہیں ، لیکن یہ مبارک وجود مرکب ہے حوراء اور انسیہ سے «قَالَ خُلِقَتْ مِنْ عَرَقِ جَبْرَئِيلَ وَ مِنْ زَغَبِهِ»؛ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا آپ سلام اللہ علیہا  جبرئیل کے عرق اور زغب سے خلق ہوئی ہے (لغت کی کتابوں میں لکھا ہے : زغب الصبی او زغب الفرخ"چوزے کے بدن میں جو چھوٹے چھوٹے پر ہوتے ہیں اسے زغب کہتے ہیں )

«قَالُوا يَا رَسُولَ اللهِ إِنَّهُ‏] أَشْكَلَ اشتكل ذَلِكَ‏] عَلَيْنَا تَقُولُ حَوْرَاءُ إِنْسِيَّةٌ لَا إِنْسِيَّةٌ ثُمَّ تَقُولُ مِنْ عَرَقِ جَبْرَئِيلَ وَ مِنْ زَغَبِهِ»؛ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے دو مطلب بیان فرمایا : 1۔ « خُلِقَتْ فَاطِمَةُ حَوْرَاءَ إِنْسِيَّةً لَا إِنْسِيَّةً»،

2) «خُلِقَت مِنْ عَرَقِ جَبْرَئِيلَ وَ مِنْ زَغَبِهِ»)، اصحاب نے عرض کیا : یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم ! یہ مسئلہ بہت زیادہ پیچیدہ ہو گیا ، اس کی حقیقت کیا ہے ؟ «قَالَ إِذاً أَنَا أُنَبِّئُكُمْ أَهْدَى إِلَيَّ رَبِّي تُفَّاحَةً مِنَ الْجَنَّةِ»،آپ نے فرمایا : میں ابھی اس واقعہ کو تمہارے لئے بیان کرتا ہوں ، خداوند تبارک و تعالی نے جنت سے میرے لئے ایک سیب  عطا فرمایا «أَتَانِي بِهَا جَبْرَئِيلُ فَضَمَّهَا إِلَى صَدْرِهِ»؛ جبرئیل نے اس سیب کو اپنے سینہ سے لگا لیا «فَعَرِقَ جَبْرَئِيلُ  ع] وَ عَرِقَتِ التُّفَّاحَةُ»؛ جبرئيل کو پسینہ آگیا اور اس کے کچھ قطرات اس سیب پر گر گیا ،«فَصَارَ عَرَقُهُمَا عَرَقُهَا] شَيْئاً وَاحِداً»؛ تو سیب اور جبرئیل کے پسینہ دونوں آپس میں مل گیا ، توجہ فرمائیں کہ جبرئیل نے اس سیب کو اس خاص حالت میں لایا ہے ، یعنی اس سیب کو ایک معمولی چیز لانے کی طرح نہیں لایا ہے کہ ہاتھ میں اٹھا کر لائے ، اس سے ہم یہ مطلب حاصل کر سکتے ہیں کہ انسان ایک بڑے تخفہ  اور جس کے لئے بہت زیادہ احترام کا قائل ہو اسے سینہ سے لگاتے ہیں «ثُمَّ قَالَ السَّلَامُ عَلَيْكَ يَا رَسُولَ اللهِ وَ رَحْمَةُ اللهِ وَ بَرَكَاتُهُ قُلْتُ وَ عَلَيْكَ السَّلَامُ يَا جَبْرَئِيلُ فَقَالَ إِنَّ اللهَ أَهْدَى إِلَيْكَ تُفَّاحَةً مِنَ الْجَنَّةِ»؛ جبرئيل کہتا ہے کہ خداوند تبارک وتعالی نے بہشت سے آپ کے لئے ایک سیب تخفہ بھیجا ہے «فَأَخَذْتُهَا فَقَبَّلْتُهَا وَ قَبَّلْتُهَا وَ وَضَعْتُهَا عَلَى عَيْنِي وَ ضَمَمْتُهَا إِلَى صَدْرِي»؛یعنی جبرئیل کتنا اس سیب کے لئے احترام اور تکریم کا قائل ہوا ہے ،صرف ایک معمولی کھانے یا صرف ایک بہشتی کھانے کے طور پر نہیں ہے ، بہشتی کھانا مریم سلام اللہ علیہا  کے لئے بھی آیا تھا اسی طرح بعض دوسرے کے لئے بھی آیا تھا ، لیکن جبرئیل نے اس سیب کو ایک خاص حالت میں لے آنا اس کی اہمیت کو بیان کرنے کے لئے ہے «ثُمَّ قَالَ يَا مُحَمَّدُ كُلْهَا»؛جبرئيل نے عرض کیا : یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم اس سیب کو نوش فرمائے «قُلْتُ يَا حَبِيبِي جَبْرَئِيلُ هَدِيَّةُ رَبِّي تُؤْكَلُ»؛ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم پہلے تو فرماتے ہیں کہ یہ خدا وند تبارک و تعالی کی طرف سے میرے لئے تخفہ ہے اور تخفہ کی حفاظت کرنی چاہئے اسے کھایا نہیں جاتا ،«قَالَ نَعَمْ قَدْ أُمِرْتَ بِأَكْلِهَا»؛جبرئیل نے فرمایا : جی ہاں ! لیکن یہاں پر آپ کو کھانے کا حکم ہے ،پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم فرماتے ہیں : «فَأَفْلَقْتُهَا»؛ میں نے اس سیب کو کاٹا «فَرَأَيْتُ مِنْهَا نُوراً سَاطِعاً»؛ (یعنی سیب کو جب دو نصف کر لیا ) تو اس میں سے ایک نور دیکھا ، اس کے بعد فرماتا ہے :«فَفَزِعْتُ‏ مِنْ ذَلِكَ النُّورِ»؛میں اس نور سے وحشت زدہ ہو گیا ، یعنی اس نور میں اتنی عظمت تھی کہ میں وحشت زدہ ہو گیا ، اور اس سیب سے ہی حضرت زہرا سلام اللہ علیہا  کا وجود دنیا میں آنا ہے ،یہاں پر رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے جملہ پر توجہ فرمائيں( خداوند متعالی کے بعد عقل اول ہے اور خدا کے نور کے بعد ان سے بڑھ کر کوئی نور نہیں ہے ) وہ فرماتا ہے :«فَفَزِعْتُ‏ مِنْ ذَلِكَ النُّورِ».«قَالَ كُلْ فَإِنَّ ذَلِكَ نُورُ الْمَنْصُورَةِ فَاطِمَةَ»؛ جبرئیل عرض کرتا ہے ، اس سیب کو نوش فرمائیں ، اس سیب میں فاطمہ سلام اللہ علیہا  کا نور ہے «قُلْتُ يَا جَبْرَئِيلُ وَ مَنِ الْمَنْصُورَةُ؟ قَالَ جَارِيَةٌ تَخْرُجُ مِنْ صُلْبِكَ وَ اسْمُهَا فِي السَّمَاءِ الْمَنْصُورَةُ وَ فِي الْأَرْضِ‏ فَاطِمَةُ»؛کیوں آسمانوں میں انہیں منصورہ کہا اور زمین میں فاطمہ کہا جاتا ہے ؟ ( یہاں پر آسمان میں منصورہ کہنے کی علت کو بیان نہیں کیا گیا ہے ، لیکن دوسری روایات میں یہ ذکر ہے ) صرف یہی فرماتے ہیں :«قَالَ سُمِّيَتْ فَاطِمَةَ فِي الْأَرْضِ لِأَنَّهُ‏ فَطَمَتْ شِيعَتَهَا مِنَ النَّارِ»؛فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا  کے شیعیان آگ سے الگ ہوئے ہیں اور شیعوں کو آتش سے جدا کیا گیا ہے ، اس کے بعد فرماتا ہے :«وَ فُطِمُوا أَعْدَاؤُهَا عَنْ حُبِّهَا»؛یہ بہت ہی مہم نکتہ ہے یعنی آپ سلام اللہ علیہا  کے دشمن آپ کے محبت سے جدا اور محروم ہوئے ہیں یعنی دشمنان کبھی بھی حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا  کی محبت کو اپنے اندر پیدا نہیں کر سکتے ہیں ۔

دشمن یہی کہتے ہیں کہ حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا  بھی دوسرے خواتین کی طرح ایک خاتون ہے، یہاں پر جس محبت کی بات ہوئی ہے یہ اس معمولی محبت کی طرح نہیں ہے جو عام انسانوں سے کرتے ہیں ، حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا  کی نسبت جو محبت ہے  اس کے لئے «بما لها من المقام»؛اس کا اپنا ایک خاص مقام ہے ، وہ بھی اس وجہ سے کہ یہ ایک ایسی نورانی خلقت ہے ، رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کا حضرت فاطمہ سلام اللہ علیہا  سے محبت بھی اسی وجہ سے تھا،حضرت فاطمہ سلام اللہ علیہا  کو چومتے تھے اور فرماتے تھے کہ مجھے فاطمہ سلام اللہ علیہا  سے بہشت کی بو آتی ہے ، ایسی محبت مراد ہے ، لہذا میرا اصرار یہ ہے کہ ہم اپنے اندر ایسی محبت کو زیادہ کرے، حضرت فاطمہ سلام اللہ علیہا  کی اس عظمت کو ہم اپنے اندر فکر اور ذہن میں ہر روز زیادہ سے زیادہ قرار دیں ، ہرسال اس سے پہلے والے سال کی نسبت فاطمیہ کو زیادہ سے زیادہ باشکوہ انداز میں برگزار کرے ، اور اپنے گھر والوں اور جدید نسل کو حضرت فاطمہ سلام اللہ علیہا  سے زیادہ سے زیادہ آگاہ کرے، اور بعض لوگ آکر کچھ احقمانہ جو بات کرتے ہیں کہ اس وقت کیا گھروں کے دروازے بھی تھے یا نہیں ؟!یہ بہت ہی چھوٹی باتیں ہیں ، فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا  ایک الگ مخلوق ہیں ، ان کی خلقت سے لے کر تمام مناقب اور فضائل سب مختلف ہیں  ،کیا یہ ممکن ہے کہ کوئی مسلمان ایک ایسی ہستی کی طرف توجہ نہ کرے ؟مگر یہ ممکن ہے کہ شیعہ حضرت فاطمہ سلام اللہ علیہا  کی نسبت بی تفاوت ہو، ایک ایسی ہستی اپنے والد گرامی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے بعد کتنی مدت زندہ رہے ؟ اس وقت کے اسلامی معاشرہ نے رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے رحلت کے بعد کونسا ایسا کام کیا تھا کہ بہت ہی کوتاہ مدت میں شہید ہوگئی؟یہ سب مسلم باتیں ہیں ، میں یہ پہلے بھی عرض کر چکا ہوں کہ "فاطمہ شناسی " حوزہ کے دورس میں سے ایک ہونا چاہئے ، حوزہ علمیہ میں جو بھی طلبہ تعلیم حاصل کر رہے ہیں اس کا حضرت فاطمہ سلام اللہ علیہا  کے بارے میں  مطالعات بہت زیادہ ہونا چاہئے ، جب یہ کہا جاتا ہے کہ حضرت زہرا سلام اللہ علیہا  معصوم تھی اور ان کا مقام عصمت ہے ، تو اس میں کوئی شک و شبہہ نہیں ہونا چاہئے ، اور یہ اس کے لئے سوالیہ نشان نہیں ہونا چاہئے !حضرت زہرا سلام اللہ علیہا  کے علمی مقام و منزلت ، قرآن کریم پر آپ کو جو تسلط حاصل تھی، مسجد میں آپ سلام اللہ علیہا  نے جو خطبہ ارشاد فرمایا اس پر آپ توجہ دیں ، ایک خاتون ہے ابھی  والد گرامی پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے رحلت کے چند روز ہی گزرے ہیں ، ابھی آپ مصیبت زدہ ہے ، کس قدر آپ نے قرآن کریم کی آیات سے تمسک کیا ہے ؟! کیا ایک عام انسان ایک خطبہ میں اتنی ساری آیات سے تمسک کر سکتا ہے ؟!یہ سب ان کی نوری خلقت کے لئے ہے ، حضرت زہرا سلام اللہ علیہا  کے علم کی کیفت کے بارے میں ہمارے پاس کچھ روایات ہیں ، اور آپ عالم ما وراء سے کیسے ارتباط میں تھے اس بارے میں کچھ روایات ہیں، ان کے علم  کے بارے میں ، ان کے محدثہ ہونے کے بار ے میں ،اسی طرح مصحف حضرت زہرا سلام اللہ علیہا   یہ سب ایسی چیزیں ہیں کہ ان کے بارے میں ہمیں اچھی طرح آگاہ ہونا چاہئے ، یہ ایام فاطمیہ ایسے ایام ہیں کہ اگر ہم خدا سے نزدیک ہونا چاہتے ہیں تو حضرت زہرا سلام اللہ علیہا  کی شناخت کے ذریعہ یہ ممکن ہے ، خدا سے تقرب پیدا کرنا حضرت زہرا سلام اللہ علیہا  کے مقام کے اعترا ف کے بغیر ممکن نہیں ہے ، یہ مطلب ایک ایسا مطلب ہے کہ جو روز روشن کی طرح ہمارے لئے عیاں ہے،خدا سے تقرب اس عظیم خاتون کی شناخت کے بغیر ممکن نہیں ہے ، ہمارے عزاداری پہلے سے بہت زیادہ مفصل ہونا چاہئے ، اور ایام فاطمیہ کے عزاداری میں کوئي کمی نہیں ہونی چاہئے، اگر شیعوں کو زندہ رہنا ہے اور ترقی کی طرف گامزن رہنا ہے تو ان عزاداری کو باشکوہ انداز میں قائم رکھنا چاہئے ، ہمیں سوچنا چاہئے کہ کونسی عظیم شخصیت ان ایام میں ہم سے جدا ہوئے ہیں ، ان پر کیا کیا مظالم ڈھائے گئے ہیں کہ یہ مظالم قابل انکار بھی نہیں ہے ،ان ایام میں انسان کم از کم اسی کتاب بحار الانوار کو اٹھا کر دیکھ لیں ، اور اس میں حضرت زہرا سلام اللہ علیہا  کے بارے میں جو روایات نقل ہیں ان کو پڑھ لیں ، انشاء اللہ ہم سب کو آپ سلام اللہ علیہا  کی شفاعت نصیب ہو «و في السماء المنصورة ذَلِكَ قَوْلُ اللهِ فِي كِتَابِهِ‏ وَ يَوْمَئِذٍ يَفْرَحُ الْمُؤْمِنُونَ بِنَصْرِ اللهِ‏ بِنَصْرِ فَاطِمَةَ (سلام الله علیها؛ چونکہ سب  کوحضرت زہرا سلام اللہ علیہا  کی مدد حاصل ہوتی ہے لہذا یہ فرمایا ہے ۔


منبع : بحار الأنوار، ج 43، ص 18



ماخذ : بحار الأنوار، ج 43، ص 18

۲,۷۵۶ قارئين کی تعداد:

ٍزبان کی حفاظت
تاریخ 16 February 2026 و ٹائم 18:16

زبان کی حفاظت


اسی حدیث کے سلسلے میں جس کا ایک حصہ  پچھلے ہفتہ بیان ہوا کہ امیر المومنین علیہ السلام نے محمد بن حنفيہ سے فرمایا : یا بنی لا تقل ما لا تعلم،اے بیٹا ! جس چیز کے بارے میں  نہیں  جانتا ہو اس کے بارے میں کچھ نہیں بولو " اس کے بعد فرماتا ہے : بل لا تقل کلّ ما تعلم"،بلکہ ہر وہ چیز جس کے بارے میں علم ہے اسے بھی نہ بولو!یہ  ایک بہت ہی اہم حکم ہے کہ انسان کو چاہئے اپنی زندگی میں اس کی رعایت کرے ، انسان  کے پاس یہ قدرت اور طاقت ہونی چاہئے کہ وہ اپنی زبان پر کنٹرول کرے اور اس کی حفاظت کر سکے، اب کبھی  انسان کسی چیز کے بارے میں کچھ جانتا ہے اور وہ اسے اظہار کرنا چاہتا ہے ، کہ کبھی یہ ہم طلاب کے درمیان میں بھی پایا جاتا ہے کہ اظہار فضل کرنا چاہتے ہیں، یہ ایک نا پسند کام ہے ، ہمارے بزرگان بھی اس کا بہت خیال رکھتے تھے کہ حتی الامکان اپنی فضل اور جس چیز کو جانتے ہیں ان کا اظہار نہ کرے،کبھی  ایسا بھی ہوتا ہے کہ کسی جمع میں بیٹھے ہوتے ہیں ، اور اس شخص سے سوال نہیں ہوتا بلکہ کسی اور شخص سے کسی موضوع کے بارے میں سوال ہوتا ہے ، اور دوسرا شخص جس سے سوال ہوا ہے وہ عمر میں بڑے ہوں، لیکن دوسرے افراد جو جوان ہیں وہ اس سوال کے جواب دینے میں جلدی کرتے ہیں ، یہاں پر پہلی بات تو یہ ہے کہ اگر یہ جو جواب دیتا ہے اگر کامل ہو اور صحیح بھی ہو پھر بھی یہ اس شخص کے ذہن میں نہیں بیٹھتا ہے جس نے سوال کیا ہے ، وہ اس پر کوئی اعتناء نہیں کرے گا ، وہ اپنی جگہ پر مصمم ارادہ کیا ہوا ہے کہ اس کی بات پر کوئی توجہ نہیں دینا ہے ، تو انسان کو کیا ضرورت پڑی ہے کہ  ایسے مواقع پر اپنے آپ کی تذلیل کرے ، انسان کو چاہئے جب تک خود اس سے کوئی سوال نہ ہو کوئی جواب نہ دے۔

مجھے یاد ہے کہ مرحوم آقای اشتھاردی جو کہ تقریبا 10 سال  مکہ میں ہمارے مرحوم والد بزرگوار کے بعثہ میں مشرف رہتے تھے ، میں بھی ان کے ساتھ ہوتا تھا ، ان کی ایک بہت ہی اچھی خصوصیت یہ تھی کہ جب تک ان سے سوال نہ کرتے تھے کوئی بات نہیں  کرتے  تھے ، اور اگر صبح سے ظہر تک ان سے سوال کرتے تو مسلسل جواب دیتے ، ایک موبائل عروۃ الوثقی (احکام کی ایک جامع کتاب) تھے، مرحوم اشتھاردی کے ذہن میں شرعی احکام اور فروعات اور مختلف نظریات راسخ تھے ،اور اگر کوئی آکر ان کے ساتھ بیٹھے ہوئے کسی سے سوال کرتے ، تو آپ اس کا کوئی جواب نہیں دیتے تھے ، جب تک  خود  ان سے  سوال نہیں کرتے کوئی جواب نہیں دیتے تھے ، یہ بہت اچھا طریقہ ہے ، لیکن اس کے لئے نفس پر بہت زیادہ کنٹرول کی ضرورت ہے ، انسان کو کسی مسئلہ کے بارے میں بہت اچھی طرح معلوم ہو اور اس کے حضور میں کسی ایسے شخص سے پوچھے جو اس سوال کے جواب کو غلط بتا رہا ہو ، لیکن یہ انسان اپنے آپ پر کامل طور پر مسلط رہے اور خاموش رہے ،بہت ہی قدرتمند ہونے کی ضرورت ہے ، بہر حال جہاں پر انسان پر کچھ بولنا واجب نہ ہو وہاں ایسا ہی کرنا چاہئے ، لیکن بعض  جگہوں پر انسان پر واجب ہو جاتا ہے تا کہ کسی جاہل کی  اصلاح کرے وہاں پر کوئی بات نہیں ہے ، وہاں پر انسان کچھ بولے لیکن اگر ایسی کسی چیز کی ضرورت نہ ہو تو خاموش رہنا بہتر ہے ،کوئی  جواب  نہ دینا بہتر ہے ،یہ ایک مثال ہے ، اس کے لئے اور بھی بہت سارے مثالیں ہیں ، مثلا کسی جگہ چند لوگوں کے ساتھ بیٹھا ہوا ہے وہاں پر اس سے کوئی سوال بھی نہیں ہوتا لیکن وہ کچھ بات کر لیتا ہے تا کہ اس کے علمی مراتب کو دیکھا دیں ، ایسے کام کرنے کی کیا ضرورت ہے ؟ امیر المومنین علیہ السلام فرماتے ہیں : فإن الله قد فرض علی جوارحک کلّها فرائض یحتجّ بها علیک یوم القیامة،ہم یہ نہ سوچيں  کہ ہمیں کچھ معلوم ہے ، اگر ہم نے وہ بیان کر دیا تو قیامت کے دن خداوند متعالی اس کے بارے میں ہم سے پوچھيں گے ، انسان کے ہر اعضاء و جوارح کے لئے کچھ فرائض قرار دیا ہے خدا ان سے قیامت کے دن پوچھیں گے ، " و يسالك عنها و ذكرها و وعظها و حذرها و ادبها" ان اعضاء اور جوارح کو ادب کی ہے ،ایسے ہی فضول میں نہیں چھوڑا ہے ! ان اعضاء و جوارح کو جسے خداوندمتعالی نے ہمارے اختیار میں قرار دیا ہے " و لم تبركها سدى" فضول میں رہا نہیں کیا ہے ، اس کے بعد اس آیت کریمہ سے تمسک کرتے ہیں :" فقال الله عزوجل : (و لا تقف ما ليس لك به علم ان السمع و البصر و الفواد كل اولئك كان عنه مسولا " اور اس کے بعد اس آیت کریمہ سے بھی استدلال کیا ہے :" اذ تلقونه بالسنتكم و تقولون بافواهكم ما ليس لكم به علم و تحسبونه هينا و هو عندالله عظيم " اس میں خداوند متعالی فرماتا ہے : اس وقت کو یاد کرو کہ  تلقّونه بألسنتکمکہ اس تہمت اور افتراء کو ایک دوسرے کے زبان سے نقل کرتے تھے ، یعنی ایک شخص دوسرے کو بتاتا تھا اور وہ تیسرے شخص کو اور تیسرا  چوتھے  شخص کو "و تقولون بأفواههم ما لیس لکم به علم و تحسبونه هیّنا" اور یہ سوچتے تھے کہ اس میں کوئی  مسئلہ  نہیں ہے ! یہ ایک بہت ہی اہم بات ہے کہ کبھی انسان کسی چیز کے بارے میں بتاتا ہے اور اس کے بارے میں اس کو کچھ معلوم بھی نہیں ہے ، اور جب اس شخص سے پوچھا جائے کہ کیوں ایسی بات کی ہے تم نے ؟ تو وہ یہی کہتا ہے کہ میں نے سنا تھا ، اور اپنے اس کام کو بہت ہی ہلکا سمجھتا ہے ، لیکن خدا فرماتا ہے "و هو عند الله عظیمٌ"،خدا کے نزدیک یہ بہت بڑا ہے ، یہی لا تقل کلّ ما تعلم" کے مصادیق میں سے ایک مصداق ہے  ، اس کا ایک مصداق یہ ہے کہ کبھی انسان اپنے بارے میں کچھ مکاشفہ ( مثلا اپنے بارے میں کچھ مکاشفہ ہوا ہے ) اسے بیان کر دیتا ہے ، اور مخاطب کے لئے اسے قبول کرنا بہت ہی مشکل ہے ، اسی طرح کچھ دوسروں کے بارے میں کچھ مکاشفات کو جانتے ہیں ، اور جا کر منبر سے ان عوام کے لئے  بیان  کرتے ہیں  جو  خود خواب اور بیدار ی کو نہیں جانتے ہیں ، کہتا ہے کہ میں آپ لوگوں کے لئے کچھ  مکاشفات  بیان کرنا چاہتاہوں ، یہ اچھی بات نہیں ہے ، اور اس طرح بیان نہیں ہونا چاہئے ، اور کبھی کتابوں میں بھی اس طرح کے مطالب نظر آتے ہیں ، کہ کچھ عرصہ پہلے ہمارے بڑے اساتید حفظہ اللہ میں سے بعض کی کچھ کتابیں چھپ چکی ہیں ، کہ اس میں اپنے کچھ مکاشفات کو بھی بیان کیا ہے ، اگر یہ ذکر نہ ہوتے تو بہت اچھا تھا ، معاشرہ میں اس طرح کے مکاشفات کو قبول کرنی کی قدرت نہیں ہے ، حتی کہ خود حوزہ علمیہ کے طلاب میں بھی یہ قدرت نہیں پائی جاتی ، اس وجہ سے یہ چیزیں افراط اور تفریط کا شکار ہو جاتا ہے  ، کچھ افراد ممکن ہے غلو کرے لے اور اس شخصیت کو تالی تلو عصمت تک قرار دیں اور یہ بھی ممکن ہے کہ نعوذ باللہ بعض افراد ان کو تالی تلو کفر قرار دیں ، چونکہ ان چیزوں کو صحیح  طرح  سمجھ  نہیں سکتا ہے، لہذا یہ بھی  "لا تقل کلّ ما تعلم" کے مصادیق میں سے ایک ہے، انسان کے لئے بعض اوقات کچھ مکاشفات یا اپنے لئے کچھ حالات پیدا ہوتے ہیں وہ بھی اسی کے مصادیق میں سے ہے ، اس حدیث کے بارے میں اور بھی غور و فکر کریں شاید اس سے  بھی  بہتر  معنی  کر  سکے ۔




ماخذ : منبع : وسایل الشیعه،‌ ج15، ص 169

۱,۶۶۴ قارئين کی تعداد:

قرآن کریم کی تلاوت
تاریخ 16 February 2026 و ٹائم 18:16

وسائل الشیعہ  کتاب جہاد کے دوسرے باب کی ساتویں روایت کا ایک حصہ یہ ہے کہ امیر المومنین علیہ السلام محمد بن حنفيہ کے لئے جو وصیت  کرتا ہے اس میں فرماتا ہے : «عَلَيْكَ بِقِرَاءَةِالْقُرْآنِ وَ الْعَمَلِ بِمَا فِيه»،قرآن کی تلاوت اور اس پر عمل کرنے کی وصیت فرماتا ہے ، دو چیز يں ایسی ہیں کہ  روایات میں ان کے لئے کوئی حد اور حدود مشخص نہیں ہیں  اور اس کے جتنا زیادہ ہو  سکے بجا لانے کی ترغیب ہوئی ہے ، ایک بہت زیادہ نماز پڑھنا ہے اور دوسری چیز قرآن کریم کی تلاوت ہے ،قرآن کریم  کے بارے میں جو روایات نقل ہوئی ہیں وہ واضح طور پر اس معنی پر دلالت کرتی ہیں ،یہاں پر امیر المومنین علیہ السلام محمد بن حنفيہ  سے یہی سفارش فرما رہا ہے ،اب اس حدیث کے ذیل میں اعضاء و جوارح کے کچھ فرائض بیان  ہوئے  ہیں ، اور یہ ممکن ہے کہ ان فرائض کا انجام پانے کا راستہ یہی ہو ،اگر انسان اپنے ہاتھوں ، پاوں ، کان اور ۔۔۔۔ کے فرائض انجام پائے اور واقع بھی ہو جائے اور اسی پر باقی بھی رہے تو اس کا راستہ یہی ہے «عَلَيْكَ بِقِرَاءَةِ الْقُرْآنِ وَالْعَمَلِ بِمَا فِيهِ وَ لُزُومِ فَرَائِضِهِ وَ شَرَائِعِهِ وَ حَلَالِهِ وَ حَرَامِهِ وَ أَمْرِهِ وَ نَهْيِه‏»،قرآن کریم میں امر اور نہی ، حلال اور حرام ، واجبات اور احکام جو بھی بیان ہوئے ہیں انسان اپنے آپ کو ان کے انجام دینے کا پابند قرار دیں «وَ التَّهَجُّدِ بِه»،یہاں پر رات میں قرآن پڑھنے پر تاکید ہوئی ہے ، معلوم ہوتا ہے کہ اگر انسان خاص کر سحر کے نزدیک اگر قرآن کی قرائت کرے تو اس کی اپنی  ایک  خاص اہمیت  ہے ،«وَ تِلَاوَتِهِ فِي لَيْلِكَ وَ نَهَارِكَ»،اس کے بعد فرماتا ہے «فَإِنَّهُ عَهْدٌ مِنَ اللهِ»،وہ تہجد ، شاید پوری رات انسان قرآن کے ساتھ رہے ، اس "لیلک اور نهارک" سے مراد یہ ہے کہ زندگی میں قرآن کے لئے کوئی  ایک  خاص وقت معین نہیں ہے ، صبح ، ظہر ، عصر، رات ، جس وقت پر بھی ہو قرآن کی  تلاوت  کرے «فَإِنَّهُ عَهْدٌ مِنَ اللهِ تَبَارَكَ وَ تَعَالَى»،یہ علت کو بیان کر رہا ہے «إِلَى خَلْقِهِ فَهُوَ وَاجِبٌ عَلَى كُلِّ  مُسْلِمٍ أَنْ يَنْظُرَ كُلَّ يَوْمٍ فِي عَهْدِهِ وَ لَوْ خَمْسِينَ آيَةً»،یہ انسان کا خدا سے تجدید عہد کے لئے ہے ، انسان کا خدا سے بیعت ہے ،انسان  جب  بھی  قرآن پڑھتا ہے خداوند متعال سے ایک جدید بیعت کر لیتا ہے «وَ اعْلَمْ أَنَّ دَرَجَاتِ  الْجَنَّةِ  عَلَى عَدَدِ آيَاتِ الْقُرْآن»، یہ ایک مشہور بات ہے کہ شايد آپ سب کو معلوم ہو گا ، خود بہشت کی حقیقت کو قرآن تشکیل دیتا ہے ، بہشت کے درجات کو خداوند متعال نے قرآن کریم کی آیات کے تعداد کے مطابق بنایا ہے ، اور جنت کی حقیقت اور اس کے درجات  انہیں آیات سے بنتا ہے ،  اس کا معنی یہ نہیں ہے کہ جو بھی قرآن کریم کی ایک آیت کو جانتا ہو اور اسے پڑھ لیں صرف ایک درجہ اوپر جاتا ہو کیونکہ اس  حدیث  میں فرماتا ہے «فَإِذَا كَانَ يَوْمُ الْقِيَامَةِ يُقَالُ لِقَارِئِ الْقُرْآنِ اقْرَأْ وَ ارْق»، قیامت کے دن قرآن کے قاری سے کہا جائے گا: قرآن پڑھتے  ہوئے اوپر درجات پر جاؤ " بلکہ قرآن کریم  کا  بطون بھی جنت کے درجات کے جزء میں سے ہے ، یعنی  جو بھی   قرآن کریم  کے  بطن اور اس کے تفسیر سے نزدیک  اور آشنا ہو اس کےلئے بھی زیادہ سے زیادہ درجات ہوں گے، لہذا یہ بتا سکتے ہیں کہ ایسا نہیں ہے کہ جنت کے درجات صرف ظاہری آیات کے تعداد کے مطابق ہو ، بلکہ  اس میں قرآن کریم  کا  بطون  بھی  شامل ہے ، جو بھی انسان قرآن کریم کی آیات کے  باطن سے جتنا زیادہ آگاہ ہو اتنا ہی زیادہ اس کا درجات ہو گا اور چونکہ آیات کے بطن کا کوئی حد معین نہیں ہے تو یہ خود خداوند تبارک و تعالی سے ملاقات پر ختم ہوگا «فَلَا يَكُونُ فِي الْجَنَّةِبَعْدَ النَّبِيِّينَ وَ الصِّدِّيقِينَ أَرْفَعُ دَرَجَةً مِنْهُ»انبياء اور صدیقین کے بعد سب سے اونچا درجہ اس شخص کا ہے جو قرآن کا قاری ہو ، البتہ اس بات کو میں نے اپنے بعض اساتید سے سنا ہے شايد بعض روایات میں بھی ہو  کہ  ممکن  ہے  کوئی  اس دنیا میں حافظ قرآن ہو، لیکن جب وہ اس دنیا سے چلا جائے قرآن کی ایک آیت بھی اس کے لئے باقی نہ رہے ، یہ  احتمال بھی ہے ، یہ ایک حقیقت ہے ، جو شخص اس دنیا سے قرآن کو اپنے ساتھ  اُس عالم میں لے جا سکے، یہ توفیق اس کےلئے پیدا ہو جائے بہت بڑی توفیق ہے  انشاء  اللہ  خداوند متعالی ہم سب کو نصیب فرمائے.


 



ماخذ : ماخذ: وسائل الشیعه،‌ ج 15، ص 171

۱,۷۰۹ قارئين کی تعداد:

حقوق الہی ادا کرنے کے آثار
تاریخ 16 February 2026 و ٹائم 18:16


ہمارا گفتگو ان روایات کے بارے میں ہیں جنہیں مرحوم صاحب وسائل نے کتاب وسائل کی کتاب جہادمیں ذکر کیا ہے ، جہاد النفس کے ابواب میں سے تیسرے بات میں فرماتا ہے :«بَابُ جُمْلَةٍ مِمَّا يَنْبَغِي الْقِيَامُ بِهِ مِنَ الْحُقُوقِ الْوَاجِبَةِ وَ الْمَنْدُوبَة»،اس باب میں ان روایات کو ذکر کرتے ہیں جن میں  انسان یا غیر انسان کے  واجب حقوق اور مستحب حقوق   بیان ہوئے ہیں ، اس بارے میں پہلی روایت جو ایک معتبر روایت بھی ہے ، کچھ وہ مطالب ہیں کہ امام سجاد علیہ السلام نے رسالہ حقوق میں فرمائے ہیں ، اس کے ظاہر سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ مختلف الفاظ میں نقل ہوئی ہے ، اور کتاب وسائل الشیعہ میں جو نقل ہے وہ اور جو تخف العقول میں نقل ہے ان دونوں میں اختلاف ہے ، یہاں پر امام سجاد علیہ السلام فرماتے ہیں : «حَقُّ اللهِ الْأَكْبَرُ عَلَيْكَ أَنْ تَعْبُدَهُ وَلَا تُشْرِكَ بِهِ شَيْئاً فَإِذَا فَعَلْتَ ذَلِكَ بِإِخْلَاصٍ جَعَلَ لَكَ عَلَى نَفْسِهِ أَنْ يَكْفِيَكَ أَمْرَ الدُّنْيَا وَ الْآخِرَةِ»،اس عبارت سے معلوم ہوتا ہے کہ انسانوں کے ذمے خدای تبارک و تعالی کے کچھ حقوق ہیں ، اور ان میں سے کچھ حقوق بڑے ہیں اور بعض چھوٹے ہیں ، اورخدا کا  سب سے بڑا حق جو انسان کے ذمہ ہے وہ یہ ہے کہ اس کی عبادت کرے اور کسی کو اس کا شریک قرار نہ دے ، شرک  کے انواع واقسام میں سے کوئی بھی شرک، نہ عبادت میں شرک کرے ، نہ ربوبیت میں ،خلاصہ یہ ہے کہ کسی بھی لحاظ سے اپنے اندر شرک کو داخل ہونے  نہ دیں ، عبادات کو انجام دیں لیکن مشرک نہ ہو ، خدا کے لئے کسی شريک کا قائل نہ ہو ،انسان کبھی اپنے خواہشات نفسانی کے پیچھے چلا جاتا ہے تو یہ بھی ایک قسم کی شرک ہے  ،جو شخص اپنے ہوا و ہوس کو اپنا خدا قرارد دیتا ہے یہ بھی شرک ہے ، اگر انسان اپنی خواہشات نفسانی کے پیچھے چلا گیا تو یہ نہ صرف انسان کی گمراہی  کا سبب ہے بلکہ انسان کو بیچارہ کر دیتا ہے ، تو یہ بھی ایک قسم کی شرک ہے ، لیکن انسان اس کی طرف متوجہ نہیں رہتا ہے ، شاید یہ بتایا جا سکے کہ ہر گناہ  اس کے باطن میں شرک ہے لیکن انسان اس کی طرف متوجہ نہیں ہے ، انسان جب اپنی خواہشات کو اپنا خدا قرار دیتا ہے اور کسی گناہ کا مرتکب ہوتا ہے تو یہ یقیناً  شرک کا مرتکب ہوا ہے ، اس کے بعد اس پر کیا نتیجہ مترتب ہوتا ہے اس پر توجہ دیں ! فرماتا ہے: اگر تم نے عبادت کو اخلاص کے ساتھ انجام دیا ،یہ " ذلک" مجموع (یعنی عبادت اور شریک قرار نہ دینا دونوں ) کی طرف اشارہ ہے ، ان دونوں کو اخلاص کے ساتھ اگر انجام دیا تو خدا تمہارے لئے اپنے اوپر ایک حق کا عہددار ہوتا ہے ، اور وہ تمہارے تمام دنیاوی اور اخروی کاموں کی کفالت اور کفایت کرنا ہے ،بہت ہی عجیب نتیجہ ہے کہ انسان کے تمام دنیاوی اور اخروی کاموں کے تدبیر کو خدا  انجام دیں،آپ نے ملاحظہ فرمایا ہے کہ انسان کبھی کہتا ہے مجھے خود معلوم نہیں ہے کہ میں کیسے علم حاصل کرنے میں لگ گیا ، معلوم نہیں کیا ہو ا کہ طلبہ ہوا ، واضح ہے کہ یہ خدا کے ایک خاص عنایت کی وجہ سے ہے اور یہ  انسانوں کے بارے میں خود خدا کا  تدبیر کرنے کی وجوہات میں سے ایک وجہ ہے ، انسان کہتا ہے کہ مجھے معلوم نہیں کہ میں کیوں فلان پارٹی میں نہیں گیا یا فلان افراد کے ساتھ ہم نشین نہیں ہوا ، اگر ان کے ساتھ ہوتا تو ابھی میری حالت بہت خراب ہوتی ،البتہ کبھی انسان اسے اپنے آپ سے نسبت دیتا ہے کہ میری اچھی تدبیر تھی جس کی وجہ سے ان افراد کے ساتھ میری ہمنشینی نہیں ہوئی، لیکن ان تمام مسائل میں حقیقت، خدا کی تدبیر ہے ، اگر انسان عبادت کو خالصانہ خدا کے لئے انجام دیں اور اخلاص کے ساتھ ہی انجام دیں ، عبادت کے ساتھ شرک نہ لائے ، شرک کے اقسام میں سے کوئی بھی قسم نہ ہو، تو خدا بھی اس کا ضامن ہوتا ہے ، اس وقت خدا کے ہاں  ایسے انسان کا حق ہوتا ہے  وہ حق یہ ہے کہ دنیا اور آخرت دونوں میں انسان کے لئے کفایت کرتا ہے ، مالی مسائل میں ، ناموس میں ، عمر میں برکت عطا کرنے میں ، اوقات اور زندگی سے استفادہ اور باقی تمام چیزوں میں، اگر ہم خدا کے دنیا اور آخرت دونوں میں کفایت کرنے کے مصادیق میں سے ایک مصداق کو دیکھنا چاہیں تو ہمارے بڑے بڑے فقہاء ہیں ، شیخ انصاری، آخوند خراسانی، نائينی ، مرحوم اصفہانی، امام خمینی، مرحوم خوئی (رحمۃ اللہ علیہم) یہ سب ایسے افراد ہیں کہ خدا نے ان کے دنیا اور آخرت دونوں کو کفایت کی ہے،کوئی انسان پیدا ہوتا ہے 70 ، 80 سال دنیا میں عمر گزارتا ہے اور جب وہ مر جاتا ہے  اس کے بعد دنیا میں اس کا ہونا یا نہ ہونا برابر ہوتا ہے ، حتی ممکن ہے عالم دین بھی ہو، لیکن اس نے نہ کسی کی ہدایت کی ہو اور نہ وہ لوگوں کے لئے کوئی فائدہ پہنچایا ہو ، اور نہ وہ علم کے لئے مفید ہو اور نہ کسی کی تربیت کی ہو ، افسوس کے ساتھ کہنا پڑھتا ہے کہ ایسے افراد کی کمی نہیں ہیں ! ہم یہاں یہ نہیں بتا سکتے کہ یہ افراد وہ ہیں جن کے لئے خدا نے دنیا اور آخرت کفایت کی ہے ، خداوند متعال جب کسی کے دنیا اور آخرت کو کفایت کرتا ہے تو اس انسان کو اتنا زیادہ توفیق عنایت فرماتا ہے ، خود اس کی ذات کی عبادت کی ، اس کی بندگی کرنے کی ، حقایق سے پردہ ہٹنے میں اور خدا سے نزدیک ہونے میں سب میں توفیق عنایت فرماتا ہے ، ہم کتنے ایسے حقائق سے دور ہیں ؟خدا کی کفایت ایسی ہوتی ہے ، رزق ۔۔۔۔ یہ چیزیں بہت بعد کے درجہ کی بات ہے ، کہ بعض روایات میں ہے کہ طالب علم کے رزق کا خداوند متعال عہدہ دار ہے ، اگر آپ کو اس پر یقین ہے تو ایسا ہی ہے ، اگر کوئي شخص خدا کے لئے علم حاصل کرے تو اس کی رزق و روزی کا عہدہ دار خود خدا ہوجاتا ہے ، اگر ہم اس پر یقین کرے تو واضح طور پر دیکھا بھی جا سکتا ہے ، لیکن یہ بعد والی درجہ کی بات ہے ، لیکن ہم جس چیز کو بیان کرنا چاہتے ہیں اور خدا جس کا کفایت کرتا ہے وہ یہ ہے  جو نفس ہمیں عطا ہوا ہے ،ہم کس قدر اس نفس کی قدرت  اور طاقت کے بارے میں باخبر ہیں ؟ ہمارے نفس  کی اہلیت کے بارے میں ہم ابھی تک کتنا باخبر ہیں ، اور جب اس کی اہلیت کے بارے میں باخبر ہوئے ہیں تو اس سے کتنا استفادہ کیا ہے ؟ جیسا کہ  نفس کے ماہرین بتاتے ہیں ، انسانی نفس کی قدرت اور اہلیت اتنی زیادہ ہے  کہ ہم میں سے بہت سارے اس سے بے خبر ہیں ، لہذا کفایت سے مراد یہ ہے کہ جو چیز خدا نے انسان کے اختیار میں قرار دیا ہے ، انسان اسے انجام تک پہنچا سکے ، خدا کی کفایت صرف یہ نہیں ہے کہ خدا انسان کو بیمار نہ کرے ، یا مثلاً اس کی ناموس کی حفاظت کرے یا صرف عاقبت بخیر ہونا نہیں ہے اگرچہ یہ بھی خدا کی عنایات میں سے ایک ہے ، خدا جس شخص کی کفایت کرے یقیناً وہ عاقبت بخیر بھی ہو جا تا ہے  ، لیکن یہ خدا کی کفایت کا  صرف ایک حصہ ہے ، یعنی علم اور عمل کے لحاظ سے انسان کے اندر جوچيز بالقوہ موجود ہے خدا اسے انجام تک پہنچا دیں ،انسان جس چیز کو سمجھنا چاہتا ہے ، وہ  اگر  سمجھ آ جائے تو یہ اس انسان کو کتنا بلند کراتا ہے ، بغیر کسی شک کے خدا کے فرشتوں کو پیچھے چھوڑ دیتا ہے ، یہ سب «أن یکیفیک أمر الدنیا و الآخرة»  میں ہے ۔امید ہے کہ خدا کے اس بڑے کام کو ہم سب انجام دیں گے اور اس کی رعایت بھی کریں گے ، ہمیں اپنی عبادت کے بارے میں سوچنے کی ضرورت ہے ، جس  شخص کی عمر ابھی 50 سال ہے وہ یہ حساب کر ليں کہ بالغ ہونے سے لے کر ابھی تک اس نے 35 سال نماز پڑھ لی ہے ، ان میں سے کنتی نمازوں کو صحیح پڑھا ہے ؟ کتنی نمازوں کو اخلاص اور حضور قلب کے ساتھ پڑھا ہے ؟ ایک مصمم ارادہ کر لیں کہ ان نمازوں کو دوبارہ بجالائے، بہت ہی اچھا کام ہے ، آپ نے ضرور سنا ہو گا کہ آقای سید احمد خوانساری (قدس سرہ) بہت ہی بڑے انسان تھے ، جب امام خمینی (رضوان اللہ تعالی علیہ) کے حضور میں ان کے بارے میں بات ہوئی تو آپ فرماتا ہے  : مجھ سے کوئی ان کی عدالت کے بارے میں سوال نہ کرے ، بلکہ ان کی عصمت کے بارے میں سوال کریں ،بہت ہی بڑا انسان تھا ، یہ بہت ہی مشہور ہے کہ انہوں نے تین بار اپنی پوری عمر کی نمازوں کی قضا پڑھے تھے، ایک مرجع تقلید، یہ سمجھتے ہیں کہ عبادت میں کیا ہے ؟ ان کو خبر ہے ، ہم ظاہری عبادت کو وظیفہ کے طور پر انجام دیتے ہیں جس سے ہماری ذمہ داری پوری ہوتی ہے ، یہ ایک بہت بڑی بات ہے کہ ایک مرجع تقلید تین بار اپنی پوری عمر کی نمازوں کو پڑھ لیں ، لہذا ہمیں بھی اپنی عبادتوں کے بارے میں توجہ دینے کی ضرورت ہے ، واقعا ًیہ ایک حق ہے ، جب ہم نماز پڑھنا شروع کریں تو یہ سوچیں کہ یہ خدا کا ایک بڑا حق ہے ، اور میں اس حق کو کیسے ادا کروں ؟  فقہی گفتگو میں یہ بات کسی مناسبت سے بیان ہوئی ہے کہ استحطاط مکروہ ہے ، یعنی لین دین ہونے کے بعد جب مال اور اس کی قیمت معین ہو جائے اس کے بعد خریدار جب بھیجنے والے کو پیسہ دینا چاہئے اس وقت بولے کچھ پیسہ کم کر لو  اسے استحطاط کہتے ہیں ! کبھی ہم کہتے ہیں کہ مستحب ہے قیمت کم کرے! ستحطاط مکروہ ہے ، معاملہ میں جو پیسہ معین ہوا ہے اسی کو ادا کرنا چاہئے ، ہماری نمازوں میں استحطاط نہیں ہونی چاہئے کہ ہماری ہر نماز اس سے ما قبل نماز سے کمزور ہو جائے ، یہ صحیح نہیں ہے !جب نماز پڑھنا شروع کرے تو اس بارے میں اچھی طرح توجہ کرنا چاہئے کہ یہ خدا کا ایک بڑا حق ہے ،  جب نماز ختم ہو جائے تو خدا سے درخواست کرے کہ خدایا مجھے معلوم نہیں ہے کہ میں نے اس حق کو ادا کر لیا ہے یا نہیں ؟ آپ مجھے پر لطف فرمائے ، بہر حال خدا سے توفیق کی درخواست کرنی چاہئے کہ اس بڑے حق کو سمجھیں اور اسے صحیح طرح ادا کر سکیں ان شاء اللہ


ماخذ : ماخذ: وسائل الشیعه،‌ ج 15، ص 172

۱,۸۱۳ قارئين کی تعداد: