سوال و جواب

اپنا سوال پوچھیں
غنا اور موسیقی کے ساتھ عزاداری کرنا
تاریخ 16 February 2026 & ٹائم 18:13

کیا ایسے نوحہ یا مرثیہ خوان جو بغیر سند یا ضعیف السند مطالب پڑھتے ہیں یا اشعار کو غنا(موسیقی اور سرکے) ساتھ پڑھتا ہو اسے مجالس میں دعوت دینا صحیح ہے ؟

غنا مطلقا حرام ہے چاہئے وہ قرآن کی تلاوت یا آئمہ اطہار (علیہم السلام) کی عزاداری میں ہی کیوں نہ ہو ؟جو افراد گانا گاتے ہیں ان کے پروگرام میں شرکت کرنا حرام ہے ، لہذا ایسے افراد کو نوحہ پڑھنے کے لئے بلایا جائے جو صحیح اور واقعی مطالب کو بیان کرتے ہوں ۔

۲,۱۷۳ قارئين کی تعداد:

کربلا میں حضرت قاسم (ع) کی شادی کا بیان
تاریخ 16 February 2026 & ٹائم 18:13

کربلا میں حضرت قاسم (علیہ السلام) کی شادی کے بارے میں مجالس عزاء اور تعزیہ میں جو مصائب پڑھے جاتے ہیں ، ان کے بارے میں آپ کیا فرماتے ہیں ؟

حضرت قاسم(ع) کی شادی کے بارے میں جو کچھ بیان ہوا ہے یا بیان کرتے ہیں وہ صحیح نہیں ہے ، اور تاریخ کی معتبر کتابوں میں اس بارےمیں کچھ نہیں ملتا ہے ۔دوسری بات یہ ہے کہ حضرت قاسم اس وقت شادی کی عمر میں ہی نہیں پہنچے تھے ، جی ہاں! مرحوم طریحی کتاب " منتخب" میں ان کی شادی سے مناسب کچھ مطالب بیان ہوا ہے ، لیکن واضح ہے ان غلط مطالب کو اس کتاب کے مولف کے مرحوم ہونے کے بعد ، ناداں افراد نے یا دشمنی کی بنیاد پر اس کتاب میں اضافہ کی ہیں ۔
مرحوم طریحی کا مقام  اس سے عظیم ہے  جو  ایسے مطالب کو جس کا  واقعہ عاشورا سے کوئی ربط نہیں  اسے  اپنی کتاب میں لکھ ڈالیں ، بہر حال کتاب طریحی میں جو بیان ہوا ہے وہ بھی ایسا نہیں ہے جیسا کہ تعزیہ داری کے مراسم میں خرافاتی طور پر بیان کیا جاتا ہے  ۔

۳,۷۵۵ قارئين کی تعداد:

زنانہ مجالس عزاداری کی آواز
تاریخ 16 February 2026 & ٹائم 18:13

زنانہ مجالس عزاداری میں خواتین مرثیہ اور نوحہ پڑھتی ہیں اور تقریر کرتی ہیں ، اور ان کی آواز لاوڈاسپیکر یا بغیر لاوڈاسپیکر کے مردوں تک پہنچ جاتی ہے ،کیا ایسا کرنا جائز ہے ؟

اگر ان کی آواز سننا لذت کی خاطر نہ ہو تو حرام نہیں ہے لیکن اس بارے میں بھی متوجہ رہنا چاہئے کہ خداوند متعال قرآن کریم میں فرماتا ہے : «وَإِذَا سَأَلْتُمُوهُنَّ مَتَاعًا فَاسْأَلُوهُنَّ مِن وَرَاء حِجَابٍ ذَلِكُمْ أَطْهَرُ لِقُلُوبِكُمْ وَقُلُوبِهِنَّ» اور جب ازواج پیغمبر سے کسی چیز کا سوال کرو تو پردہ کے پیچھے سے سوال کرو کہ یہ بات تمہارے اور ان کے دونوں کے دلوں کے لئے زیادہ پاکیزہ ہے" لہذا زنانہ مجالس خاص کر کے دینی اور مذہبی جو پروگرام ہوتے ہیں ان میں عفت اور پردہ کامل طور پر رعایت ہونا چاہئے ۔

 

۲,۰۳۷ قارئين کی تعداد:

شادی میں رکاوٹ جادو اور سحر کو ختم کرنا
تاریخ 16 February 2026 & ٹائم 18:13

میں ایک جوان لڑکی ہوں، چند سال پہلے معلوم ہوا کہ گویا ہمارے رشتہ داروں میں سے کسی نے ہمارے گھر والوں اور میرے لئے کوئی دعا پڑھ لی ہے کہ کوئی بھی میرے منگنی کے لئے نہ آئے اور اگر کوئی آبھی جائے اور شادی ہو جائے تو طلاق ہو کر ہم ایک دوسرے سے جدا ہو جائے ۔
اور ابھی تک اسی طرح ہی ہوا ہے کہ کوئی منگنی نہیں ہوئی ہے صرف دور دور سے باتیں ہوتی ہیں اور کوئی بھی اس بارے میں قطعی طور پر بات نہیں کرتے ہیں ، اسی طرح اس دعا کی وجہ سے شاید ہوا ہو ہماری زندگی میں کچھ مشکلات بھی پیدا ہوئے ہیں ۔
میں اپنی ماں اور بہت سارے دوسرے لوگوں کے بر خلاف دعا پڑھنے پر کوئی اعتقاد نہیں رکھتا ہوں ، میرا عقیدہ یہ ہے کہ جب تک خدا کوئی ارادہ نہ کرے کوئی بھی چیز واقع نہیں ہو سکتی ، ان سب کے باوجود آپ کے نظر میں ، میں کیا دعا کو باطل کرنے کے لئے کچھ اقدام کروں یا نہیں ؟

اگرچہ سحر اور جادو کچھ حد تک واقعیت رکھتا ہے لیکن ہر کام کو اور شادی کے اسباب مہیا نہ ہونے کو سحر اور دعا سے نسبت دینا صحیح نہیں ہے ، بلکہ ممکن ہے کچھ دوسرے اسباب جیسے خداوند متعالی کا امتحان اور آزمايش ہو ، یا خود انسان کے بعض رفتار ، کردار اور گفتار کی وجہ سے بھی ہو یا اس میں کچھ اور مصلحت اور حکمت پوشیدہ ہو۔

لیکن اس کے باوجود بھی اگر سحر اور جادو سے ڈرتی ہو تو زیادہ سے زیادہ قرآن کی تلاوت کریں ، خصوصا آیت الکرسی اور چہار قل یعنی :«قل هو الله أحد..»، « قل أعوذ برب الناس..»، « قل أعوذ برب الفلق..» و « قل یا أیها الکافرون » کو پڑھيں اور مفاتیح الجنان میں سحر اور جادو کے باطل  کرنے کےلئے نقل ہیں انہیں پڑھ لیں ۔

اورخدا آپ کے  شادی کے زمینہ فراہم  کرے اور مناسب منگیتر آجائے ، چند جمعہ نماز حضرت زہرا (سلام الله علیها ) کو اسی نیت سے پڑھ لیں اور زیادہ دعا کریں اور قرآن کی زیادہ تلاوت کیا کرے ، ان شاء اللہ شادی کا زمینہ فراہم ہو گا ۔

اسی طرح اس عمل کو بھی بجا لائیں کہ کسی بزرگ نے تعلیم فرمایا ہے ۔

نمازوں ، خصوصا نماز صبح کو اول وقت میں پڑھ لیا کریں ، نماز صبح کے بعد ہاتھوں کو سینہ پر رکھیں اور ستر مرتبہ «يا فتّاح» پڑھ لیں ، اس کے بعد 110 مرتبہ صلوات پڑھيں ، اور جب بھی فکری لحاظ سے مشکل پیش آئے «لا حول و لا قوّة الّا بالله» کو زیادہ پڑھا کریں ، اور اس کو چالیس دن تک انجام دیتے رہیں ، ان شاء آپ کا مشکل حل ہو جائے گا ۔

۶,۲۰۶ قارئين کی تعداد:

نماز کیوں پڑھے؟
تاریخ 16 February 2026 & ٹائم 18:13

ہم کيوں نماز پڑھیں ؟ کیا خدا ہمارے عبادت کے نیازمند ہے ؟

یہ مسئلہ کہ ہم کیوں نماز پڑھیں؟ ، یہ کیا خود ہماری ضرورت ہے ، اور خداوند متعالی کو ہماری اس نماز کی کوئی ضرورت نہیں ہے ، لیکن ہمیں  نماز پڑھنے اور خداوند متعالی کی عبادت کرنے ضرورت  اس وجہ سے ہےتا کہ ہم  کمال کے درجہ پر پہنچ جائے ۔

لہذا خلاصہ کے طور پر ہم یہ بتا سکتے ہیں کہ : ہماری نماز پڑھنے کی چند دلائل ہیں :

الف: نماز پڑھنے کے بارے میں خدا کا حکم ہے ، اس نے حکم دیا ہے اوربندہ پر واجب ہے کہ بغیر کسی اشکال اور اعتراض کے خداوند متعالی کی حکم کا اطاعت کرے ۔

ب: ہر انسان اپنی زندگی میں کسی ایسی ہستی کا محتاج مند ہے جو مشکلات  کے وقت  اس کا پناہ گا ہو ، اور بشر کے لئے سب سے بہترین پناہ گاہ خداوند متعال پر اعتقاد اور اس پر ایمان رکھنا ہے ، لہذا مومن انسان خدا کے ساتھ اپنی زندگی میں ایک خاص قسم کی آرامش کا احساس کرتے ہیں جس سے غیر مومن انسان محروم ہیں ، وہی مہربان خدا جس نے  ہماری پوری زندگی میں بچپنے سے لے کر حتی کہ ماں کے پیٹ سے لے کر ، زندگی کے آخرین لحظات تک بے کراں نعمتوں  سے نوازا ہے ، اس نے ہمیں یہ اجازت دی ہے کہ خود سے بات کرے ، اور یہ بات کرنا اور مناجات ، ہماری ضروریات میں سے ہے ، ورنہ خود وہ تو ہر چیز اور ہر شخص سے بے نیاز ہے ، اور یہ خالق ہستی سے بات کرنا نماز کے وقت ہے ، کہ ہم اس کی ستايش کرتے ہیں اور اس سے یہ درخواست کرتے ہیں کہ ہماری مدد کرے اور صحیح راستہ کی طرف ہماری راہنمائی فرمائے ، اور اس کام کو عقل ہمارے اوپر واجب قرار دیتا ہے کیونکہ  عقل کہتا ہے نعمت دینے والے کا شکر ادا کرنا واجب اور لازم ہے، اسی وجہ سے ہم یہ کام انجام دیتے ہیں ، بہر حال نماز ، انسان کا خدا سے ارتباط کا رمز اور انسان کے کمال تک پہنچنے کا وسیلہ ہے ، اور یہ انسان پر واجب قرار دیا گیا ہے تا کہ اس طریقہ سے انسان زیادہ سے زیادہ کمال  کے درجہ تک  پہنچ جائے ۔

ج: نماز؛ خداوند متعال کا شکر یہ ادا کرنا ہے ، ان مختلف نعمتوں کے مقابلہ میں جو ہمیں عطا ہوئی ہے ، عقلی اور شرعی لحاظ سے ولی نعمت کا شکریہ ادا کرنا واجب ہے ۔

د: خلقت انسان کا ہدف ، آفرینش کے کمال تک پہنچنا ہے ، اور کمال تک پہنچنا اور مقام قرب خداوندی پر فائز ہونا اور عالم آخرت میں خداوند متعالی کے نعمتوں سے مستفید ہونے کا راستہ خدا سے ارتباط کرنا اور خداوند متعالی کی عبادت ہے ، اسی وجہ سے قرآن کریم میں فرمایا ہے کہ «و ما خلقتُ الجنّ و الإنس إلا ليعبدون»؛ اور میں نے جنات اور انسانوں کو صرف اپنی عبادت کے لئے پیدا کیا ہے ۔

خدا سے ارتباط کا سب سے اہم وسیلہ اور سب سے اہم عبادت خداوندی، نماز ہے ، کہ نماز میں انسان مستقیم طور پر خدا سے بات کرتا ہے اور خدا سے گفتگو کرتا ہے ۔

ہ: پانچ وقت کی نماز يں ، گناہوں کا کفارہ ہے جو دو نمازوں کے درمیان انسان سے انجام پاتا ہے ، اگر کوئی قبولی اور صحت کے شرائط کو رعایت کرتے ہوئے پانچ وقت کی نماز ادا کرے اور لوگوں کے حقوق بھی ادا کرے ، خداوند متعال بھی نماز کی وجہ سے اس کے گناہوں کو بخش دیتا ہے ۔

امیر المومنین علیہ السلام  سے نقل ہوا ہے: «قَالَ(ع) سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ(ص) يَقُولُ إِنَّمَا مَنْزِلَةُ الصَّلَوَاتِ الْخَمْسِ لِأُمَّتِي كَنَهْرٍ جَارٍ عَلَى بَابِ أَحَدِكُمْ فَمَا ظَنُّ أَحَدِكُمْ لَوْ كَانَ فِي جَسَدِهِ دَرَنٌ ثُمَّ اغْتَسَلَ فِي ذَلِكَ النَّهْرِ خَمْسَ مَرَّاتٍ فِي الْيَوْمِ أَ كَانَ يَبْقَى فِي جَسَدِهِ دَرَنٌ فَكَذَلِكَ وَ اللَّهِ الصَّلَوَاتُ الْخَمْسُ...»؛

آپ ( ع) نے فرمایا میں نے رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے سنا کہ آپ فرما رہے تھے : میری امت کے لئے پانچ وقت کی نمازیں  پانی کی جاری ایک نہر کی طرح ہے ، جو آپ میں سے کسی ایک کے دروازہ کے پاس ہو ، کیا یہ گمان ہو سکتا ہے کہ اگر بدن  گندھا ہو اور دن میں پانچ مرتبہ اس نہر سے نہا لیں ، کیا اس کے بعد بھی اس کے بدن پر کوئی گندگی رہ جائے گی ؟! (یقینا کچھ گندگی نہیں رہے گی ) اسی طرح ہے خدا کی قسم پانچ وقت کی نمازيں میری امت کے لئے ۔

یعنی پانچ وقت کی نمازیں میری امت کے گناہوں کو ختم کر لیتی ہے ۔

ایک اور روایت میں آیت کریمہ کی تفسیر میں امام صادق علیہ السلام سے نقل ہے کہ آپ (ع )نے فرمایا : «صَلَاةُ الْمُؤْمِنِ بِاللَّيْلِ تَذْهَبُ بِمَا عَمِلَ مِنْ ذَنْبٍ بِالنَّهَارِ»؛ رات کی نمازیں مومن کی دن کی  گناہوں کو ختم کر دیتی ہے ۔

نتیجہ یہ ہےکہ توبہ کے علاوہ ، صحیح وضو کے ساتھ پانچ وقت کی نمازیں بھی ، ان گناہوں کو جو حق الناس سے مربوط نہ ہو ختم کر دیتی ہیں ۔

ان دلائل کی بناء پر ہر انسان پر واجب ہےکہ خداوند متعال نے جو حکم دیا ہے اسی کے مطابق نماز پڑھے ، تا کہ کثافتوں سے نجات ملے اور قرب خداوند کا مقام اور کمال آفرینش الہی کے نزدیک ہو جائے ۔

 

 

۶,۹۳۷ قارئين کی تعداد: