سوال و جواب
اپنا سوال پوچھیںباتھ روم سے پانی ٹپکنا
تاریخ 16 February 2026 & ٹائم 19:59
اگر ایک ایسے جگہ سے پانی ٹپکے جہاں سے ہمیشہ پانی ٹپکتا ہے ، لیکن اس کے ارد گرد نجس ہوجیسے باتھ روم وغیرہ، وہاں سے پانی ہمارے کپڑے پر ٹپکے ، تو اس کا کیا حکم ہے؟
اگر جس جگہ سے پانی ٹپک رہا ہے اس جگہ کے نجس ہونے کا یقین نہ ہو ، تو جو پانی ٹپکا ہے وہ پاکی کے حکم میں ہے ، لیکن اگر اس جگہ کے نجاست کے بارے میں یقین ہو ، تو جو پانی ٹپک رہا ہے اور وہ کپڑے یا بدن پر لگ جائے تو وہ نجس ہے۔
شراب پینا
تاریخ 16 February 2026 & ٹائم 19:59
کیا شراب پینے سے ، انسان مجنب ہوتا ہے اور اس پر غسل واجب ہے ؟
شراب پینے سے ، انسان مجنب نہیں ہوتا، اور اس پر غسل واجب نہیں ہے ، لیکن شراب نجس اور اس کا پینا حرام ہے ، اگر کوئی انسان شراب پی لے تو اسے چاہئے فورا توبہ کریں، اگر توبہ نہ کرے تو چالیس دن تک اس کی نمازیں قبول نہیں ہے ، لیکن پھر بھی اسے نماز یں پڑھنا چاہئے اور واجب ہے ۔
نماز میں حضور قلب
تاریخ 16 February 2026 & ٹائم 19:59
سوال: کیا کریں کہ نماز میں حضور قلب پیدا کریں؟
جواب:حضور قلب کے چند درجات ہیں ،جس کا خلاصہ یہ ہے کہ نماز میں آپ متوجہ رہیں کہ آپ کس سے مخاطب ہے اور کس سے بات کر رہا ہے ،اور کس کے سامنے مناجات کے لئے کھڑا ہے ، ایک طرف خدا کی عظمت اور بزرگی کو اور دوسری طرف اپنے چھوٹے ہونے اور کامل طور پر نیازمند ہونے اور کمزور ہونے کو درک کریں ، اگر اس حالت کے ساتھ نماز پڑھیں تو ضرور حالت خضوع و خشوع پیدا ہو گا۔
نماز میں خضوع و خشوع نہ ہونا انسان کی غفلت اور اہمیت نماز اور خدا کی عظمت سے بے توجہ ہونے کی وجہ سے ہے ۔
اس حالت کو ختم کرنے کے لئے ان چند چیزوں کی رعایت ضروری ہے :
1۔ خدا وند متعالی کی عظمت پر توجہ دین اور کبھی بھی جلدی جلدی میں نماز نہ پڑھیں اور حالت نماز میں خدا کی یاد میں رہے اور اس بارے میں سوچیں کہ کس کے مقابل میں کھڑا ہے ، اور کس سے بات کر رہا ہے اور خود کو خداوند عالم کے بزرگی اور عظمت کے مقابلہ میں بہت ہی چھوٹا تصور کریں۔
2۔جان لو کہ نماز دین کا ستون ہے اگر یہ قبول ہو جائے تو دوسرے تمام اعمال قبول ہے اور اگریہ قبول نہ ہو جائے تو دوسرے اعمال بھی قبول نہیں ہے ۔
3۔ گناہ سے پرہیز کریں۔
4۔ حرام لقمہ سے اجتناب کریں۔
5۔قرآن اور معتبر دعاوں کو زیادہ سے زیادہ پڑھیں۔
6۔جہاں تک ہو سکے نمازوں کو اول وقت میں مسجد میں جماعت کے ساتھ پڑھیں ،نماز کی مستحبات جیسے صفائی ، عطر لگانا، دھلے ہوئے کپڑے پہننا ،جانماز پچھا کر نماز پڑھنا اور ہر وہ چیز جس نماز کو اہمیت دینے کی نشانی میں سے ہے انہیں انجام دیں ، انشاء اللہ خداوند آپ کو توفیق عنایت فرمائے گا کہ نماز میں حضور قلب پیدا کرے۔
ذکر رکوع و سجدہ
تاریخ 16 February 2026 & ٹائم 19:59
سمہ تعالی
سوال: ہم نے آپ کے رسالہ عملیہ میں بھی پڑھا ہے اور علما سے بھی سنا ہے کہ رکوع وسجود میں سبحان ربی العظیم وبحمدہ،سبحان ربی الاعلی و بحمدہ کا ذکر پڑھنا چاہیے۔
لیکن جو شخص رکوع وسجود میں سبحان رب العظیم وبحمدہ ، سبحان رب الاعلی وبحمد کا ذکر پڑھے تو کیا اس طرح بھی ربی کی جگہ رب پڑھا جاسکتا ہے یا نہیں؟اگر امام جماعت ربی کی جگہ رب پڑھ رہا ہو تو کیا اُس کے پیچھے نماز پڑھ سکتے ہیں۔یا نہیں؟
والسلام
بسمه تعالی
سلام علیکم
اگر کوئي شخص رکوع میں سبحان رب العظیم و بحمده پڑھے یا سجدہ میں سبحان رب الاعلی و بحمده پڑھے یا کوئي اور ذکر جس کی مقدار تین مرتبہ سبحان اللہ کے برابر ہو تو اس کی نماز صحیح ہے اوروہ امام جماعت جو رکوع میں سبحان رب العظیم پڑھتا ہے اگر اس میں امام جماعت کے دوسرے تمام شرائط پایا جاتا ہو جیسے اس کی نماز کی قرائت صحیح ہو اور عادل بھی ہو تو اس کی اقتداء کرنے میں کوئي اشکال نہیں ہے ، لیکن مستحب ہے رکوع میں «سبحان ربی العظیم و بحمده» پڑھے اور سجدہ میں «سبحان ربی الاعلی و بحمده»پڑھا جائے اور کسی کو بتائے بغیر امام جماعت کو بھی اگر یہ بتايا جائے تو بہتر ہے کہ رکوع میں «سبحان ربی العظیم و بحمده» پڑھے
بے نماز انسان کے کفن اور دفن کا حکم
تاریخ 16 February 2026 & ٹائم 19:59
کیا بے نمازی کے ساتھ کھانا کھانا اور اسے غسل و کفن دے کر مسلمانوں کے قبرستان میں دفن کرنا حرام ہے ؟ اور اگر ایسا کرنا حرام نہیں ہے تو درج ذیل حدیثوں کا کیا مطلب ہے ؟
قال صلی الله علیہ وآلہ وسلم :من آکل مع من لایصلی کانّمازنیٰ بسبعین محصنة من ) بناتہ وامہاتہ وعماتہ وخالاتہ فی بیتہ الحرام ۔( ٢ نبی اکرم (صلی الله علیه و آله)فرماتے ہیں :جوشخص بے نمازی کے ساتھ کھاناکھائے ایساہے جیسے اس نے بیت الحرام میں اپنی ٧٠ /پاکدامن لڑکیوں اورماو ںٔ اورپھوپھی،خالہ اورچچی کے ساتھ زناکیاہو۔
قال رسول الله صلی الله علیہ وآلہ:من ترک الصلاة ثلاثة ایام فاذامات لایغسّل ولایکفّن ) ولایُدفنُ فی قبورالمسلمین ۔( ٣
نبی اکرم (صلی الله علیه و آله)فرماتے ہیں:جوشخص تین دن تک عمداً نمازترک کرتاہے اسے غسل وکفن نہ دیاجائے اوراسے مسلمانوں کے قبرستان میں بھی دفن نہ کیاجائے ۔
٣)جامع الاخبار/ص ١٨٧ ) . ٢)لئالی الاخبار/ج ۴/ص ۵١ )
بسمه تعالی
سلام علیکم
اگرچہ نماز کو ترک کرنا حرام ہے اوربڑا گناہ ہے لیکن جو شخص مسلمان ہے لیکن نماز نہیں پڑھتا ہے اس کے ساتھ کھانا کھانے میں کوئی اشکال نہیں ہے اور یہ حرام بھی نہیں ہے۔
اسی طرح اگر کوئی مسلمان جو نماز نہیں پڑھتا ہے وہ مر جائےتو اسے غسل اور کفن دینا واجب ہے اور اسے مسلمانوں کے قبرستان میں دفن کرنے میں کوئی اشکال نہیں ہے، اور کسی مسلمان کو اگرچہ وہ نماز نہیں پڑھتا ہو کفار کے قبرستان میں دفن کرنا حرام ہے۔
یہ دونوں حدیث کسی بھی معتبر کتاب میں موجود نہیں ہے ، اور دوسری حدیث جامع الاخبار میں مرسل طور پر نقل ہوا ہے ، اور ان دو روایات کےمقابلہ میں مسلمان کےغسل اور کفن واجب ہونے کے بارے میں صحیح روایات موجود ہیں ، اس روایت کو نماز کی اہمیت کو بیان کرنےپر حمل کیا جا سکتا ہے ،لیکن اس حدیث پر عمل نہیں ہوا ہے اور بی نماز انسان کے ساتھ کھانا کھانے کے بارے میں جو روایت ہے وہ کراہت پر حمل ہوتا ہے۔